Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمیر بن سلمہ دولیؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ دو پہر کو ایک درخت کے سائے میں سو رہے تھے۔ ایک دیہاتی عورت مدینہ آئی اور لوگوں کو بڑے غور سے دیکھتی رہی (کہ ان میں سے کون میرا کام کرا سکتا ہے)۔ اور دیکھتے دیکھتے وہ حضرت عمرؓ تک پہنچ گئی( انہیں دیکھ کر اسے یہ اطمینان ہوا کہ یہ آدمی میرا کام کرادے گا۔) اس نے حضرت عمرؓ سے کہا میں ایک مسکین عورت ہوں اور میرے بہت سے بچے ہیں اور امیر المومنین حضرت عمرؓ بن خطاب نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو (ہمارے علاقہ میں) صدقات وصول کرنے بھیجا تھا( وہ صدقات وصول کرکے واپس آگئے) اور انہوں نے ہمیں کچھ نہیں دیا۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے‘ آپ ہماری ان سے سفارش کردیں۔

حضرت عمرؓ نے (اپنے دربان) یرفا کو پکار کر کہا‘ حضرت محمد بن مسلمہؓ کو بلاکر میرے پاس لائو۔

چنانچہ حضرت محمد بن مسلمہ آئے اور انہوں نے کہا السلام علیکم یا امیر المومنین! اب اس عورت کو پتہ چلا کہ یہ امیر المومنین ہیں تو وہ بہت شرمندہ ہوئی۔ حضرت عمرؓ نے حضرت محمد بن مسلمہ سے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تو تم میں سے بہترین آدمی منتخب کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ جب اللہ تعالیٰ تم سے اس عورت کے بارے میں پوچھیں گے تو کیا کہو گے؟یہ سن کر حضرت محمد بن مسلمہؓ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریمؐ کو ہمارے پاس بھیجا۔ ہم نے ان کی تصدیق کی اور ان کا اتباع کیا۔ اللہ تعالیٰ حضورؐ کو جو حکم دیتے حضورؐ اس پر عمل کرتے۔ حضورؐ صدقات (وصول کرکے) اس کے حقدار مساکین کو دیاکرتے اور حضورؐ کا معمول یونہی چلتا رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے پاس بلالیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکرؓ کو حضورؐ کا خلیفہ بنایا تو وہ بھی حضورؐ کے طریقہ پر ہی عمل کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اپنے پاس بلا لیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کا خلیفہ بنا دیا اور میں نے تم میں سے بہترین آدمی منتخب کرنے میں کبھی کمی نہیں کی۔ اب اگر میں تمہیں بھیجوں تو اس عورت کو اس سال کا اور گزشتہ سال کا اس کا حصہ( صدقات میں سے) دے دینا اور مجھے معلوم نہیں شاید اب میں تمہیں ( صدقات وصول کرنے) نہ بھیجوں۔ پھر حضرت عمرؓ نے اس عورت کے لئے ایک اونٹ منگوایا اور اس عورت کو آٹا اور تیل دیا اور فرمایا یہ لے لو۔ پھر ہمارے پاس خیبر آجانا کیونکہ اب ہمارا خیبر جانے کا ارادہ ہے۔چنانچہ وہ عورت خیبر حضرت عمرؓ کے پاس آئی اور حضرت عمرؓ نے دو اونٹ اور منگوائے اور اس عورت سے کہا یہ لے لو۔ حضرت محمد بن مسلمہ کے تمہارے ہاں آنے تک یہ تمہارے لئے کافی ہو جائیں گے اور میں نے حضرت محمد بن مسلمہ کو حکم دیا ہے کہ وہ تمہیں تمہارا اس سال کا اور گزشتہ سال کا حصہ دے دیں۔حکمران ہو توایسا جس کو اپنے عوام کی اتنی فکر ہو۔

متعلقہ خبریں