Daily Mashriq

طورخم سرحد ہر وقت کھلا رکھنے کے انتظامات یقینی بنائے جائیں

طورخم سرحد ہر وقت کھلا رکھنے کے انتظامات یقینی بنائے جائیں

خیبر پختونخوا حکومت نے افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کیساتھ تجارت بڑھانے اور افغان شہریوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے طورخم بارڈر پر 24گھنٹے آپریشن بحال رکھنے کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے تین منصوبوں کی صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے تو منظوری دیدی ہے لیکن تینوں منصوبوں میں رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام کا حصہ نہ ہونے کے باعث پیشرفت ممکن نہیں۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے طورخم بارڈر پر 24گھنٹے آپریشن جاری رکھنے کی ہدایات جاری کی تھیں تاکہ افغانستان سمیت وسطی ایشیائی ممالک کیساتھ تجارت کو بڑھایا جا سکے جبکہ بارڈر کھلا رکھنے سے دونوں جانب کے شہریوںکو بھی سہولیات میسر ہوں گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کے اعلان پر فوری عملدرآمد کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس کیلئے ضروری انتظامات پر توجہ دی جاتی اور مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کی جاتی۔ طورخم پر پاک افغان سرحد کو 24گھنٹے کھلا رکھنے کیلئے کئی اہم وفاقی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی معاونت درکار ہے جب تک تمام ادارے اس ضمن میں اپنی اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی یقینی نہیں بناتے وزیراعظم کے اعلان اور احکامات پر عملدرآمد ممکن نہیں۔ بہتر ہوگا کہ طورخم پر پاک افغان سرحد ہر وقت کھلا رکھنے کے انتظامات جلد ازجلد کئے جائیں۔ علاوہ ازیں ویزا کی مشکلات اور سفری شرائط میں بھی نرمی کی جائے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام کو آسانی ہو۔

گھٹنے ٹیکنے کی روایت کا اعادہ

خیبر پختونخوا کے ہسپتالوں میں احتجاج کے باعث ڈومیسائل کی بنیاد پر مزید ڈاکٹروں کے تبادلے فی الفور روک دیئے گئے ہیں، اس سے قبل ریشنلائزیشن پالیسی اور ڈومیسائل کی بنیاد پر پچیس میڈیکل آفیسرز کے تبادلے کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، واضح رہے کہ خیبر پختونخوا ڈاکٹرز کونسل کی کال پر ہسپتالوں کی مجوزہ نجکاری، ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز اور ریجنل ہیلتھ اتھارٹیز کے قیام، ڈومیسائل کی بنیاد پر ڈاکٹروں کے تبادلے، ہسپتالوں کیلئے سیکورٹی اور ایم او ایکٹ کی منظوری وغیرہ کیخلاف ڈی ایچ کیوز، ٹی ایچ کیوز اور آر ایچ سیز میں قلم چھوڑ ہڑتال بھی ہوئی جبکہ اس سے قبل ڈاکٹر تنظیموں نے بڑے ہسپتالوں کی او پی ڈی سے بھی بائیکاٹ کیا۔ سیاسی اور جمہوری حکومتوں کی یہی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ جلد دباؤ میں آکر ایسے فیصلوں اور قوانین پر عملدرآمد سے ہاتھ کھینچ لیتی ہے جن پر عملدرآمد عوامی مفاد میں ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت ایک اچھا فیصلہ کرکے اس پر عملدرآمد شروع کر چکی تھی لیکن اب اچانک ڈومیسائل کی بنیاد پر ڈاکٹروں کا ان کے اضلاع میں تبادلہ روک دیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ صحت کو اس قدر جلدی گھٹنے نہیں ٹیکنا چاہئے تھے بلکہ مذاکرات کے ذریعے اس کا کوئی درمیانی راستہ نکال لیا جاتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جن جن اضلاع کے ناپسندیدہ ہونے کی بناء پر وہاں ڈاکٹروں اور اساتذہ کے عہدے خالی رہتے ہیں ان اضلاع کے ڈاکٹروں اور اساتذہ کا ایک مرتبہ پھر ان اضلاع میں تبادلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کئی افراد کے تبادلے اور اعلانیہ اقدام پر حکومت کو مسائل کا سامنا ہے تو پھر سلسلہ موقوف کر کے یکے بعد دیگرے تبادلے کئے جائیں اور آئندہ سے تقرر ناموں میں متعلقہ اضلاع میں خدمات انجام دینے کی تحریری یقین دہانی لی جائے اور عدم عملدرآمد پر قانونی طور پر ملازمت سے برطرفی کی شرط شامل کی جائے۔ جب تک حکومت کی طرف سے سختی کا مظاہرہ نہیں ہوگا اس وقت تک سکول اور ہسپتال خالی رہیں گے اور لوگوں کی مشکلات کا ازالہ ممکن نہ ہوگا۔

حیوانات کے علاج معالجہ کی سہولتیں بھی دی جائیں

خیبر پختونخوا حکومت نے غربت کی شرح میں کمی لانے کیلئے دیہات میں ’’مرغا مرغی‘‘ پیکج کے تحت 50کروڑ 40لاکھ روپے فنڈز کی منظوری دیدی ہے۔ مذکورہ سکیم کے ذریعے دیہات میں خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے ایک مرغا اور ایک مرغی دی جائے گی جس سے خواتین گھریلو سطح پر کاروبار شروع کر سکیں گی، دستاویزات کے مطابق وزیراعظم کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت صوبے میں بچھڑوں کی افزائش نسل بڑھانے اور بچانے کے دو مختلف منصوبوں پر 2ارب 37کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ دیہات میں خواتین کو مقامی طور پر پولٹری فارم اور مویشی فارم کے قیام کی طرف راغب کرنے کیلئے جو محدود امداد دی جارہی ہے یہ کافی تو نہیں لیکن یہ ایک بہتر قدم ضرور ہے جس سے خواتین میں خودروزگاری کا احساس پیدا ہوگا۔ اس سکیم کی کامیابی کیلئے حقدار افراد میں سیاسی وابستگیوں اور اقرباء پروری سے بالاتر ہوکر تقسیم یقینی بنایا جائے۔ مرغیوں اور گائے کے بچھڑوں کی فراہمی کیساتھ جانوروں کی صحت کا خیال رکھنے اور ان کے علاج معالجہ کی سہولتوں کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے بغیر یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکتی۔

متعلقہ خبریں