Daily Mashriq

پلاننگ کا فقدان

پلاننگ کا فقدان

کسی کام کو کرنے سے پہلے اس کا پروگرام بنانا، اہداف و مقاصد طے کرنے کے ساتھ طریقہ کار اور وسائل متعین کرنا، اس کے فوائد و نقصانات سے واقفیت و معرفت کام کو آسان، محکم اور کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پلاننگ و منصوبہ بندی کی ہر میدان میں بڑی اہمیت ہے، خواہ وہ سیاسی ہو یا اقتصادی، علمی ہو یا عملی، دینی ہو یا دنیاوی ، انتظامی ہو یا دعوتی۔ عصر حاضر کے تقاضوں نے اسے مستقل بالذات فن کا درجہ عطا کردیا ہے، یونیورسٹیوں ، مینجمنٹ کے اداروں ، سرکاری محکموں میں اس نام سے مستقل شعبے قائم ہیں، یہاں تک کہ پرسنیلٹی ڈویلپمنٹ و گھریلو زندگی میں بھی اس طریقہ کار کی تربیت ضروری سمجھی جاتی ہے، نیز یہ ایک بامقصد ترقی یافتہ منظم قوم کا شعار بھی ہے۔

اسلام زندگی کا مکمل نظام ،محکم طریقہ، جامع منہج ہے، اس کی ہر تعلیم میں پلاننگ و منصوبہ بندی نمایاں طور پر نظر آتی ہے چنانچہ اگر خالق کائنات کے نظام کون ومکاں پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت رواں دواں ہے، جس میں نہ کوئی لچک ، نہ ہی کوئی جھول ہے، ''ہم نے ہر چیز پہلے سے طے شدہ منصوبہ سے پیدا کی''۔ ذرا چاند و سورج کے نظامِ محکم کا جائزہ لیجیے،یہی کلینڈر وحساب کا ذریعہ ہے،اسی پر مختلف سائنسی شعبوں کا انحصار ہے، اگر اس محکم الٰہی سسٹم میں استقرار نہ ہوتا تو دنیا اور قوانین عالم کا استحکام کیسے ممکن ہوتا؟کائنات میں ہر چیز ایک محکم نظام ومنصوبہ بندی سے رواں دواں ہے، تخلیق انسانی بھی اللہ تعالیٰ کی مکمل منصوبہ بندی کی علامت ہے۔'' پلاننگ کے حوالے سے ہم اکثر وبیشتر حکومت کو کوستے رہتے ہیں لیکن کیا ہم نے اپنے حصے کا کام کیا ہے ،کیا ہر فرد اورخاندان کی سطح پر ہم نے متوازن معاشرے کی پلاننگ کر رکھی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ مسلم اُمہ آج علمی میدان میں دنیا سے بہت پیچھے ہے یہی وجہ ہے کہ ترقی کی راہ میں بھی ہم دنیا سے پیچھے ہیں ،کہنے کی حد تک 57 اسلامی ممالک ہیں جن کی ڈیڑھ ارب سے زیادہ آبادی ہے ،آبادی کے لحاظ سے پاکستان انڈونیشیا کے بعد اسلامی دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن ترقی کے اعتبار سے ہمارا شمار پسماندہ ممالک میں ہوتا ہے ،ایسا کیوں ہے کبھی ہم نے غورکیا ،کبھی ہم نے اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی ؟ماہرین معیشت آج اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ آبادی اور ترقی (Development) میں گہرا تعلق ہے، ترقی پذیر ممالک میں کثرت آبادی کی وجہ سے وسائل سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہو رہا ہے اور ہم اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہر سال مختلف تعمیراتی کاموں پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں لیکن پھر بھی مطلوبہ ترقی نہیں ہو رہی ہے اور نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بحیثیت قوم ہم کسی شعبے میں بھی خود کفیل نہ ہوسکے، ہم زندگی کی ترقی کے ہر میدان میں بہت پیچھے ہیں۔کسی ملک کا حقیقی سرمایہ اس کی خواندہ اور باہنر افرادی قوت ہوتی ہے۔ لیکن جن ملکوں میں آبادی بغیر منصوبہ بندی کے بڑھتی رہتی ہے، وہ ملک ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ قومی ترقی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت حقیقی افرادی قوت کے سرمائے کی دستیابی صرف 28 فیصد ہے جب کہ 72 فیصد افراد خاطر خواہ طور پر ملک کی معاشی ترقی میں حصہ نہیں لے رہے ہیں،روزگار کے مواقع کم ہونے کی وجہ سے بیشتر افراد معاشی بدحالی کاشکار ہیں۔علمی میدان اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں نام پیدا کرنے کی بجائے آبادی میں بے پناہ اضافہ کے سبب اگر ہم اپنے گردوپیش پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں صرف گندگی کے ڈھیر، ٹوٹی سڑکیں، گندی آبادیاں، دھوئیں کے بادل اور لوگوں کا ہجوم نظر آتا ہے۔ پینے کا صاف پانی بھی نہیں اور ہوا میں آلودگی ہونے کے سبب سانس تک لینا مشکل ہوگیا ہے۔ یہ پسماندہ بیماریوں کا پیش خیمہ ہے جبکہ زندگی کے دوسرے شعبے میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کرے اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پاکستان کا شمار ہو تو پھر کثرت آبادی کے بجائے ہمیں علمی دنیا میں مقام پیدا کرنا ہو گا۔ ملکی ترقی کے لئے کام کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے اس کے لئے عوام اور حکومت دونوں کا باہمی تعاون لازمی ہے۔چین کے بارے مشہور تھا کہ وہ محض سستی لیبر مہیا کرنے والا ملک ہے، لیکن اب یہ تاثر ختم ہو رہا ہے۔ چین میں دو ملین ایپلیکیشن ڈویلپرز موجود ہیں۔ چین کے لوگ انجینئر نگ اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور بہترین کاروباری سمجھ کے مالک ہیںاس کے برعکس پاکستان کی آبادی بے روزگاری میں اضافہ اورتخریب کاروں کا آلہ کارکا باعث بن رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موجودہ آبادی کو اور مستقبل کے سٹیٹیکل ڈیٹا کو سامنے رکھ کر نوجوان آبادی اور لامحدود وسائل کی بنیاد پر تربیت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کریں۔اگر نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت کا بہتر انتظام نہ ہو، انہیں ریاست کے معاشی نظام کا کارآمد حصہ نہ بنایا جا سکے تو یہ یہ بڑھتی ہوئی آبادی کئی مسائل کو جنم دی سکتی ہے مگر اسی بڑھتی ہوئی آبادی کی مناسب تعلیم اور تربیت کی تھنک ٹینکس اور ریسرچ سینٹرز کے ذریعے مؤثر پلاننگ کر لی جائے تو ان مسائل سے نمٹنا بھی آسان ہو جائے اور ہم اپنی افرادی قوت کو مثبت طور پر ملک کی ترقی کے لئے بھی استعمال کر سکیں گے۔

متعلقہ خبریں