Daily Mashriq

نصاب سازی، احتیاط ضروری ہے!

نصاب سازی، احتیاط ضروری ہے!

میری خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ اپنے کالم میں اُن موضوعات پر اپنی حقیر آرا پیش کروں جس کا تعلق ملک وقوم کی ترقی، بقا اور بالخصوص نظریاتی تشخص کیساتھ ہے۔ ان سطور میں یہ بھی کوشش کرتا ہوں کہ اُن سلگتے موضوعات پر جو آج کے نوجوانوں کے قلوب واذہان میں کھلبلاتے ہیں، ایک معتدلانہ نقطۂ نظر کیساتھ سامنے لایا جائے۔ اسلئے ہمیشہ اس جدوجہد میں رہتا ہوں کہ نوجوانوں کی فکرسازیکے موضوعات کو زیربحث لایا جائے۔ کبھی کبھی حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر بھی، کیا پدی کیا پدی کا شوربہ کے مصداق بات کر لیتے ہیں اور اپنی دانست اور زعم میں عوام کی خواہشات اور احساسات وجذبات کی نمائندگی کی کوشش میں حکومتی اداروں پر تنقید کیساتھ فقیرانہ مشورے (وہ بھی مفت) بھی دے دیتے ہیں، جس پر آج تک عمل تو دور کی بات، حکمران حلقوں کے کانوں پر کبھی جوں تک نہیں رینگی، لیکن پھر اس اُمید پر ہر برگ حنا پر اپنا اور عوام کا داستان غم لکھتے رہتے ہیں کہ شاید کہیں یہ جا لگے اُس دلربا کے ہاتھ۔ایک اُستاد ہونے کے ناتے علم کی اہمیت وٖفضیلت سے لیکر برصغیر پاک وہند میں تعلیم کا تاریخی پس منظر، وقت کیساتھ اس کے بدلتے تقاضے، اسلام اور اسلامی علوم اور سائنسی انقلابات وعلوم کے درمیان تعلق اور بقائے باہمی اور اختلافات اور اس نوع کے دیگر مسائل پر ان ہی سطور میںطبع آزمائی ہوتی رہتی ہے اور جب تک دم میں دم ہے ہوتی رہے گی۔ تعلیمی ادارے، نصاب، اساتذہ اور طلبہ میری دلچسپی کے خاص موضوعات ہیں۔ پاکستان، دوقومی نظریہ اور پاکستان جیسے ملک کے تعلیمی اداروں کیلئے ایک خاص نصاب تعلیم کی ضرورت پر ہمیشہ بات ہوتی ہے۔۔ لیکن اس پر بھی مقتدر طبقات کی توجہ بہت کم مرکوز ہوتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سب سے بڑا کھلواڑ شعبۂ تعلیم کیساتھ کیا گیا۔ پاکستان جیسے نظریاتی ملک کیلئے ایک ایسے جامع نصاب کی ضرورت ہے جس میں ایک ہاتھ پر دنیاوی علوم اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ضروری مضامین اپنی جدید ترین صورت وشکل میں دستیاب ہوں اور دوسرے ہاتھ پر ان سارے علوم وفنون کی بنیاد قرآن کریم اور سنت مبارکہ پر مبنی واُستوار ہوں۔ آج بھی اس کی اشد ضرورت ہے اور حکومت کو اپنی پہلی فرصت میں سارے پاکستان میں ایک ایسے نصاب تعلیم کے رائج کرنے کو ہنگامی بنیادوں پر فوقیت اور اہمیت دینی چاہئے جس کی بنیادی خصوصیات مندرجہ ذیل ہوں۔1)ایسا نصاب تعلیم جو وطن عزیز کے نظریاتی تشخص کی حفاظت کی ضامن ہو۔ 2)پورے ملک کیلئے یکساں نصاب تعلیم ہو۔ 3)نصاب تعلیم اتنا جامع ہو کہ شماریات کی بنیاد پر زندگی کے ہر شعبے کیلئے باصلاحیت افراد بہ سہولت دستیاب ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ بغیر کسی نظم وتربیت اور ضرورت کے کسی بھی شعبے میں تعلیم یافتہ اور گریجویٹس تو موجود ہوں لیکن اُں کیلئے روزگار کے مواقع نہ ہوں۔ فنی (فنون وٹیکنیکل تعلیم) پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ نوکریوں کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ اگر نوکری نہ ملے تو اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہونے کے قابل ہوں۔ سب سے بڑھ کر نصاب سازی میں اہم بات یہ ہے کہ یہ افراط وتفریط کے بجائے اعتدال پر مبنی ہو۔ پاکستان ملٹی کلچر (کثیرالثقافتی) ملک ہے۔ یہاں مذہبی بنیادوں پر افراط وتفریط کی وجہ سے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نصاب کی کتب متنازعہ اور مختلف فیہ موضوعات ومسائل سے حتی الوسع پاک ہوں۔ہر دو تین برس میں پرائمری تا دہم کی اسلامیات کی کتب میں ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جو خاص وعام کی بے چینی کا سبب بنتی ہیں۔ اس کے پیچھے دو اسباب ہیں، ایک تو یہ کہ ٹیکسٹ بورڈ میں متعین افراد کی علمی صلاحیت اُس پائے کی نہیں ہوتیں جو نصاب سازی کیلئے ضروری ہوتی ہے۔ سنیارٹی کی بنیاد پر ایسے لوگ مناصب پر براجمان ہوتے ہیں جو نصاب کی اہمیت اور نزاکت کا محیط علم نہیں رکھتے اور ایک مسئلہ یہ ہے کہ جن اساتذہ کو نصاب سازی کیلئے لایا جاتا ہے وہ جان پہچان اور تعلیمات کی بنیاد پر ہوتے ہیں کیونکہ اس میں پیسہ بھی ہوتا ہے۔ اسلامیات کیلئے کتب کی تدوین کو بس ادھر اُدھر سے نقل درنقل کر کے نمٹایا جاتا ہے اسے کوئی خاص سنجیدگی کا حامل تصور نہیں کیا جاتا اور پھر یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جب سے پاکستان قائم ہوا ہے اس کے نظریاتی تشخص سے بعض عناصر پُرخاش رکھتے ہیں۔ پاکستان کے اسلامی تشخص کی بقاء کیلئے بنیادی عقیدہ ختم النبوتﷺ کا عقیدہ ہے۔ اس اہم اور مسلمانوں کیلئے حیات وموت کا درجہ رکھنے والا عقیدہ کو وقتاً فوقتاً مختلف حیلوں بہانوں سے چھیڑا جاتا ہے اور شکر کا مقام ہے کہ پاکستانی قوم اس حوالے سے ابھی زندہ وبیدار ہے لیکن حکومت علماء اور عوام کا فرض ہے کہ ان عناصر کو ڈھونڈ کر سامنے لائے جو نصابی کتب میں دانستہ ونادانستہ اس قسم کی گڑ بڑ وشرارتیں کرتے ہیں۔ چوتھی جماعت کی اسلامیات کی کتاب کے حوالے سے میڈیا کے ذریعے جو صفحات سامنے آئے ہیں اگر یہ واقعی ایسا ہے تو پھر لگتا یہی ہے کہ کسی نااہل نے یا تو نالائقی کے سبب یوں کیا ہے یا جان بوجھ کر شرارت کی ہے اور جو بھی ہے اس قسم کی نالائقیوں کا ہمیشہ کیلئے سدباب ہونا چاہئے اور یہ تب ہو سکتا ہے کہ ہمارے نصاب سازی کو ایک سنجیدہ کام سمجھا جائے اور اس کے اہل لوگوں کو یہ امانت سپرد کیا جائے۔

متعلقہ خبریں