Daily Mashriq

روزہ انسانی قوتِ مدافعت کو توانا کرتا ہے

روزہ انسانی قوتِ مدافعت کو توانا کرتا ہے

  روزہ انسانی قوتِ مدافعت کے نظام کو بہت حد تک   توانا کرتا ہے ۔ روزہ رکھنے سے وزن میں کمی اور فشارِخون (بلڈ پریشر) بھی  معمول پر رہتا ہےٹائپ ٹو زیابیطس کے مریض معالج کے مشورے سے روزہ رکھیں کیونکہ اس مرض میں روزہ رکھنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ زیابطیس کے مریض دوپہر میں شدید تھکادینے والے کاموں سے گریز کریں جبکہ روزہ داروں کوتلی ہوئی اشیا سے مکمل پرہیزکرنا چاہیے۔

یہ بات جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے پوائزن کنٹرول کے قومی مرکز کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جمال آرا نے جمعہ کو ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ (پی سی ایم ڈی) جامعہ کراچی کے سیمینار روم میں انتالیسویں  عوامی آگاہی پروگرام کے تحت ”رمضان اور صحت کے مسائل“  کے موضوع پراپنے خطاب کے دوران کہی۔ لیکچر کا انعقاد ڈاکٹر پنجوانی سینٹر برائے مالیکیو لر میڈیسن اور ڈرگ ریسرچ ورچؤل ایجوکیشنل پروگرام برائے پاکستان کے باہمی تعاون سے ہوا۔

پروفیسر ڈاکٹر جمال آرا نے کہا کہ روزے کے جہاں فوائد ہیں وہیں پر زیابطیس، گردے اور جگر کے امراض میں مبتلا افراد کو اپنے معالج کے مشورے کے مطابق روزہ رکھنا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بیمار افراد کو تقریباً تین مہینے پہلے اپنے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر جمال آرا کے مطابق زیابطیس کے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ   کو بھی مرض کی مینجمنٹ کے حوالے سے آگاہی دینی چاہیے۔انھوں نے کہا قرآنی تعلیم کے مطابق بھی بیمار و لاغر افراد، مسافروں، حاملہ خواتین اور خواتین کو اُن کے مخصوص ایّام میں روزہ رکھنا نہیں چاہیے۔

روزہ داروں کے لیے تلی ہوئی روغنی اشیا بہت سے مسائل پیدا کرسکتی ہیں جن سے گریز لازمی ہے ۔ تاہم روزہ وزن گھٹانے، برداشت پیدا کرنے، اورزندگی میں نظم وضبط کے لیے نہایت بہترین نسخہ ہے ۔ اس ماہِ مقدس میں غذائی نظم وضبط بقیہ مہینے اپنا کر غذائی عادات و اطوار میں مثبت تبدیلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔

تاہم انہوں نے دوبارہ زور دے کر کہا کہ کہ ذیابیطس کے مریض اگر روزے رکھ رہے ہیں تو اپنے معالج سے ضرور رابطہ کریں اور شوگر لیول پر خاص نظر رکھیں جبکہ ادویات کے استعمال میں بھی احتیاط کریں۔

متعلقہ خبریں