Daily Mashriq

اشتہارتلاش گمشدہ اور تضادات خیال

اشتہارتلاش گمشدہ اور تضادات خیال

تلاش گمشدہ جاری ہے،اب تک تو اس میں کامیابی نہیں ملی اس لیئے جس طرح بعض لوگ اپنی گمشدہ متاع کی تلاش کیلئے اخبارات میں اشتہارات چھپوادیتے ہیں اسی طرح میں نے بھی یہ سوچا کہ کیونکہ اعلان گمشدگی کے حوالے سے کالم لکھ کر کرمفرمائوں کی مدد حاصل کی جائے، اب آپ پوچھیں گے کہ ہماری کون سی چیز گم ہوگئی ہے،تو جناب میں اس''پیج'' کی تلاش میں ہوں جس کے حوالے سے دعوے کئے جاتے ہیں کہ فلاں اور فلاں ایک پیج پر ہیں،یہ دعوے کبھی حکومتی سطح پر کئے جاتے ہیں اور کبھی حزب اختلاف والے اس نوع کی باتیں کرتے ہیں،یعنی جیسے کہ حکومت او راسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، فلاں مسئلے پر حزب اختلاف کی جماعتیں ایک پیج پر ہیں،البتہ ایسا شاذونادرہی ہوتا ہے کہ کبھی حکومت اور اپوزیشن کسی قومی مسئلے پر ہی سہی ایک پیج پر ہونے کا تاثردے دیتی ہوں، بلکہ ان دونوں میں تو صورتحال وہی ہوتی ہے جیسے کہ سابق آمر جنرل ضیاء الحق کے حوالے سے ایک لطیفہ مشہور ہوا تھا اور لطیفے کی تفصیل کے مطابق ایک بار ضیا ء الحق نے اپنے قریبی احباب کی محفل میں اپنی آنکھوں کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ دیکھو میری آنکھیں بھارتی اداکارہ ہیما مالینی سے کتنی ملتی جلتی ہیں،تب ہیما کی خوبصورتی کی بڑی دھوم تھی، سب نے واہ واہ کی مگر ایک دو خاموش تھے،ان میں سے ایک نے سرگوشی میں دوسرے سے کہا،موصوف کی آنکھیں آپس میں نہیں ملتیں تو ہیما مالینی کی آنکھوں سے مشابہت کیسے دی جا سکتی ہے،خیر بات ہورہی تھی ایک پیج پر ہونے کے دعوئوں کی،تو ایسا لگتا ہے کہ اب وہ پیج کہیں گم ہو چکا ہے،کیونکہ خود حکومت کی صفوں میںایک پیج پر ہونے کے دعوے اس کم بخت پیج کے کم ہوجانے کی وجہ سے ٹھکانہ تلاش کر رہے ہیں۔اس لیئے اب یہ دعویٰ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمودوایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

اب یہی دیکھ لیں،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ امارات مسئلہ کشمیر پر ہمارے ساتھ ہے،معاملے کو جذبات سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیئے۔جبکہ فواد چوہدری نے دو متضاد باتیں کی ہیں ایک جانب فرماتے ہیں کہ مودی کو ایوارڈ ملنے سے مایوسی ہوئی اور اگلی ہی سانس میں کہا کہ امہ نہیں سرحدیں مقدس ہیں،یعنی موصوف کے خیالات بھی ضیاء الحق کی آنکھوں کی طرح لگتے ہیں جو آپس میں بھی نہیں ملتے چہ جائیکہ انہیں شاہ محمود قریشی کے خیالات کے ساتھ ایک پیج پر رکھا جائے،کہ پیج ہی گمشدگان کا حصہ بن چکا ہے،ادھر سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے بھی گزشتہ روز یہ کہہ کہ اپنا دورہ امارات منسوخ کردیا تھا کہ انہیںمودی کے دورے کے تناظر میں وہاں جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا،گویا وہ پیج اب تک بازیافت نہیں ہوسکا جس پر اک پر چم کے سائے تلے ہم ایک ہیں کہ نغمے گانے کا مظاہرہ کیا جا سکتا تھا۔اس بے چارے یا کم بخت''پیج'' کی گمشدگی سے تو صورتحال پر ڈاکٹر اظہاراللہ اظہار کے الفاظ میں یوں تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ

آئینے لٹ گئے،چرانیاں آباد رہیں

آنکھ میں شہر کی ویرانیاں آباد رہیں

بات ویرانیوں تک آپہنچی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ افغان جنگ کے نتیجے میں ان ویرانیوں کو کچھ لوگ بھول چکے ہیں جو نہ صرف افغان عوام کا مقدر بن چکی ہیں بلکہ جن کے نتائج بھی آج تک بھگت رہے ہیں،اس لیئے گزشتہ روزجماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے ایک بار پھر جہاد جہاد کے نعرے بلند کرنا شروع کردیئے ہیں،یقیناً جہاد اسلام کا ایک جزو لاینفک ہے،مگر اس کے اعلان کیلئے شرائط بھی ہیں جو مجھ جیسے ہیچمدان سے زیادہ مذہبی اکابرین بہتر طور پر جانتے ہیں اور جس میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ اس کا اعلان حکومت وقت کی ذمہ داری ہے''جہاد افغانستان'' میں جن مذہبی جماعتوں نے اس بیانیہ کو لیکر نہ صرف پاکستان کے ہر شہر،قصبے،گائوں،قریئے،یہاں تک کہ محلے محلے مساجد میں چندہ مہم چلائی اور لوگوں کو جہاد کیلئے تیار کیا خود ان کے بچے امریکی اور یورپی ممالک کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دیتے رہے،ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے جہاد کشمیر کے ایک اہم کمانڈر سید صلاح الدین سے ایک ٹی وی انٹرویوں میں جب یہ پوچھا گیا کہ ان کے ساتھ بیٹوں میں سے کتنوں نے مقبوضہ کشمیر جاکر برہان وانی اور دیگر نوجوانوں کی طرح عملی جہاد میں حصہ لینے کیلئے بندوق اٹھائی ہے توان کی ایک لمبی اور پراسرار چپ نے لوگوں کو حیرت میں گم کردیا تھا،اس انٹرویوں کے حصے سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکے ہیں۔اس لیئے اس قسم کی جذباتی نعرہ بازی پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ

ترے سرکس پہ پہلے رش بہت تھا

مگر اب شہر اکتا یا ہوا ہے

جہاد کے نعرے بلند کرنا آسان مگر اس کے تمام پہلوئوں پر غور کرنا بھی ضروری،اب وہ دور نہیں رہا جب افغان جہاد کی طرح روسی افواج کے خلاف''کمک''ملے گی اور راکٹوں کی بھر مار سے پانسہ پلٹ دیا جائے گا،اب تو نیو کلیئر ٹیکنالوجی اور سیٹلائیٹ کا دور ہے،بقول جنرل مشرف پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کس سمت سے''ایٹمی میزائل'' ہٹ کرنے آگیا،اس کم بخت سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی نے خفیہ سے خفیہ کارروائی کو بھی بڑی طاقتوں کی دسترس میں دیدیا ہے اور وہ ہم سے زیادہ بھارت کے قریب ہیں اس لیئے اسے پہلے ہی سے خبردار کیا جاتا رہے گا،جبکہ بھارتی وزیر نے دھمکی دیدی ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کا وقت آگیا ہے،ہم ہر جانب سے دشمنوں کے حصار میں آچکے ہیں اس لیئے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے جذبات سے نہیں تدبر سے کام لینے کیلئے ہمیں اس پیج کو تلاش کرنا پڑے گا جس پر ہم اکٹھے ہو کر کوئی لائحہ عمل طے کر سکیں۔

زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں

کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

متعلقہ خبریں