Daily Mashriq

افغان معاملات سے مکمل لاتعلقی مسئلے کا حل نہیں

افغان معاملات سے مکمل لاتعلقی مسئلے کا حل نہیں

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کے اندرونی معاملات میں فریق نہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان سے متعلق اہم پالیسی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغان تنازع سے40سال میں افغانستان اور پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچا، اب طویل انتظار کے بعد افغان عمل کے ذریعے ریجن میں قیام امن کا تاریخی موقع ملا ہے اور پاکستان خطے میں امن کیلئے افغان امن عمل بشمول اگلا انٹرا افغان ڈا ئیلاگ جس میں وہ خود ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں گے کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔ وزیراعظم عمران خان تسلسل کیساتھ ایسے موضوعات اور معاملات پر آزادانہ اور پہلی حکومتوں کی پالیسی کے برعکس جو بیانات دے رہے ہیں گزشتہ حکومتوں میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ قبل ازیں کی حکومتیں بند کمروں میں کسی اجلاس میں اگر مروجہ پالیسی کے حوالے سے نرمی اور تبدیلی کا محض مشورہ دیتے تو ناگواری کے واضح تیور دکھائی دیتے اور اختلافات کا آغاز ہوتا۔ جن پالیسیوں پر اظہارخیال مشکل تھا آج مختلف قومی وبین الاقوامی فورمز پر وزیراعظم کے واضح بیانات اور ماضی کی پالیسی کو غلط اور ملکی مفاد کیخلاف قرار دینا ملکی پالیسی میں ٹھوس تبدیلی کی نشانی ہے جو باہم مشاورت اور حکمت کیساتھ ہی طے ہوئی ہوں گی۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے کافی سے زیادہ مسائل میں خود ملکی پالیسیوں کا عمل دخل تھا اور ملکی پالیسیوں کے باعث ہی ملک کو مختلف عالمی ومعاشی فورمز پر تنقید اور سخت مشکلات کا سامنا ہوتا۔ پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کی ہم سے شکایات کی بڑی وجہ وہ پالیسیاں تھیں جن کو اب وزیراعظم عمران خان ماضی کا حصہ بنانے میں سنجیدہ نظر آتے ہیں جو دنیا کو ایک واضح پیغام کے مترادف ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے ایک دوسرے کے پڑوسی ملک ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے سخت اختلافات رہے ہیں اور اس سے پہنچنے والے نقصانات کا خود وزیراعظم نے اعتراف بھی کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان کے تنازعات نے افغانستان اور پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا، طویل انتظار کے بعد افغان امن عمل اور خطے میں امن کا تاریخی موقع ہے، پاکستان مکمل طور پر افغانستان کے اندرونی مذاکرات اور بات چیت کے اگلے منطقی مرحلے کی حمایت کرے گا۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان اب افغانستان میں کسی بھی اندرونی تنازع کا حصہ نہیں ہوگا، افغان قیادت خود اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی، پاکستان زبردستی مذاکرات میں افغان مسئلے کا حل تلاش کرنے کے حق میں نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تمام جماعتوں کو اس لمحے کی اہمیت تسلیم کرنے پر زور دیتا ہے، پاکستان نے امن عمل کی کامیابی کیلئے تمام سیکورٹی اور سفارتی کوششیں کی ہیں۔ افغانستان میںتشددکے واقعات میں اضافے پر پاکستان اضطراب میں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کچھ دن قبل افغانستان کو محض مشورہ دیا تھا تو اس پر سفارتی سطح پر بہت لے دے ہوئی اور اسے دخل درمعقولات قرار دیا گیا جس کے بعد وزیراعظم اب اس پالیسی کا عندیہ ہی دے سکتے ہیں جو پاکستان نے اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے واضح طور پر عندیہ دیا ہے کہ ماضی کے برعکس اب پاکستان افغان تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔ اس پالیسی بیان کے دوپہلو ہیں ایک یہ کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا لیکن دوم یہ کہ پاکستان افغان تنازعہ سے اب لاتعلقی اختیار کرے گا۔ جہاں تک اول الذکر مفہوم کا تعلق ہے ماضی میں اگرچہ اس کا الزام پاکستان پر لگتا رہا ہے جس کی واضح تردید ہوتی رہی ہے، اگر وزیراعظم کے بیان کا موخرالذکر مفہوم لیا جائے تو یہ افغانستان کیلئے ایک چیلنج سے کم نہ ہوگا۔ اس لئے کہ افغانستان اس قابل نہیں کہ وہ پاکستان‘ امریکہ‘ روس‘ چین یہاں تک کہ ایران اور بھارت کی کسی نہ کسی سطح کی مفاہمت، اتفاق رائے اور مساعی کے بغیر افغانستان کا پیچیدہ مسئلہ حل کرے۔ افغانستان کو نہ چاہتے ہوئے بھی خطے کے ممالک پر انحصار کرنا ہوگا۔ اگر افغان حکومت‘ طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، مفاہمت اور معاملت کے امکانات اور مساعی کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان اور امریکہ کا بالخصوص اور باقی ممالک کا بالعموم خاصا فعال کردار رہا ہے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات بھی پاکستان کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس امر کے اعادے کی قطعاً ضرورت نہیں کہ افغان مسئلے کا واحد حل کابل اور طالبان کے درمیان مفاہمت اور معاملت ہے۔ اس کیساتھ ساتھ امریکہ کا افغانستان سے اخراج اس وقت ہی ممکن ہے جب طالبان اور امریکہ کے درمیان معاملات طے پاجائیں۔ اس عمل کی انجام دہی پاکستان کے تعاون اور کردار کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ بہتر ہوگا کہ افغانستان اپنے بیانات اور شکایات کے باعث پاکستان کو اپنے ان داخلی معاملات جن کے حل میں ان کو پاکستان کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے سے علیحدہ نہ کرے اور ایسے بیانات سے گریز کرے جس کے باعث پاکستان ازخود لاتعلق ہونے کو ترجیح دینے پر مجبور ہو۔

متعلقہ خبریں