Daily Mashriq


اک ستارہ اور ڈوبا

اک ستارہ اور ڈوبا

کتنے سورج طلوع ہوکر نصف النہار پر پہنچے شفق کی سرخی میں ڈھلے اور رات کی کالی چادر اوڑھ کر سوگئے۔ ہم کہتے رہ گئے کہ

لگی والیآں نو نیندر نی آندی

تیری کیویں اکھ لگ گئی

جس کے دل پر چوٹ لگتی ہے اسے نیند نہیں آتی بھلا توکیوں سوگیا۔ ہم پوچھتے رہ جاتے ہیں اور رات کی کالی چادر اوڑھ کر سوجانے والا سورج ہماری کسی بات کا کوئی جواب نہیں دے پا تااور پھر ہم کہتے رہ جاتے ہیں کہ

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم

تونے وہ گنجہائے گرانمایہ کیا کئے

بہت سے چاند اپنی چاندنی سمیٹ کر بادلوں کے اوٹ جاچھپے۔ بہت سے دمکتے ستارے ڈوب گئے۔ پوری کی پوری کہکشاؤں کو ہڑپ کرگیا یہ ظالم فلک پیر۔ ابھی ہم کہکشان صحافت کے دمکتے ستارے پشتو شعر و نغمہ میں اپنے خون جگر کی حلاوت گھولنے والے پاکستان رائٹرز گلڈ خیبرپختونخوا کے صوبائی سیکرٹری سردار خان فنا کی جدائی کاصدمہ برداشت نہ کر پائے تھے۔ ابھی ہم پاکستان رائٹرز گلڈ خیبر پختون خوا کی مجلس عاملہ کی بزرگ ترین ہستی، پشتو زبان وادب کے بہت بڑے محقق ادیب شاعر اور متعدد کتابوں کے مصنف پروفیسر داور خان داؤد کے داغ مفارقت کی ٹیسیں برداشت کر رہے تھے۔ ہم داد محمد دلسوز کی جدائی کی دل دوز چیخیں ضبط کئے بیٹھے تھے کہ زندگی کی چلتی ٹرین سے ایک اور مسافر اپناسٹیشن آتے ہی وجود زیست سمیٹ کر اتر گیا۔ ہمیں اس بات کا احساس اس وقت رہ رہ کر ستانے لگا جب ہم لاہور کی پر ہجوم میٹرو بس میں سفر کرتے پاکستان رائٹرز گلڈ ٹرسٹ کے چیئر مین اور گلڈ پنجاب کے صوبائی سیکرٹری جاوید طفیل کی رحلت کا طوفان غم دل میں چھپائے ان کے لواحقین کو پرسا دینے جارہے تھے۔ ہم پشاور سے لاہور کے لئے روانہ ہونے والی ڈائیوایکسپریس میں رات بھر سفر کرتے صبح سویرے منہ اندھیرے ڈائیوو کے لاہور ٹرمینل پر اترے تھے اس سفر میں میرے ساتھ خیبر پختون خوا گلڈ کی مجلس عاملہ کے سرگرم ساتھی افتخار احمد تشنہ بھی تھے، یوں لگ رہا تھا جیسے وہ ہم سفر سے زیادہ میرے نگہبان بن کر پشاور سے لاہور کے سفر پر روانہ ہوئے ہوں۔مسافراپنے قیمتی سامان کاخیال رکھیں۔ جیب کتروں سے ہوشیار رہیں۔ میٹرو بس کے اندر لگے لاؤڈ سپیکر پر ہر سٹیشن کے آنے سے پہلے اور اس کے فوراً بعد ایک پہلے سے ریکارڈ کی گئی نسوانی آوازمیں اعلان ہوتا ۔ ہم نے بھاٹی گیٹ میں اترنا ہے افتخار تشنہ نے میرے کان میں کہا اور یوں ہم داتا دربار کے قریب میٹرو بس سے اتر کر داتا دربار کی جانب ایک اچٹتی سی نظر ڈال کر سلام عقیدت پیش کرنے لگے۔ ہم نے داتا دربار کے قرب وجوار سے رکشہ لیا اور پہنچ گئے پاکستان رائٹرز گلڈ کے آفس سیکرٹری ظفر اقبال کے پاس خیبر پختون خوا کی مجلس عاملہ اور مجلس عامہ کی جانب سے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرنے مرحوم جاوید طفیل کے لئے دعائے مغفرت اور ان کے لواحقین کو صبر جمیلہ کا دلاسہ دینے۔ ہماری آمد کی اطلاع پاکر گلڈ لاہور کی جنرل باڈی کے رکن نذر بھنڈار بھی ہمیں ملنے آگئے اور ہماری ملاقات گلڈ پنجاب کی مجلس عاملہ کے رکن بیدار سرمدی سے بھی کروائی گئی۔ اس دوران ہمیں پاکستان رائٹرز گلڈ کی شان رفتہ کو بحال کرنے کی غرض سے چند تجاویز پر غور کرنا پڑاکہ ہمارے لئے یہ موضوع بھی مستقل اہمیت کا حامل بن کر ہمارے گلے پڑا رہتا ہے۔ لیکن پشاور سے چل کر ہمارا لاہور آنے کا مقصد تو جاوید طفیل مرحوم کے لواحقین سے تعزیت تھی سو ہماری بات مرحوم جاوید طفیل کی سوگوار صاحبزادی فرح جاوید سے کروائی گئی۔ ہم نے راہ و رسم دنیا ادا کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کی اور ان کی صاحبزادی کو طفل تسلیاں دینے کے بعد پاکستان رائٹرز گلڈ کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت وہیں سے شروع کردی جہاں اس کا سلسلہ منقطع ہوا تھا ۔ ہم نے پاکستان رائٹرز گلڈ پنجاب کی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے بیدار سرمدی نے ہماری بات کا ٹ کر جواب دیا اور عنقریب ہم دیگر صوبوں کے سیکرٹری صاحبان اور مرکزی مجلس عاملہ کے اراکین کا اجلاس بلا کر گلڈ ٹرسٹ کے مستقبل کے چیئر مین کا انتخاب کریں گے۔ اچھی بات ہے اس سلسلہ میں گلڈ خیبر پختونخوا کی جانب سے جو تجویز پیش کی گئی یا قرارداد منظور کی گئی ہم آپ کو آگاہ کردیں گے اس کے علاوہ ہمیں ٹرسٹیوں اور مرکزی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شمولیت کے لئے آپ کے بلاوے کا انتظار رہے گا تاکہ جنرل کونسل کا اجلاس طلب کرکے گلڈ کی گاڑی کو ٹریک پر لایا جاسکے۔ یہ اور اس نوعیت کی دیگر بہت سی باتیں کرتے ہم بیدار سرمدی کی موٹر کار میں لاہور کی سڑکوں پر گھوم رہے تھے۔ بیدار سرمدی کی ائیر کنڈیشنڈ گاڑی میں راقم السطور کے علاوہ افتخار تشنہ اور نذر بھنڈر بھی موجود تھے۔ ہم نے فاؤنٹین ہاؤس لاہور سے اپنے منشیات زدہ بدبخت بیٹے شہباز کا بدبخت باپ بن کررجوع کرنا تھا اور پھر لاہور کے انارکلی بازار سے لاہور کی سوغات لیکر واپسی کی راہ پکڑنی تھی اور پھر بھول جانا تھا اس درد کو جو دل میں بسا کر رات بھر سفر کرتے راہ ورسم دنیا نبھانے لاہور پہنچے تھے۔ اللہ مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا جیسے رسمی جملے ادا کرنے کی ہمیں عادت سی جو ہوچکی ہے ، سو اس عادت کا اعادہ ہم نے لاہور پہنچ کر بھی کردیا۔ ہائے

تہمت چند اپنے ذمے دھر چلے

جس لئے آئے تھے سو ہم کرچلے

متعلقہ خبریں