Daily Mashriq

جا تجھ کو سکھی سنسار ملے

جا تجھ کو سکھی سنسار ملے

شادی خانہ آبادی ہم سب کی زندگی کا اٹوٹ انگ ہے۔ بچپن، لڑکپن، نوجوانی، بھرپور جوانی اور پھر شادی! شادی کے حوالے سے مقامی مفکرین نے بہت سے اقوال زریں ایجاد کر رکھے ہیں، کہتے ہیں! جس نے شادی کی وہ بھی پچھتایا اور جس نے نہیں کی وہ بھی پچھتایا! اب یہ مکمل طور پر آپ کی اپنی صوابدید پر منحصر ہے کہ آپ شادی کرکے پچھتانا چاہتے ہیں یا شادی نہ کرکے! ویسے ہمارا ذاتی خیال تو یہی ہے کہ جب ہر دوصورتوں میں پچھتانا ہی ہے تو بندہ شادی کرکے کیوں نہ پچھتائے !حضرت انسان کی مختصر سی زندگی میں شادی یقینا ایک بہت بڑا واقعہ ہے ایک بہت بڑی تبدیلی ہے آج کی تیزی سے بدلتی ہوئی زندگی میں جہاں اور بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں وہاں شادی خانہ آبادی بھی ان تبدیلیوں سے اپنا دامن بچانے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔ ہمارے زمانے کی شادی خانہ آبادی اور آج کل کی شادیوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے ہمارے زمانے میں لوگوں کے پاس وقت ہی وقت ہوتا تھا، شادی سے دو ہفتے پہلے شادی والے گھر میں محفل سج جایا کرتی تھی، دولہا کے دوست رشتہ دار آتے گپ شپ لگتی، لطیفہ گوئی ہوتی! آج جسے دیکھئے سرپٹ بھاگ رہا ہے، وقت کی کمی کا رونا رویا جا رہا ہے۔ اس بھاگم دوڑ میں ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں، محبتوں سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ پشاور میں جگہ جگہ قائم شادی ہالوں کی رونقیں عروج پر ہیں، شادی والا گھر دیکھے بغیر آپ تھوڑی دیر میں ولیمے میں شرکت کرکے فارغ ہو جاتے ہیں! شادی ہم سب کی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ ہوتا ہے، آپ اسے وقوعہ بھی کہہ سکتے ہیں، شادی خانہ آبادی کی تیاریاں جب مکمل ہوجاتی ہیں تو شادی والے گھر میں سب سے پہلے ڈھولک رکھی جاتی ہے، ڈھولک کی تھاپ کیساتھ ہی بہت سے گھروں میں چہل پہل شروع ہوجاتی ہے۔ ہمارے یہاں صرف مہندی کی رسومات دیکھیں تو دل خوش ہو جاتا ہے، مہندی کی تقریب میں لڑکے کو جس سجی سجائی کرسی پر بٹھایا جاتا ہے اسے اگر کوئی شہزادہ بھی دیکھ لے تو اس پر بیٹھنے کی خواہش میں دیوانہ ہوجائے! لڑکے کو مہند ی لگانے کا عمل کتنا خوش کن ہوتا ہے، ایک ایک دوست کو باری باری اس کے پاس لایا جاتا ہے، مٹھائی سے بھرا ہوا تھال ساتھ ہی پڑا ہوتا ہے، دولہا بھائی کے منہ میں مٹھائی ڈالی جاتی ہے، کلائی پر رومال باندھا جاتا ہے، پنجاب میں مہندی کی رسم کچھ یوں ہوتی ہے کہ دولہا دلہن کو ساتھ ساتھ بٹھایا جاتا ہے، مہمان باری باری آتے ہیں، دولہا دلہن کے منہ میں مٹھائی کا دانہ ڈالتے ہیں، مہندی لگاتے ہیں اور تھال میں پیسے رکھے جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں مہندی کی رسم کو ذرا مختلف انداز سے منایا جاتا ہے جب دولہا کو مہندی لگانے کیلئے اس کے دوست لا رہے ہوتے ہیں تو اس کے بیٹھنے کی جگہ پر دلہن کی سہیلیاں براجمان ہوجاتی ہیں، اب دولہا کے دوست انہیں اٹھنے کا کہتے ہیں لیکن وہ دولہا بھائی سے پیسوں کا تقاضا کرتی ہیں، انہیں وہاں سے اُٹھانے میں اچھی خاصی دھینگا مشتی ہوجاتی ہے لیکن وہ اچھی خاصی رقم لیکر ہی وہاں سے اُٹھتی ہیں! پشاور میں مہندی لگانے سے پہلے دودھ پلائی کی رسم بھی ہوتی ہے، اس میں خواتین وحضرات کو سب سے پہلے دودھ پلایا جاتا ہے جس میں چوہارے پڑے ہوتے ہیں، انہیں مٹھائی کھلائی جاتی ہے، خواتین پر شالیں ڈالی جاتی ہیں، پھر بعد میں مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ دولہا بھائی کو مہندی لگانے کا خوشگوار فریضہ سالی صاحبہ سرانجام دیتی ہے۔ مہندی لگانے کے بعد دولہا بھائی سے اچھی خاصی معقول رقم کا تقاضا کیا جاتا ہے، اب یہ سالی صاحبہ کی اپنی قسمت ہوتی ہے کہ وہ اس مظلوم سے کتنی رقم ہتھیا لینے میں کامیاب ہوتی ہے، بہت سے سمجھدار اور باحیثیت دولہا بھائی تو سونے کی انگوٹھی وغیرہ دیکر بحث مباحثے میں اُلجھنے سے بچ جاتے ہیں! شادی کا ہیرو یقینا دولہا بھائی ہی ہوتا ہے جسے اپنی ہیروئن کو پانے کیلئے اتنے سارے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں! آج کل تو دلہن کو بیوٹی پارلر سے میک اپ کروا کر شادی ہال پہنچا دیا جاتا ہے اور پھر وہیں سے اس کی رخصتی ہوجاتی ہے، بابل کے گھر والا تصور اب ناپید ہوتا چلا جارہا ہے۔ پہلے لڑکی رخصتی سے پہلے اپنے گھر کے در ودیوار کو بڑی حسرت کیساتھ دیکھتی اور بلک بلک کر روتی تھی پس منظر میں یہ گانا بج رہا ہوتا تھا: بابل کی دعائیں لیتی جا۔ جا تجھ کو سکھی سنسار ملے! لڑکی رو رو کر ہلکان ہوجاتی، اب بیوٹی پارلر سے یہ حکم ملتا ہے کہ بی بی اگر رونا دھونا کیا تو سارا میک اپ آنسوؤں سے دھل جائے گا، ہماری محنت اور آپ کا پیسہ دونوں ضائع ہوجائیں گے، ہاں تم رونے کی اداکاری کرسکتی ہو، اب لڑکی یہی کچھ کرتی ہے، اس کو اب رونا اسلئے بھی نہیں آتا کہ وہ اپنے جیون ساتھی کیساتھ منگنی کے بعد موبائل فون پر مسلسل رابطے میں رہتی ہے، پہلے دلہن کا گھونگھٹ دولہا اٹھایا کرتا تھا اب دولہا سے پہلے مووی بنانے والا دلہن کا دیدار کر لیتا ہے، وہ اسے گھونگھٹ ڈالنے ہی نہیں دیتا کیونکہ اسے دلہن کو مختلف زاویوں سے دکھانا ہوتا ہے، دلہن بیچاری کو مووی کے تقاضے نباہنے کیلئے مختلف پوز بنانے پڑتے ہیں۔ پہلے پردہ دار لڑکی کے چہرے کی معصومیت لڑکے کو لے ڈوبتی تھی یہ اس زمانے کی بات ہے جب ہلکے پھلکے پاؤڈر اور تبت کریم تک میک اپ محدود تھا۔ آج کل تو بیوٹی پارلر میں دلہن کے چہرے پر میک اپ کی اتنی تہیں چڑھائی جاتی ہیں کہ بیچارے دولہا کیلئے دلہن کے اصل چہرے تک رسائی حاصل کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ بہت سے دولہا تو اپنی دلہن کو پہچان ہی نہیں پاتے! لیکن اب اس کا کیا علاج! ہمیں ان تبدیلیوں کیساتھ ہی زندگی گزارنی پڑتی ہے!

متعلقہ خبریں