Daily Mashriq


پلاسٹک زہر قاتل

پلاسٹک زہر قاتل

پلاسٹک کے شاپنگ بیگ اور پلاسٹک کی بنی ہوئی چیزوں کا استعمال ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک میں حد سے زیادہ ہوتا ہے۔ بہت سارے ممالک نے پلاسٹک کا استعمال بند کر دیا ہے اور کئی ممالک میں پلاسٹک بیگ اور پلاسٹک سے بنی ہوئی اشیاء پر پابندی کے متعلق سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق این اے ایف ٹی اے ممالک یعنی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو جیسے ممالک میں پلاسٹک کا فی کس سالانہ استعمال 139 کلوگرام، مغربی یورپ میں 136کلو گرام، جاپان میں 108کلوگرام، وسطی یورپ میں 48کلوگرام، افریقہ میں 16کلوگرام اور پاکستان میں فی کس سالانہ 5کلوگرام پلاسٹک کا استعمال ہوتا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستان میں پلاسٹک کے بیگ، پلاسٹک سے برتن اور دوسری چیزوں کے بنانے میں حد سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا میں سالانہ ایک ٹریلین یعنی ایک ہزار ارب شاپنگ بیگ استعمال ہوتے ہیں اور پلاسٹک دنیا میں دوسری بڑی چیز ہے جو ماحول، زرعی زمینوں اور ساحل سمندر کو آلودہ کر رہا ہے۔ پلاسٹک نہ صرف میدانی علاقوں کو خراب کر رہا ہے بلکہ سمندروں، ندی نالوں، دریاؤں کو بھی آلودہ اور سیوریج سسٹم کو بھی بلاک کرتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پلاسٹک سمندر میں زہریلا مواد چھوڑ جاتا ہے۔ جس سے آبی حیات جس میں مچھلیاں اور دوسرے جاندار شامل ہیں کیلئے نقصان دہ ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ پلاسٹک ایک ہزار سال بعد مٹی میں مٹی ہو کر ختم ہو جاتا ہے مگر ان 1000برسوں میں پلاسٹک سے مسلسل زہریلا مواد پانی اور زمین میں شامل ہوتا ہے جو آبی حیات اور زمین کی زرخیزی کو تباہ وبرباد کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ انٹارکٹیکا یعنی بحر منجمد جنوبی جہاں پر کوئی انسان نہیں اور وہاں پر کوئی گند نہیں ہوتا وہاں بھی برف کے 20فٹ اندر پلاسٹک کے کیمیکل پائے جاتے ہیں جس سے چرند پرند کی اقسام پلاسٹک سے خارج ہونے والے کیمیکلز کی وجہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ پلاسٹک میں ایسے کیمیائی مواد ہوتے ہیں جو ہمارے انڈو کرائن سسٹم یعنی ہارمونز پیدا کرنے والے نظام میں نقصان پیدا کرتے ہیں۔ پلاسٹک سے نکلے ہوئے کیمیکلز انسانوں میں موٹاپا اور بانجھ پن کو پیدا کرتے ہیں۔ پلاسٹک ہر سال جانداروں کی ہزاروں اقسام کو تباہ وبرباد کرتا ہے۔ سمندر کے ایک مربع میل میں پلاسٹک کے 40 سے لیکر 50ہزار ٹکڑے تیر رہے ہوتے ہیں۔ پلاسٹک میں جو کیمیکل بس فینول (Bisphenol) ہوتا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ ماہرین ماحولیات اس کوشش میں ہے کہ عام لوگ اس زہریلے کیمیکل جو پلاسٹک کے بیگ اور دوسری چیزوں کے بنانے میں استعمال ہوتا ہے اس کے منفی اثرات کے بارے میں آگاہ ہوں گے۔ پلاسٹک سے انسانی جسم کے جو ہارمونز خراب ہوتے ہیں ان میں انسانی جسم کی نشو ونما اور بڑھوتری کے ہارمونز، میٹابالزم یعنی جسم میں موجود کیمیکلز جو انسانی جسم کی سرگرمیوں کو قائم اور قابو رکھتے ہیں یہ ہارمونز بھی پلاسٹک سے خراب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ نظام انہضام کی خرابی، سانس اور نظام تنفس کی بیماریاں، خون کے گردشی نظام والے ہارمونز بھی پلاسٹک سے متاثر ہوتے ہیں۔پلاسٹک کے جلانے سے زہریلی گیسیں پیدا ہوتی ہیں جن سے عورتوں کے چہروں پر بال کا نکلنا‘ سانس کی تکلیف، الرجی کی بیماری پیدا ہوتی ہیں۔ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ہمیں پلاسٹک کے بیگ اور پلاسٹک برتنوں کے بجائے سٹیل، مٹی، شیشے، چینی مٹی کے برتن استعمال کرنے چاہئے اور شاپنگ بیگ کی جگہ ہمیں کپڑے، کاعذ کے تھیلے اور (Biodegradable) یعنی خود سے ختم ہونے والی اشیاء کے شاپنگ بیگ استعمال کرنے چاہئیں۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ پلاسٹک کے شاپنگ بیگ اور ان کی صنعتوں کو ختم کیا جائے اور ان کو روزگار کا متبادل نظام مہیا کریں۔ اس سلسلے میں پہلے سے جو قانون سازی ہوئی ہے اس کو فی الفور نافذ کیا جائے۔ ملک میں شاپنگ بیگ، برتن اور پلاسٹک کے میڈیکل آلات بنانے والے حد سے زیادہ خراب پلاسٹک استعمال کرتے ہیں جس کا تدارک بہت زیادہ ضروری ہے۔ ہمیں ایک دفعہ دوبارہ فطرت کی طرف آنا پڑے گا کیونکہ فطرت کے بغیر جتنی بھی چیزیں ہیں وہ ہمارے لئے نقصان دہ ہیں۔ ہم فطری اور قدرتی چیزیں استعمال کرکے بہت ساری بیماریوں اور نقصانات سے بچ سکتے ہیں اور ایک لمبی صحت مند زندگی پا سکتے ہیں اور شعبہ صحت پر جو کثیر رقم خرچ ہوتی ہے اس کو بھی بچا سکتے ہیں۔ اب یہ پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا نئی قانون سازی اور اقدامات کر سکتے ہیں۔ نئے پاکستان کے ایجنڈے میں پلاسٹک سے چھٹکارے کیلئے بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں