Daily Mashriq


ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ؟

ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ؟

ڈونلڈ ٹرمپ کی حالت اس گیدڑ کی سی ہو رہی ہے جس نے بادشاہ کی جانب سے اس کے مار دیئے جانے کے حکم پر کہا تھا کہ بادشاہ سلامت اگر مجھے مار دیا گیا تو قیامت آجائے گی، یہی صورتحال ڈونلڈ ٹرمپ کی ہے۔ اس نے بھی امریکی قوم کو تڑی لگاتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اگر میرا مواخذہ کیا گیا تو امریکی معیشت تباہ ہو جائے گی، سٹاک مارکیٹ کریش کر جائے گی اور امریکی سرمایہ کار غریب ہو جائیں گے۔ یہ صورتحال گیدڑ والی کہانی کے عین مطابق ہے، یعنی جس طرح گیدڑ بھبکی سے دربار میں سناٹا طاری ہوگیا تھا اور بادشاہ کو اپنا حکم واپس لینا پڑا تھا، گیدڑ کو رہائی مل گئی تھی اور اس نے جان بچی سو لاکھوں پائے، دوڑتے ہوئے یہ بھی کہا تھا، ارے بے وقوف بادشاہ، قیامت تو آجاتی مگر میرے لئے، تمہارا کیا بگڑنا تھا، مگر ایسا لگتا ہے کہ امریکی قوم نے یہ کہانی سنی ہے نہ پڑھی ہے اور ویسے بھی سرمایہ دار دنیا کا سب سے بڑا علمبردار امریکہ ہے جسے قارون کی طرح اپنے خزانوں سے بڑا ہی پیار ہے اور امریکی سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں غریب بننے کو ہرگز تیار نہیں، اس لئے لگتا تو یہی ہے کہ صدر ٹرمپ کی یہ دھمکی کارگر ثابت ہوگی اور وہ مواخذے سے بچ جائیں گے۔ اس صورتحال پر انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے جہاں گیدڑ والا فارمولہ آزمایا ہے وہیں اپنی صفائی میں کہا ہے کہ خواتین ماڈلز کو تعلقات پر خاموش رہنے کیلئے رقوم کی ادائیگی کا عمل درست اور قانون کے مطابق ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی مہم کی خلاف ورزی کا الزام بے بنیاد ہے، میرا واحد جرم ہیلری کلنٹن اور ڈیموکریٹک کو واضح شکست دینا ہے جس پر یہ سارا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ دوخواتین ماڈلز کو رقوم کی ادائیگی میں نے ذاتی حیثیت میں کی تھی جس کا انتخابی مہم سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی یہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے لیکن جھوٹی مہم چلا کر اپوزیشن جماعتیں میرے مواخذے کا مطالبہ کر رہی ہیں، حافظ شیرازی نے کہا تھا

ز قسمت ازلی چہرۂ سیاہ بختاں

بہ شست وشوئی نہ گرد وسفید ایں مثل است

(ترجمہ) کوے کو دھو دھلا کر سفید نہیں بنایا جا سکتا، یعنی پیدائشی کالوں کے چہرے دھونے سے ان کی رنگت سفید نہیں کی جا سکتی۔ امریکی انتخابات کے حوالے سے اب یہ بات عام ہو چکی ہے کہ وہاں سی آئی اے اور پینٹاگون کی مرضی کے بغیر کوئی انتخاب جیت نہیں سکتا، اس لئے اگر گزشتہ چند صدارتی انتخابات کے بارے میں غور کیا جائے تو اس دعوے میں بڑی حد تک سچائی نظر آجاتی ہے، خاص طور پر صدر ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے مابین صدارتی انتخابات کے سمے یہ بات بالکل واضح تھی کہ ہیلری کلنٹن صدر منتخب ہو جائیں گی مگر ایک دو ریاستوں میں پاپولر ووٹوں نے پانسہ پلٹ دیا، کیونکہ امریکی انتخابات کا عمل اس قدر پیچیدہ ہے کہ عوامی ووٹوں کی اکثریت بھی تکنیکی بنیادوں پر تبدیل ہو جاتی ہے، ایسی ہی صورتحال گزشتہ انتخابات میں بھی سامنے آئی۔ اس سے پہلے الگور کیساتھ بھی ایسا ہی ناٹک رچایا گیا تھا، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے تو جو صورتحال پیدا کی تھی اس پر امریکی خفیہ اداروں کی جادوگری کا کمال دنیا کو حیران کر گیا تھا، اس لئے بقول مجید لاہوری ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ

چنا ہے قوم نے خود مجھ کو لیڈر

میںآرڈر دے کے بنوایا گیا ہوں

انتخابات کے بعد کچھ خبریں روس کی خفیہ ایجنسی کے حوالے سے بھی آئی تھیں جن کا کچھ عرصے تک غلغلہ رہا مگر وقت کیساتھ ان کا تذکرہ معدوم ہوتا چلا گیا، اب ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے علیحدگی کے بعد ان پر دو خواتین ماڈلز کو خاموش رہنے کیلئے رقوم دینے جبکہ مشیر کو بھی اس معاملے پر منہ بند رکھنے پر مجبور کرنے کے معاملات کو طشت ازبام کر کے صدر ٹرمپ کیلئے ایک نئی مشکل پیدا کر دی ہے، تاہم قانونی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کو دوران صدارت تو سزا نہیں دی جا سکتی البتہ انہیں ہٹانے کا واحد راستہ ان کا مواخذہ رہ جاتا ہے، تاہم ماضی کی امریکی تاریخ پر نظر رکھنے والے اس حوالے سے بھی سوال اٹھا رہے ہیں کیونکہ مواخذے کیلئے صدر کیخلاف الزامات پہلے کانگریس میں لائے جائیں گے جو ان کیخلاف مقدمے کی بنیاد بنیں گے، امریکی آئین کے مطابق صدر کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے اس صورت ہٹایا جا سکتا ہے جب انہیں بغاوت، رشوت ستانی، کسی بڑے جرم یا بدعملی کی وجہ سے سزا دینا درکار ہو۔ مواخذے کی کارروائی ایوان نمائندگان سے شروع ہوتی ہے جس کی منظوری کیلئے سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے، مقدمہ سینیٹ میں چلتا ہے جہاں صدر کو ہٹانے کیلئے دوتہائی اکثریت درکار ہوتی ہے تاہم امریکی تاریخ میں یہ سنگ میل کبھی عبور نہیں ہوا۔ البتہ بعض صدور نے مواخذے سے بچنے کیلئے خود استعفے دیئے، ان میں رچرڈ نکسن کا نام بھی آتا ہے۔

بخت کا تخت سے یک لخت اتارا ہوا شخص

تم نے دیکھا ہے کبھی جیت کے ہارا ہوا شخص؟

کچھ ایسی ہی صورتحال میاں نوا ز شریف کیساتھ بھی پیش آئی تھی جب انہیں پانامہ لیکس کے حوالے سے مشکل آپڑی تھی حالانکہ پارلیمنٹ نے ان پر الزامات کے معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے کوشش کر دیکھی تھی مگر ان کی جماعت کے ارکان کی یا درپردہ خود ان کی ہٹ دھرمی نے ایسا نہ ہونے دیا اور ٹرمز آف ریفرنس پر اتفاق رائے نہ ہو سکنے کی وجہ سے معاملہ عدالت میں پہنچ گیا، حالانکہ عدالت کے اندر مقدمہ پہنچنے پر لیگ (ن) والوں نے مٹھائیاں بھی بانٹیں اور خوشی کا اظہار بھی کیا لیکن فیصلہ آنے کے بعد میاں نوازشریف نے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا نعرہ لگا کر کچھ نئے سوال بھی اُٹھا دیئے تھے۔ اس لئے اگر ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ بھی مواخذے کے حوالے سے ایسا ہی کچھ ہوتا ہے تو کہیں وہ بھی یہ نعرہ لگانے پر مجبور نہ ہو جائیں، مجھے کیوں نکالا؟

متعلقہ خبریں