Daily Mashriq


’’صبح کی سیر‘‘

’’صبح کی سیر‘‘

صبح کی سیر کے ساتھ ہمارا تعلق بہت پرانا ہے کتابوں میں پڑھا کھلاڑیوں نے بتایا کہ ورزش صحت کے لیے بہت مفید ہے اور ورزشوں میں سب سے آسان کم خرچ اور بالا نشیں ورزش پیدل چلنا ہے۔ ہم خود بھی پیدل چلنے کی افادیت و اہمیت سے اچھی طرح آگاہ ہیں اکثر دوستوں کو پیدل چلنے کا مشورہ دیتے ہیں ہماری آج تک کسی بھی سواری سے مکمل طور پر محروم ہونے کی وجہ بھی یہی پیدل گردی ہے ! سلامتی ایمان کے بعد اچھی صحت سب سے بڑی نعمت ہے یہ ایک نعمت حاصل ہو تو بندہ خالق کائنات کی عطا کردہ دوسری بے شمار نعمتوں سے لطف اندوز ہوسکتا ہے ہمارے اردگرد موجود بہت سی چیزیں ، لوگ یا کام ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہماری یہ رائے ہوتی ہے کہ ہم ان سے اچھی طرح آگاہ ہیںلیکن معذرت کے ساتھ یہ صرف اور صرف ہماری رائے ہوتی ہے اس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا کبھی کبھی کسی بہت ہی قریبی دوست کا دس بارہ برس بعد پتہ چلتا ہے کہ جیسا ہم سمجھ رہے تھے یہ تو ویسا نہیں تھا وہ اچھا بھی ہوسکتا ہے اور برا بھی لیکن اس کی حقیقت ہم پر بڑی دیر کے بعد کھلتی ہے ! اسی طرح بچپن میں سنی ہوئی کسی غلط بات پر ہمارا سو فی صد یقین ہوتا ہے پھر بہت عرصے بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات تو غلط تھی !ہم صبح کی سیر کو صحت کے لیے مفید تو سمجھتے تھے لیکن اس کی افادیت کا صحیح ادراک ہمیں چند دن پہلے ہواہم نے بہت پہلے انگریزی میں لکھا ہوا walking کے عنوان سے ایک انشائیہ پڑھا تھا جس نے ہمیں بڑا متاثر کیا تھا اس کی باز گشت آج بھی ہمارے ذہن میں گونجتی رہتی ہے۔ایک طویل چہل قدمی کے بعد جب بندہ تھکا ہار ا کسی گائوں کی سرائے کے نرم گرم بستر پر اپنی پسندیدہ کتاب لیے لیٹتا ہے تو اس وقت کے مطالعے کا لطف صاحب ذوق ہی جانتے ہیں ۔ ایک طویل واک کے بعد ذہن ہمیشہ ترو تازہ ہوجاتا ہے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور جی چاہتا ہے کہ بندہ کوئی دماغی کام کرے ۔ ہمیں واک کے حوالے سے یہی کچھ معلوم تھا اور یہی فائدے ہم دوسروں کو بھی بتایا کرتے تھے مگر کل ہمارے بچپن کے دوست ڈاکٹر نیر بشیر جو امریکہ میں ہوتے ہیں اور نیویارک کے ایک بڑے ہسپتال میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دے رہے ہیں ہمیں پیدل چلنے کے فوائد پر کچھ مواد بھجوایا جسے دیکھ کر ہم دنگ رہ گئے اور اپنے آپ کو اس حوالے سے خوش نصیب ہی تصور کیا کہ ہم بے خبری میں کتنا اچھا کام کر رہے ہیں۔ پھر دل میں خیال آیا کہ اتنی اچھی باتیں اپنے پیارے قارئین کے ساتھ بھی شئیر کر لی جائیں تو کیا مضائقہ ہے! کیا آپ نے کبھی یہ بات سنی ہے کہ پیدل چلنا انسان کی بہترین میڈیسن ہے اور اگر واک کے ساتھ ساتھ پوری نیند اور متوازن غذا کا بھی اہتمام کر لیا جائے تو ڈاکٹر سے یقینی طور پر آپ کی جان چھوٹ جائے گی۔ روزانہ پندرہ سے تیس منٹ کی واک سے آپ موٹاپے اور بیماری دونوں سے بچے رہتے ہیںیہ واحد ورزش ہے جس سے نہ صرف آپ کے جسم کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ آپ دماغی طور پر بھی صحت مند رہتے ہیں۔اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ بڑھاپے کی ایک انتہائی تکلیف دہ بیماری Alzheimer (اس بیماری میں انسان اپنی یادداشت کھو دیتا ہے )سے محفوظ رہتے ہیں۔تیس منٹ کی روزانہ باقاعدہ واک آپ کے معدے کے لیے بھی مفید ہے اس سے آپ کے ہاضمے کا نظام درست رہتا ہے اور وہ لکڑ پتھر ہضم قسم کا معدہ بن جاتا ہے ۔ پیدل چلنا موٹاپے کے لیے تو یقینا بہت مفید ہے اس سے آپ کا وزن بھی کم ہوجاتا ہے اور جسم میں موجود فالتو چربی تحلیل ہوتی رہتی ہے ،بڑھاپے میں لوگ جوڑوں کے درد کی وجہ سے بڑی اذیت ناک زندگی گزارتے ہیںلیکن روزانہ واک کرنے والے جوڑوں کے درد سے بھی محفوظ رہتے ہیں اور ان کے پٹھے بھی نہیں اکڑتے !یہ وہ بیماریاں ہیں جن پر لوگ ہر مہینے ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن روزانہ کی واک کو اپنا معمول نہیں بناتے اس قسم کے مریضوں کو ڈاکٹر ز باقاعدہ مشورہ دیتے ہیں کہ میڈیسن کے ساتھ ساتھ اگر روزانہ واک کا اہتمام کر لیا جائے تو بیماری سے جان چھوٹ جاتی ہے ۔ کمر کا درد ایک تکلیف دہ بیماری ہے۔ پیدل چلنے والے کمر کے درد سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔اس بیماری میں مبتلا لوگ کسی بھی قسم کی سخت ورزش نہیں کرسکتے لیکن پیدل چلنا ان کے لیے آسان ہوتا ہے اس سے ریڑھ کی ہڈی میں خون کا بہائو بہتر ہوجاتا ہے ریڑھ کی ہڈی میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ یہ لچک صحت مند ریڑھ کی ہڈی کے لیے بہت ضروری ہے۔آج کے دور کو اگر ڈپریشن کا دور کہا جائے تو شاید غلط نہیں ہوگا جو لوگ واک کو اپنا معمول بنالیتے ہیں وہ دماغی سکون محسوس کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن سے بچے رہتے ہیں ان کی ریڑھ کی ہڈی بھی لچک دار ہوجاتی ہے اور اگر روزانہ کی واک اپنی شریک حیات یا دل کے بہت ہی قریب کسی دوست کی رفاقت میں کی جائے تو اس سے موڈ بھی خوشگوار رہتا ہے اور ایک اچھے دوست کی رفاقت بھی نصیب ہوجاتی ہے ۔

متعلقہ خبریں