Daily Mashriq

بھارت کے خلاف تنہا سینہ سپر کشمیری عوام

بھارت کے خلاف تنہا سینہ سپر کشمیری عوام

مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون کے باوجود مظاہرے اور دھڑا دھڑگرفتاریوں کی پرواہ کئے بغیر نہتے کشمیری خواتین سے لیکر ضعافاء اور نوجوانوں تک کا کرفیو توڑنا اس امر پر دال ہے کہ بھارتی ظلم واستبداد کے باوجود کشمیری بھائی اپنے حقوق وآزادی کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ اس ساری صورتحال میں بزرگ کشمیری رہنما علی گیلانی نے صورتحال کو مختصر اور جامع لفظوں میں بیان کیا ہے کہ کشمیری احتجاج اور بھارتی فوج مارنے کیلئے تیارہیں،بائیس روزسے کشمیر ی عوام کرفیو،ادویات وخوراک کی قلت، محاصرے اور بھارتی فوج کی جانب سے چادر اور چاردیواری کے تقدس کی پامالی کے باوجود بھی مقبوضہ وادی میں آزادی کیلئے بھارت کیخلاف ہر قیمت ادا کرنے کیلئے پوری طرح پرعزم ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں آزاد مبصرین اور میڈیا کو رسائی دینا کجا حزب اختلاف کے قائد راہول گاندھی کوبھی مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہ دی گئی، سرینگر ایئر پورٹ سے واپسی پر راہول گاندھی نے اس امر کا برملا اعتراف کیا کہ کشمیر میں صورتحال نارمل نہیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق قابض فوج تاجروں،انسانی حقوق کے کارکنوں،منتخب نمائندوں، اساتذہ اور چودہ سال تک کے طلبہ کو فوجی جہازوں میں ڈال کر بھارتی جیلوں میں ڈال رہی ہے۔ایک جانب یہ حالات ہیں اور دوسری جانب امت مسلمہ نہ صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں بلکہ دواسلامی ممالک کے سربراہ گجرات کے قصائی کے گلے میں اپنے اپنے ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز کے میڈل ڈال رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی عوام اور کشمیر کی بات کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں کا لب ولہجہ جہاد اور مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کی مدد کا نہیں،افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ تحفظ حرمین کے نام پر ہم جو ایک عرصے تک دراصل خادم الحرمین الشریفین کی حفاظت میں لگے رہے ان کو بھارت سے تجارت بڑھانے کی فکر ہے، مظلوم کشمیری مسلمانوں اور امت مسلمہ کی فکر نہیں۔پاکستانی حکومت نے جو اس سے قبل کم درجے کے اقدام پر بھارت سے آنے والی پروازوں کو فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت واپس لے لی تھی وہ بحال کر دی گئی ہے اور بھارتی وزیراعظم فرانس جاتے ہوئے اسی ہوائی راستے سے گئے۔ ان حالات میں کشمیری بہن بھائیوں کو کسی صلاح الدین ایوبی،محمد بن قاسم اور خالد بن ولید کا انتظار کرنے کی بجائے اپنی حریت اور حقوق وآزادی کی جنگ خود لڑنا ہوگی اور وہ گزشتہ بائیس دنوں سے ثابت قدمی کیساتھ یہ کر بھی رہے ہیں۔ بھارت کو عالمی طور پر انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے لیکن بھارت کو اس کی پرواہ نہیں،عالمی برادری اس سے آگے کچھ کرنے پر آمادہ نہیں۔ کشمیری عوام اب اپنی جنگ تنہا لڑ رہے ہیں ہمیں سوچنا چاہئے کہ اگر خدانخواستہ یہ ڈھال نہ رہے تو پھر ہر اول دستوں کا رخ کس طرف ہوگا بہتر یہ ہے کہ اس کا بروقت ادراک کیا جائے اور ابتداکے اس دور میں کشمیری عوام کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔مقبوضہ کشمیر کی آزادی قربانی اور جہاد کا متقاضی ہے اگر یہ ذمہ داریاں پوری نہ ہوئیں تو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط قائم ہونے کا خطرہ ہے، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی آئین کا متعلقہ آرٹیکل بحال کرنے اور پرانی حیثیت کی بحالی کے بغیر مذاکرات شروع کئے گئے یا کسی فورم پر مقدمہ لے جایا گیا تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ یہ بھارت کے اقدام کو بالواسطہ تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا جس کی کوئی گنجائش نہیں۔

صوبائی حکومت کا ٹیکس نیٹ کیوں نہیں بڑھتا؟

خیبرپختونخوا حکومت کا آمدن میں اضافہ اور ٹیکس وصولی کیلئے پنتیس وفاقی اور صوبائی محکموں سے صارفین کے ریکارڈ کی طلبی ایک مربوط سعی ضرور نظر آتی ہے بشرطیکہ جس مقصد کیلئے تفصیلات حاصل کی جائیں ان کے حصول میں سنجیدگی کا بھی مظاہرہ کیا جائے۔ٹیکس وصولی کے صوبائی ادارے کی کارکردگی اتنی حوصلہ افزاء نہیں کہ اس سے اتنے بڑے پیمانے پر اقدامات کی توقع کی جائے۔ اس قسم کے تجربات ایف بی آر کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً کئے گئے لیکن کسی بڑے سکول کی فیس سلپ کی بنیاد پر ٹیکس نادہندہ شخص سے ٹیکس وصول کم ہی ہوا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف معلومات کا حصول کافی نہیں اصل بات ملی بھگت کے بغیر بلاامتیاز اقدامات کی ہے جس کا تاحال فقدان متعلقہ اداروں کی جانب سے مقررہ ہدف کے حصول میں کبھی نہ ہونے والی کامیابی کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر صوبے میں بڑے بڑے کاروبار اور خدمات سے وابستہ برادریوں ہی سے ٹیکس وصول کیا جائے تو صوبائی محاصل میں خاصا اضافہ ممکن ہوگا۔اگر لاکھوں روپے فیس لینے والی ڈاکٹر برادری اور وکلاء سے خدمات پر ٹیکس وصول کر کے مثال قائم کی جا سکے تو یہ ایک اچھی ابتداء ہوگی۔ جن جن اداروں سے وابستگان کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں ان میں سے بہت سوں سے ٹیکس وصولی کیلئے کسی بڑی کارروائی کی ضرورت نہیں صرف ان کو اس امر کا احساس دلانا ہے کہ اب بغیر ٹیکس دیئے ان کا کاروبار روزگار ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں