Daily Mashriq

تحریک انصاف کی ایم پی اے کے خلاف کارروائی

تحریک انصاف کی ایم پی اے کے خلاف کارروائی

کراچی میں شہری پر تشدد کرنے کے ملزم تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی عمران علی شاہ کے خلاف تحریک انصاف کی انضباطی کمیٹی کا فیصلہ تحریک انصاف کی تنظیم کا اپنا فیصلہ تو ہو سکتا ہے ملک کے قانون کا فیصلہ اس وقت تک نہیںہو سکتا جب تک کوئی عدالت اس فیصلے کی توثیق نہ کر دے۔ بلکہ ایک طرح سے تحریک انصاف کی انضباطی کمیٹی کا فیصلہ ملک کے قانون سے انحراف ہے۔ تحریک انصاف نے قانون کی عملداری کا علم ہاتھ میں لے کر انتخابی مہم چلائی جس کے بعد وہ آج وفاق میں حکومت بنا چکی ہے۔ عمران علی شاہ تحریک انصاف کے ایم پی اے تو ہیں پاکستان کے شہری بھی ہیں ، ان کے کسی ایسے اقدام پر جو ملک کے قانون کی گرفت میں آتا ہو مقدمہ عدالت میں چلنا چاہیے۔ تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے صدر شمیم نقوی کا یہ اعلان کہ عمران علی کو تحریک کی انضباطی کمیٹی نے جرمانہ کر دیا ہے نظام ِ عدل سے انحراف ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے طور پر عدالتیں لگائے خواہ وہ انتخابات میں جیتی ہوئی سیاسی پارٹی ہی کیوں نہ ہو۔ ایم پی اے عمران علی پر مقدمہ عدالت میں چلنا چاہیے ۔ ان کے مدعی نے انضباطی کمیٹی کی اس سزا پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس سز اپر اطمینان کا اظہار نہیں کیا ہے۔ لہٰذا اس صورت حال کو راضی نامہ نہیں کہا جا سکتا اور اگر راضی نامہ ہو بھی جائے تو یہ عدالت کے روبرو یا مجاز اتھارٹی کے روبرو ہونا چاہیے۔ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو ایسے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے جن میں ان کے عہدیدار اپنے منصب سے تجاوز کرتے نظر آ رہے ہیں۔ بظاہر یہ معاملہ سنگین نوعیت کا نظر نہیں آتا ۔ ایک رکن اسمبلی نے شہری پر تشدد کیا۔ اس کی پارٹی کی انضباطی کمیٹی نے اسے سزا سنا دی۔ لیکن حقیقت میں یہ وہی رویہ ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک کراچی میں سنگین وارداتوں کی بنیاد بنا۔ ایک پارٹی خود ہی چھوٹی بڑی سزائیں سناتی تھی۔ سنگین جرائم کے ملزم عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے تھے اور متعدد واقعات میں قتل بھی ہوئے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ ایک پارٹی نے جس کا نظام عدل سے کوئی تعلق نہیں تھا لوگوں کی زندگیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ بہت سی قربانیوں اور بہت سی مشکلات عبور کرنے کے بعد وہ وقت آیا ہے جب کراچی کے لوگوں نے اپنی مرضی سے ووٹ دیا اور متذکرہ بالا پارٹی کے سحر سے آزاد ہو کر پاکستان کی جمہوری پارٹیوںکو ووٹ دیا ہے۔ ان جمہوری پارٹیوں میں اس سابق مطلق العنان پارٹی کا رویہ در آنا نہایت افسوس ناک ہے۔ تحریک انصاف نے اگر کوئی انضباطی تنظیموں کا نظام قائم کیا ہے تو اس کے بارے میں معلومات عام نہیں ہیں۔ اگر انضباطی کمیٹی کوئی ہے تو وہ سیاسی معاملات کے بارے میں ہو گی امن وامان کے شعبہ میں اس کا تعلق نظام انصاف کو چیلنج کرنے کے مترادف ہو گا۔ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کو بظاہر اس معمولی واقعہ کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان کے ایک شہری کی جان ‘ مال ‘ عزت و آبرو کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے نظام انصاف اور امن وامان کو قائم رکھنے کے اداروں کے اختیار و فرائض کا مسئلہ ہے۔

متعلقہ خبریں