Daily Mashriq


’’ڈومور‘‘ کا مس فائر

’’ڈومور‘‘ کا مس فائر

امریکیوں کو پاکستان سے ڈومور کہنے کی عادت سی پڑ گئی ہے اور اس عادت کو پاکستانی حکمرانوں کے فدویانہ اور مودبانہ طرز عمل نے مزید پختہ کیا ہے۔اگر پہلے ڈومور کا جواب ہی انکار میں دیا گیا ہوتا تو ڈومور کہنے کی عادت میں اس قدر پختگی اور تسلسل نہ ہوتا۔اسی عادت کا اثر تھا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے وزیر اعظم عمران خان کو مبارکباد کا ٹیلی فون کیا اور اس دوران پاک امریکہ تعلقات اور خطے کے مسائل اور معاملات پر بات ہوئی ۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس ملاقات کی جو تفصیل جاری کی اس میں بہت سی باتوں کے علاوہ اس بات کا ذکر بھی تھا کہ مائیک پومپیو نے عمران خان پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف بھی کارروائی کریں ۔یہ سیدھے سبھائو ’’ڈومور‘‘ ہی تھا۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے اس بیان کو مسترد کیا اور کہا کہ دونوں راہنمائوں کی گفتگو میں ایسا کوئی جملہ نہیں تھا ۔جواب الجواب کے طور پرسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے کہا کہ دونوں راہنمائوں کے درمیان اچھی گفتگو ہوئی۔یہ ایک اچھی کال تھی ۔

پاکستان امریکہ کا اہم شراکت دار ہے مگر وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیان کو مسترد کیا ۔اب اس محاذ پر خاموشی ہے مگر یہ خاموشی بھی بتارہی ہے کہ فریقین اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔اس طرح پہلے مرحلے میں ہی پاکستان اور امریکہ کے درمیان ایک سفارتی تنازعہ پیدا ہوا ۔مائیک پومپیو اگلے ماہ کے اوائل میں پاکستان کا دورہ بھی کر نے والے ہیں اور وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات اس شیڈول کا حصہ ہے۔اس مرحلے پر دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تکرار اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدمزگی کے سائے اب اس ملاقات کے اوپر بھی منڈلاتے رہیںگے ۔ شاہ محمود قریشی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان اب مغرب کا محبوب نہیں رہا۔حقیقت بھی یہی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات اب چراغ سحر ی کی مانند ٹمٹما رہے ہیں اور اس پر مستزاد اس نوعیت کی توتکار ہے ۔اس سے دونوں کے تعلقات کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہو سکتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا شدید بحران پایا جاتا ہے ۔پاکستان امریکہ کے اقدامات کو اور امریکہ پاکستان کے فیصلوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔افغانستان اور بھارت ان تعلقات کی خرابی کی بنیاد ہیں ۔ماضی میں امریکہ سول ملٹری خلیج کا فائدہ اُٹھا کر حکومتوں کو اپنے موقف کی صداقت اور حمایت کے لئے استعمال کرتا تھا ۔سول حکومتیں بھی امریکہ کے دام ہمرنگ کا شکار ہو کر امریکی پچ پر کھیلنے لگتی تھیں جس سے ملک میں سول ملٹری کشمکش شروع ہو جاتی تھی ۔ تاریخ کے صفحات پرمیمو گیٹ سے ڈان لیکس تک یہ کہانیاں جابجا ملتی ہیں۔اس بارسول ملٹری کشمکش اُبھرنے کا امکان بہت کم ہے ۔اس کی پہلی وجہ تو یہی ہے جس طرح ملکی اسٹیبلشمنٹ امریکہ کو ناگوار ہے اسی طرح سویلین چہرہ بھی زیادہ پسندیدہ نہیں۔ پھر عمران خان نے ملک کے حساس دفاعی مسائل کو بنیاد بنا کر انتخاب نہیں لڑا بلکہ ان کا ایجنڈا ملک کی داخلی صورت حال تھی ۔ان کی پہلی ترجیح بھی داخلی طور پر کچھ مختلف کرنا ہے ۔گوکہ بیرونی میڈیا میںیہ سوال اُٹھنا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان باہر والوں کی فرمائشوں اور اپنی اسٹیبلشمنٹ کی ضرورتوں اور پاکستان کے قومی تقاضوں کے درمیان کس طرح تواز ن قائم رکھ سکتے ہیں؟۔

عمومی خیال یہی ہے کہ عمران خان محمد خان جونیجو کی طرح ان سوالات اور تبصروں سے گھبرا کر طاقت کے ساتھ سینگ پھنسا کر اپنی تبدیلی کا ایجنڈا ضائع نہیں کریں گے۔ انتخابات سے بہت پہلے ہی امریکیوں نے پاکستان آکر کہہ دیا تھا کہ فلاں شخص کا وزیر اعظم رہنا ہمارے مفاد میں ہے ۔اسے موقع ملنا چاہئے ۔امریکہ کی یہ حمایت اس شخص کے لئے ’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو ‘‘والا معاملہ ثابت ہوا۔

عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچنے سے روکنا امریکیوں کی ترجیح تھی اور اس کے لئے امریکہ کا پاکستان کے لئے آزمودہ ’’حسین حقانی نیٹ ورک ‘‘پوری قوت سے استعمال ہوتا رہا مگر امریکہ اس کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا۔اس پس منظر میں یہ امکان کم ہے کہ امریکہ ماضی کی طرح سول ملٹری کشمکش شروع کرانے میں کامیاب ہو گا ۔اس لئے امریکہ کو عمران خان کی صورت میں ایک بدلے ہوئے پاکستانی حکمران کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ۔وہ امریکہ کی سفارش سے آئے ہیں نہ ان کی آمد میں امریکہ کی رضامندی کا عمل دخل ہے بلکہ اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ ہونے کی وجہ سے عمران خان کے لئے ان کے جذبات ناپسندیدگی کی حدوں تک چلے گئے تھے ۔بدلے ہوئے ماحول میں امریکہ کو زیادہ محتاط ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کا پہلا ڈومور ہی مس فائر ثابت ہوا ۔مائیک پومپیو نے ڈومور کہا ہو یا نہیں مگر پاکستان نے اس بات کو برسرعام مسترد کرکے یہ پیغام دیا کہ ڈومور کی کہانی اب ماضی کی طرح چلنے والی نہیں۔امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں برابری کی عادت پیدا کرنا ہوگی وگرنہ اعتماد کا بحران ٹویٹ در ٹویٹ اور بیان در بیان بڑھتا ہی چلا جائے گا۔اپنے ڈومور کو مس فائر اور غیر موثر بنانے میں سب سے زیادہ حصہ امریکہ کے جنگ بازوں اور جنگ پسندوں کا ہے جنہوں نے پاکستان کو سزا دینے کے لئے امداد روکنے ،فوجی تعاون محدود کر دینے ، اپنے شراکت دار کو اعتماد میں لئے بغیر جاسوسی اوراطلاع کااپنا الگ نظام تشکیل دینے جیسے روایتی اور غیر دوستانہ اقدامات کئے۔جس سے پاکستان سے امریکی اثر رسوخ کم ہوتا چلا گیا اورمعاملات اس نہج پر چل کر بگاڑ کی انتہا تک جا پہنچے۔

متعلقہ خبریں