Daily Mashriq


نئے صدر کا انتخاب

نئے صدر کا انتخاب

لوڈ شیڈنگ کے مارے پاکستانی عوام کیلئے نئے صدر کے انتخاب کے حوالے سے مری کے یخ بستہ مقام پر اپوزیشن پارٹیوں کا اجلاس منعقد ہوا ۔ چارگھنٹے کے طویل اجلاس میں کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر یہ اجلاس ختم ہوا اور مشاورت کے نام پر مزید اجلاس کرنے کی حامی بھرلی گئی ۔ پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ ایک فیڈریشن پرمشتمل ہے اور ایسی مملکت کا صدروفاق کی علامت ہوتا ہے ۔ بد قسمتی سے ہم نے صدر کے انتخاب کو بھی سیاست کا تماشا بنا رکھا ہے ورنہ اس عہدے کیلئے احترام اور تجربے کی درکارضروریات کے احساس کو کبھی قابل توجہ نہیں سمجھا گیا بلکہ ذاتی خواہشات اور سیاسی چپقلش کی بھینٹ چڑھایا گیا ۔ہماری 70سالہ سیاسی تاریخ ہماری قومی سیاسی زندگی کا ایک ایسا آئینہ ہے جس پر کچھ زیادہ فخر نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر ہم ماضی کو دیکھیں تو ایوب خان ، یحییٰ خان ، ضیاء الحق اور پرویز مشرف فوجی سربراہ ہونے کے ناطے اقتدار پر فائز ہوئے اور وردی میں رہتے ہوئے صدارتی عہدے پر براجمان رہے ۔ ایوب خان کے اس رویئے نے خصوصی طور پر ہمارے بنگالی بھائیوں میں محرومی اور نفرت کو ابھارا جو بالآخر بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوا ۔ ضیاء الحق کے عہد حکومت نے پاکستان کو بیشمار مشکلات میں دھکیلا اور پرویز مشرف کی پالیسیوں کی قیمت قوم آج بھی چکا رہی ہے۔ ماضی قریب میں صدر کا عہدہ کافی بااختیار تھا جب صدر کے پاس 58-2Bکے اختیارات ہوا کرتے تھے جن کے تحت وہ اسمبلیاں تحلیل کرسکتا تھا ۔ غلام اسحاق خان اور فاروق لغاری انہی اختیارات کے بل بوتے پر تین بار اسمبلیاں اور حکومتیں فارغ کر چکے ہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں آصف زرداری نے یہ اختیار ختم کیا ۔ موجودہ صدر ممنون حسین کی مدت صدارت ستمبرکے اوائل میں ختم ہورہی ہے اورنئے صدر کے انتخاب کیلئے صف بندی کا عمل جاری ہے۔ متحدہ اپوزیشن کے کئی پارٹی سربراہان حالیہ انتخابات میں بری شکست سے دوچار ہو چکے ہیں لیکن وہ سیاست کے ذائقے کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ صدارتی انتخابات کے اجلاسوں میں پوری گرمجوشی سے شریک ہیں حالانکہ سیاسی اخلاقیات کا تقاضاہے کہ جب انسان اپنے حلقہ انتخاب میں اثر نہیں رکھتا تو اسے اپنا اعتماد اور اعتبار دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے لیکن کیا کیا جائے آج تک پاکستانی سیاست ایک نفع بخش کاروبار کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ مری میں منعقدہ اپوزیشن اجلاس کا اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمارے ان بزرگوں نے حالیہ انتخابات سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور ابھی تک ایک متفقہ صدارتی امیدوار لانے میں ذاتی مصلحتوں اور در پردہ بد اعتمادیوں کا شکار ہیں۔ سپیکر کے انتخاب میں ان پارٹیوں نے خورشید شاہ کو ووٹ دئیے لیکن وزیر اعظم کے انتخاب کے مرحلے میں پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نواز کو ووٹ نہیں دیا پھر قائد حزب اختلاف کے مسئلے پر بھی پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی اپنی ترجیحات رہیں لیکن مسلم لیگ نواز اپنی عددی طاقت کے بل بوتے پر اپوزیشن لیڈرکا عہدہ لے اڑی۔ اب صدارتی انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے اور پیشگی ضمانتوں اور یقین دہانیوں کے دور چل رہے ہیں کہ کس طرح تحریک انصاف کی حکومت کو آئینی موشگافیوں میں الجھا کر اس کو ناکام کیا جاسکے۔ لیکن یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ خود تحریک انصاف کو بھی محتاط رویے کامظاہرہ کرنا ہوگا۔ وہ حکومت تو حاصل کرچکی ہے لیکن اسے پھونک پھونک کر قدم آگے بڑھانے ہوں گے کیونکہ حزب اختلاف اسے الجھانے کی کوشش کرے گی جبکہ اسے عوام کی توقعات پوری کرنی ہوں گی اور اپنے وعدے مکمل سچائی کے ساتھ نبھانے ہوں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی بیرسٹر اعتزاز احسن کو امیدوار کے طور پر لا رہی ہے جبکہ تحریک انصاف عارف علوی کو نامزد کرچکی ہے۔ اعتزاز احسن اعلیٰ پائے کے قانون دان ہیں جبکہ عارف علوی ایک پیشہ ور دندان ساز ہیں۔ تحریک انصاف حال ہی میں عمران اسماعیل کو بطور گورنر سندھ نامزد کرچکی ہے جس کی تعلیمی قابلیت صرف ایف اے ہے اگرچہ ایسی تمام تقرریاں حکومت وقت کی صوابدید ہوتی ہیں لیکن علم اور تجربے کے سرمائے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تقسیم ہند کے وقت اگرچہ قائد اعظم اور مہاتما گاندھی سیاست سے وابستہ ضرور تھے لیکن دونوں ہی لنکن ان سے بارایٹ لاء کرچکے تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کسی بھی عہدے کے ساتھ زیادہ بہتر طریقے سے انصاف کرسکتا ہے۔ موجودہ وزیر اعظم کا دعویٰ اور وعدہ ہے کہ وہ ایک بہتر پاکستان کی تشکیل کے لئے کوشاں ہیں اور بیرسٹر اعتزاز احسن لاہور کے زمان پارک کے حوالے سے ان کے ہمسایہ بھی ہیں تو اگر عمران خان براہ راست ان سے رابطہ کریں اور اپنے ویژن کی تکمیل کی خاطر ان کی مدد طلب کریں تو اعتزاز احسن بھی ان کا ساتھ دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ اس طرح کا رویہ عمران خان کی عظمت کا ثبوت ہوگا اور پیپلز پارٹی بھی پابند ہوگی کہ اس اعلیٰ ظرفی کا مثبت جواب دے۔ سیاسی گروپ بندیاں جمہوریت کا حسن ہوتی ہیں لیکن کافی ہوچکا اب پاکستان کا استحکام اور اس کے غربت زدہ عوام کی مشکلات ختم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ صدارتی انتخاب کے مرحلے کو کسی بھی مہم جوئی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ملکی سیاسی پارٹیاں تنگ نظری سے دامن بچائیں اور اس ملک کا قرص چکائیں اور مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی امتفقہ امیدوار لانے کی بجائے تحریک انصاف‘ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کا متفقہ امیدوار لانے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ یہ اس ملک کے ساتھ ایک تاریخی نیکی ہوگی۔ یہ عوام کی حقیقی خوشی کا دن بھی ہوگا۔

متعلقہ خبریں