Daily Mashriq

جے یو آئی کی قیادت کو ایک مرتبہ پھر غور کرنا چاہئے

جے یو آئی کی قیادت کو ایک مرتبہ پھر غور کرنا چاہئے

جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اکتوبر میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کیلئے اسلام آباد مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرف کے کشمیر کو بچانے کیلئے بھی اس حکومت کا خاتمہ ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کیلئے ہم بھرپور حکمت عملی بنارہے ہیں کہ ایک صورت مشکل ہوگئی تو دوسری کیا اور دوسری مشکل ہوئی تو تیسری صورت کیا ہوگی، ملک کے چپے چپے کو اٹھائیں گے اور اس حکومت کو نہیں رہنے دیں گے۔موجودہ حکومت پر تنقید کے ایک سو ایک مواقع ہیں حکومت کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں لیکن اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر کی صورتحال داخلی معاملات سے کہیں بڑھ کر توجہ کی متقاضی ہے اور ان حالات میں داخلی استحکام اور سیاسی رواداری کی ضرورت ہے۔جے یو آئی(ف) کے امیر برسوں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہ چکے ہیں ان سے زیادہ اس معاملے کی حساسیت کسے معلوم ہوگی وہ اگر دوسروں پر تنقید کی بجائے خود اپنی کارکردگی اور کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے خدمات وپیشرفت کا جائزہ لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا مگر خود احتسابی کی تو ہمارے ہاں روایت ہی نہیں۔ایک ایسے وقت میں جبکہ مشرقی سرحد پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، خواہ وجوہات جو بھی ہوں ملک میں داخلی عدم استحکام اور حکومت کی تبدیلی کیلئے احتجاج اور دبائو بڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ حالات ایسے نہیں کہ دو تین ماہ میں معمول پر آجائیں۔ مقبوضہ کشمیر میں عوام پر ہندومظالم ڈھا رہے ہیں اور علماء حضرات اور سیاستدان اسلام آباد میں اقتدار کی چھینا جھپٹی میں لگ جائیں کیا یہ مناسب ہوگا، اس پر ایک مرتبہ پھر غور کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

قبائلی اضلاع میں بلدیاتی اساس کے قیام میں تاخیر

قبائلی اضلاع میں بلدیاتی نظام متعارف کرانے کے عمل کی سست روی بلکہ حکومت کی سرے سے عدم دلچسپی سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت ان اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے تیار ہی نہیں، علاوہ ازیں بھی صوبائی حکومت نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اس سلسلے میں درکار ضروری تیاریاں ہورہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی اضلاع کے عوام مسائل ان کے مقامی نمائندوں کے ذریعے پست واوسط درجے کی سطح پر حل کیلئے ضم اضلاع میں بلدیاتی نظام کی بنیادی اساس جلد سے جلد قائم کرنے کی ضرورت ہے اس میں جتنی تاخیر ہوگی اتنی ہی دیر سے انضمام کے ثمرات قبائلی عوام کو تاخیر سے ملیں گے۔محکمہ خزانہ فنڈز ریلیز نہ کرے اور ضروری بھرتیاں اور عملہ کی تقرریاں نہ ہوں تو پھر بلدیاتی انتخابات کرائے بھی جائیں تو بے سود ہوگا۔حکومت جتنا جلد ممکن ہو فنڈز اور وسائل کی فراہمی یقینی بنائے اور قبائلی اضلاع میں بلدیاتی نظام کی بنیادی اساس قائم کرے۔

آزادانہ اور جامع تحقیقات میں رخنہ نہیں آنا چاہئے

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور کے امتحانات میں مبینہ طور پر ہونے والی بے قاعدگیوں کے بارے میں تحقیقات کیلئے تین انکوائری کمیٹیوں کا قیام اور انکوائری کمیٹیوں کی جانب سے مختلف النوع تحقیقات کو صرف اسلئے سرد خانے کی نذر نہیں ہونا چاہئے کہ اس کا حکم پہلے دور میں دیا گیا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی عہدیدار کی تبدیلی سے قانون کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کے سابق قائمقام چیئر مین بورڈ کے حکمنامے کو سردخانے کی نذر نہیں ہونا چاہئے تحقیقات کے بعد اگر معاملات درست پائے گئے تو بھی اور اگر نادرست ہوں اور خلاف ضابطہ معاملات سامنے آئے تو اسے سب کے سامنے لایا جائے تاکہ ابہام اور شکوک کی گنجائش نہ رہے۔ تعلیمی بورڈوں کی نہ صرف آسامیاں پرکشش سمجھی جاتی ہیں بلکہ نوازنے اور خوش کرنے کے بھی بڑے مواقع ہوتے ہیں ملی بھگت اور سفارش ورشوت کی لعنت بھی معمولات کا حصہ بتائے جاتے ہیں ۔بہرحال ان معاملات سے قطع نظر تعلیمی بورڈوں میں شفافیت اور دیانتداری کی خاص طور پر ضرورت اسلئے بھی ہے کہ اس کے معیاراور دیانت یا خدانخواستہ بد دیانتی سے ہماری نسل اور ان کے مستقبل کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ تعلیمی بورڈوں کے معاملات کی جامع تحقیقات اور شفافیت یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری اور فرض ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ پشاور تعلیمی بورڈ کے معاملات کی انکوائری آزادانہ اور شفاف طریقے سے مکمل کی جائے گی اور بد عنوان عناصر کا قلع قمع کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں