Daily Mashriq


کچرے کو سونے میں بدلو

کچرے کو سونے میں بدلو

میں وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی میں متبادل ذرائع توانائی کا ایک ادنی طالب علم ہوں۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد ملک میں متبادل ذرائع توانائی جس میں شمسی توانائی، پانی سے بجلی بنانے، بائیو گیس، ہوا سے چلنے والی چکیاں اور اس سے بجلی بنانے جیسے متبادل ذرائع توانائی کو فروغ دینا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس ادارے نے اب تک ملک کے طول وعرض میںگزشتہ 10 سالوں کے دوران 5000 بائیوگیس پلانٹ 20 مکعب فٹ سے لیکر 200مکعب فٹ تک 70کمرشل بائیو گیس پلانٹ، ملک کے شمالی علاقہ جات میں9میگاواٹ کے 540چھوٹے پن بجلی گھر قائم کئے ہیں جو انتہائی کامیابی کیساتھ دور دراز علاقے کے لوگوں کو بجلی مہیا کر رہے ہیں۔ اس قسم کے مزید 45چھوٹے پن بجلی گھر زیر تعمیر ہیں۔ مختلف انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے بی ایس سی اور ایم ایس انجینئرنگ کے طالب علموں کو میرے ذمے لگا گیا تھا کہ ان طالب علموں کو متبادل ذرائع توانائی جس میں بائیو گیس، مائیکرو ہائیڈل پاور پلانٹ، ونڈ انرجی اور سولر انرجی شامل ہے ان کو ان ٹیکنالوجیز اور اس سے متعلق تمام پہلوؤں کی عملی تربیت دی جائے۔ میری بھی پوری پوری کوشش ہوتی ہے کہ وطن عزیز کے ان ہونہار طالب علموں کو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ معلومات اور عملی تربیت دی جائے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ تمام طالب علم انتہائی ذہین ہیں اور ان کی ذہانت اور فطانت سے اس وقت انتہائی اور بھرپور استفادہ کیا جاسکتا ہے جب ان کی مناسب اور پیشہ ورانہ طریقے سے راہنمائی کی جاسکے۔ میری یہ بھرپور کوشش ہے کہ بی ایس سی اور ایم ایس سی انجینئرنگ کے طالب علموں کی انتہائی ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ طریقے سے راہنمائی کی جائے۔ بہرحال خادم کی ان کوششوں، کاوشوں اور محنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب یہ طالب علم متبادل ذرائع توانائی سے متعلق تمام ایشوز سے اچھے طریقے سے باخبر اور آگاہ ہیں اور وہ اب متبادل ذرائع توانائی سے متعلق کسی مسئلے کا حل باآسانی نکال سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہم بائیو ماس یعنی کچرے، گھاس پوس، سبزی اور پھلوں کے چھلکوں سے متعلق توانائی اور بجلی پیدا کرنے کا ذکر کر رہے تھے۔ گجرانوالہ، فیصل آباد، کراچی، حیدر آباد، پشاور، بنوں، کوئٹہ اور سبی کی میونسپل کارپوریشنوں سے قومی ادارے پاکستان انوائرومینٹل پروٹیکشن ایجنسی، جیکا اور یو این ڈی پی نے جو اعداد وشمار اکٹھے کئے اس سے آسانی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وطن عزیز کا ہر فرد روزانہ 0.456گرام کچرا پیدا کرتا ہے۔ اس طرح کل کچرے میں 36فیصد یعنی کل کچرے کا 29549ٹن روزانہ ایسا ہوتا ہے جس سے بہترین قسم کی توانائی اور بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور ساتھ ساتھ جو کچرا ہمارے گھروں، باہر ندی نالوں، گلی کوچوں میں پڑا ہوتا ہے اس کو بھی ممکنہ حد تک کم کر کے کئی مختلف قسم کی خطرناک بیماریوں کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔ میں نے بھارت اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کے تقریباً 4 تحقیقی مقالے اور ریسرچ پیپرز پڑھے اور ان تحقیقی مقالوں اور ریسرچ پیپرز پر میری اور ان طالب علموں کی لمبی گفت وشنید ہوئی اور اس اہم اور فکر انگیز گفتگو سے ہمیں اندازہ ہوا کہ وطن عزیز میں کچن ویسٹ جس میں کچن سبزی، ترکاریوں کے چھلکے، ہڈیاں وغیرہ شامل ہیں اس 30 ہزار ٹن گند پر 50 لاکھ 5 مکعب فٹ بائیو گیس پلانٹ لگا کر 50 لاکھ خاندانوں اور 3کروڑ لوگوں کو 2.5 کروڑ کیوبک میٹر گیس دی جاسکتی ہے۔ اگر ہم ان 50 لاکھ بائیو گیس پلانٹوں کی مٹی کے تیل کے حساب سے قیمت نکالیں تو ان بائیو گیس پلانٹوں سے سالانہ 612 ارب روپے، ایل پی جی کے حساب سے 652 ارب روپے اور لکڑیوں کے حساب سے 726 ارب روپے سالانہ بنتے ہیں۔ علاوہ ازیں ان بائیو گیس پلانٹوںسے ہم سالانہ ڈھائی لاکھ ایکڑ جنگلات کی کٹائی روکنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان 50 لاکھ بائیو گیس پلانٹوں سے ہم 8کروڑ کلوگرام کاربن کی مقدار میں بھی کمی کر کے مختلف بین الاقوامی ایجنسیوں سے 30ڈالر فی ٹن کے حساب سے 54کروڑ روپے کاربن کم کرنے کا سالانہ ٹیکس بھی لے سکتے ہیں۔ اب جبکہ ایک دفعہ دوبارہ وطن عزیز میں بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے اگر ہم کچرے اور میونسپل ویسٹ پر مندرجہ بالا بائیو گیس پلانٹس لگائیں تو اس سے نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کر نے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ اس سے ہمارے ملک میں وہ کچرا جس سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیلتی ہیں اس میں بھی کمی آئے گی۔ واقعی کسی نے صحیح کہا ہے کہ کچرا سونا ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے ایک تحقیقی ادارے میں کچرے اور گند سے گیس بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے اور وہ اپنے یونیورسٹی کے ہوسٹل کی گیس کی ضروریات باورچی خانے کے ویسٹ یعنی کچن کے کوڑے کرکٹ سے پورا کر رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 6کلو گرام کچن ویسٹ سے 125 کلو گرام گوبر کے برابر بائیو گیس بنائی جا سکتی ہے۔ لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں انفرادی طور پر، ہماری حکومت اور غیر سرکاری اداروں کو کچن ویسٹ سے توانائی اور گیس پیدا کرنے پر بھرپور توجہ دینی چاہئے تاکہ ملک میں توانائی کی ضرورتیں پوری ہوں اور دوسری طرف وہ گند جو ہمارے گھروں، محلوں اور کوچوں میں پڑا ہوا ہے اور جس سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں ان کا سدباب اور تدارک کیا جائے۔

متعلقہ خبریں