Daily Mashriq

صدارتی انتخاب اور نئی طرز سیاست

صدارتی انتخاب اور نئی طرز سیاست

صدر کے عہدہ جلیلہ کے لیے انتخاب 4ستمبر کو ہونا طے ہے۔ آج اس کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے امیدواروں عارف علوی اور اعتزاز احسن کے ناموں کا اعلان کر چکی ہیں۔ تیسری بڑی پارٹی مسلم لیگ ن نے کسی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم یہ حکمت عملی اختیار کی ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کا مشترکہ امیدوار سامنے لایا جائے۔ اس حوالے سے مشاورت کے لیے ہفتہ کے روز ایک آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی جس میں پیپلز پارٹی کا وفد بھی شریک ہوا۔ اس کانفرنس میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ آیا اپوزیشن کی مسلم لیگ ن سمیت دیگر پارٹیاں اعتزاز احسن کے نام پر اتفاق کرتی ہیں یا پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کا نام دیگر پارٹیوں کے تجویز کردہ امیدوار کے مقابلے میں واپس لے لیتی ہے۔ اتوار کی صبح تک بعض اخبارات کی اطلاع تھی کہ پیپلز پارٹی کا وفد اپنے امیدوار کے حق میں ڈٹا رہا ۔ بعض کی خبر یہ تھی کہ پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کی بجائے متبادل امیدوار لانے پر رضامند ہو گئی ہے اور بعض کی اطلاع یہ تھی کہ مسلم لیگ ن کے زیرِ غور سرتاج عزیز ‘ عبدالقادر بلوچ کے نام ہیں۔ دوران اجلاس پیپلز پارٹی کے وفد نے اعلیٰ قیادت سے مشاورت بھی کی اور ہفتہ کی شام تک کوئی فیصلہ نہ ہو سکا اور طے پایا کہ مسلم لیگ ن کے میاں شہباز شریف اتوار کے روز مشترکہ امیدوار کا اعلان کر دیں گے جب کہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ پیر 27اگست ہے۔ اتوار کی شام تک اپوزیشن پارٹیوں میں جو ڈیڈ لاک برقرار تھا اس کا خاتمہ کس کروٹ ہوتا ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کا نام واپس لینے پر تیار ہوتی ہے جن کے کردار پر کوئی انگشت نمائی آج تک نہیں ہوئی۔ محض پرویز رشید کے اس مطالبہ کے سوا کہ اعتزاز احسن ن لیگ کی قیادت کے بارے میں اپنے ریمارکس پر معافی مانگیں۔ اعتزاز احسن نے اس مطالبہ کو غیر سنجیدہ قرار دیا ہے۔ اعتزاز احسن کو صدارتی امیدوار نامزد کرنا پیپلز پارٹی کے اس رویہ کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی نظر اب 2023ء کے عام انتخابات پر ہے۔ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو تقریریں کی ہیں وہ نہایت سنجیدہ اور ایشوز پر مبنی تھیں۔ انہوں نے اس الزام تراشی کی سیاست سے گریز کیا جو ن لیگ اور تحریک انصاف کی مہم کا حصہ تھی۔ انہوں نے پارٹی کے منشور پر بالعموم بات کی ۔ قومی اسمبلی میں بھی انہوں نے ن لیگ کی اپوزیشن کی سیاست کا حصہ بننے سے اجتناب کیا۔وزیر اعظم کے انتخاب میں بھی پیپلز پارٹی نے ووٹ دینے سے اجتناب کیا۔ اور اس ہلڑ بازی میں بھی حصہ نہیں لیا جس کا مظاہرہ ن لیگ کے ارکان اسمبلی نے کیا۔ اس صورت حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ پیپلز پارٹی ایک نئی طرز سیاست کے ساتھ آئندہ عام انتخابات میں اُترنا چاہتی ہے جو قومی ایشوز پر مبنی ہو اور جس میں عامیانہ پن نہ ہو۔ اعتزاز احسن کی صدارتی امیدوار کے طور پر نمائندگی بھی اسی حکمت عملی کا نتیجہ نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم کے انتخاب میں ووٹ نہ دینے کے فیصلہ کی روشنی میں یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کو اس امید پر نامزد نہیں کیا تھا کہ انہیں اپوزیشن کی حمایت حاصل ہو جائے گی اور وہ منتخب ہو جائیں گے ۔ بلکہ پیپلز پارٹی نے انہیں مستقبل کی پیپلز پارٹی کے ایک صاف اور بے داغ چہرے کے طور پر پیش کیا تھا۔ اعتزاز احسن نامور قانون دان ہیں، مصنف ہیں ‘ شاعر ہیں اور تجربہ کار سیاسی ورکر ہیں۔ انہوں نے ججوں کی بحالی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا ‘پنجاب میں ان کی شخصیت کے سیاسی قد کی بلندی سے عوام و خواص آگاہ ہیں۔ اور پنجاب ہی میں پیپلز پارٹی کو عہد رفتہ کی مقبولیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ پنجاب کا ووٹ پاکستان کی سیاست میں فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اعتزاز احسن کا نام واپس لے لیتی ہے تو بلاول بھٹو اور پارٹی میں ان کے ساتھیوں کا عوامی مسائل قومی اور ایشوز پر مبنی سنجیدہ سیاست کے ذریعے آئندہ انتخابات میں اُترنے کا خواب ٹوٹ جائے گا۔ جن کا نقطۂ نظر یہ دکھائی دیتا ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں محض ن لیگ کی سیاست کا سحر ہی نہیں ٹوٹا بلکہ ایک نیا طرز سیاست بھی تشکیل پا رہا ہے کیوں کہ عوام کی اپنے حقوق اور ملکی مسائل کے بارے میں آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اعتزاز احسن کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ‘ مدیر اور بے داغ سیاست دان ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔ ان کا نام واپس لے کر پیپلز پارٹی اپنی سبکی کا بندوبست کرے گی۔ تاہم اس کش مکش میں پس پردہ بہت سے لین دین پر ممکن ہے بات ہو رہی ہو۔ ممکن ہے ن لیگ اور اس کے اتحادی پیپلز پارٹی کو کسی اہم عہدے کی پیش کش کریں ۔ لیکن اس صورت میں پیپلز پارٹی اپنے نئے طرز سیاست سے دستبردار ہو کر روایتی سیاست میں شریک ہو گی۔ لیکن جیسے کہ سطور بالا میں کہا جا چکا ہے کہ ایک نیا طرز سیاست تشکیل پانے کے آثار ہویدا ہو رہے ہیں کیونکہ دنیا بھر میں سیاستدانوں کی راست بازی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور پاکستان میں جوان عمر ووٹر اپنے لیے مقام تلاش کر رہے ہیں اس لیے دیکھنا یہ ہو گا کہ اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں روایتی طرز سیاست اپنا لیتی ہیں تو آخر کار گھاٹے میں کون رہے گا۔ مسلم لیگ ن کی طرز سیاست کا احیاء ہو سکے گا یا پیپلز پارٹی عہدِ رفتہ کی مقبولیت کی طرف بڑھ سکے گی۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے وزیر اعظم عمران خان کے زیرِ صدارت پارٹی کے اہم اجلاس کے بعد کہا ہے کہ پارٹی کے نامزد امیدوار عارف علوی کے صدر منتخب ہو جانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس بیان سے پہلے سابق فاٹا کے تین سینیٹروں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ فواد چودھری نے کہا ہے کہ پارٹی چیئرمین وزیر اعظم عمران خان کے زیرِ صدارت اجلاس میں صدارتی انتخاب کے لیے حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے۔ اور ہم صدارت کے عہدہ کے لیے مطلوبہ ووٹوں کی تعداد سے زیادہ ووٹ لیں گے۔ فواد چودھری نے ا س سے پہلے جتنے دعوے کیے وہ صحیح ثابت ہوئے۔ عہدہ صدارت کے لیے بھی ان کی توقعات پوری ہوتی نظر آتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں اپوزیشن پارٹیوں کا خیال ہے کہ اگر ان میں اتفاق ہو جائے تو مقابلہ سخت ہو سکتا ہے اور اپوزیشن کے امیدوار کے جیتنے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عہدہ صدارت کے لیے پولنگ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہو گی اس لیے نئے سیاسی رویے کو پذیرائی ملنے کی توقع زیادہ ہے۔ پی ٹی آئی کے امیدوار کو زیادہ ووٹ پڑنے کا واضح امکان ہے۔

متعلقہ خبریں