Daily Mashriq

منٹو کے ''ٹوبہ ٹیک سنگھ'' کی پھر شامت

منٹو کے ''ٹوبہ ٹیک سنگھ'' کی پھر شامت

برصغیر کی تقسیم کے دو یا تین سال بعد یہ فیصلہ ہوا کہ جس طرح سولین قیدیوں کا تبادلہ کیا گیا اور مسلمان قیدیوں کو پاکستان اور باقی قیدیوں کو انڈیا بھیجا گیا کچھ اسی طرح پاگل خانوں کے پاگلوں کو بھی مذہبی لحاظ سے کہ جس طرف ان کے لواحقین رہتے ہوں بھیج دیا جائے۔ اس فیصلے کی کو ئی تک بنتی تھی یا نہیں لیکن ایک دن مقرر کردیا گیا اور پھر قیدیوں کو اپنے اپنے ملک بھیج دیا گیا۔اس موقع کے تناظر میں شہرہ آفاق ناول نگار سعادت حسن منٹو نے ایک افسانہ لکھا جس کا عنوان تھا''ٹوبہ ٹیک سنگھ'' جس میں ایک کردار ایک سکھ قیدی بشن سنگھ کا تھا جوکہ پندرہ سالوں سے اس پاگل خانہ میں تھا' وہ کبھی بھی کسی پاگل کے ساتھ کسی بات پر الجھا نہیں تھا اور نہ ہی کبھی دوسرے پاگلوں کی طرح لڑائی جھگڑا کرتا تھا بس وہ ہر وقت اپنے گائوں ٹوبہ ٹیک سنگھ کو یاد کرتا رہتا تھاکہ جہاں اس کی زمینیں تھیں باقی پاگلوں نے اس کا نام ہی ٹوبہ ٹیک سنگھ رکھ دیا تھا۔پندرہ سال تک پرسکون رہنے والے کا سکون اس وقت غارت ہوگیا کہ جب تقسیم کی بات اس تک پہنچی اور ساتھ یہ بھی کہ کچھ علاقے بھارت میں جارہے ہیں اور کچھ پاکستان میں رہ جائیں گے یوں وہ ہر آنے جانے والے ، پاگل خانہ کے عملہ بلکہ پاگلوں تک سے پوچھتا تھا کہ انڈیا پاکستان کی تقسیم کے بعد اس کا گائوں ٹوبہ ٹیک سنگھ اب کون سے ملک میں ہے چونکہ ابھی ٹھیک سے کسی کو پتہ نہیں تھا لہٰذہ کوئی ٹھیک طرح سے اس کی تسلی نہ کرسکا اور بالاخر اسے پتہ چل ہی گیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے چونکہ وہ سکھ تھا اور اس کے سارے کے سارے رشتہ داربھارت چلے گئے تھے اسی لئے اسے بھی بھارت جانا تھا لیکن منتقلی والے دن اس نے بھارت جانے سے انکار کردیا اس کا کہنا تھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے اور میری زمینیں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہیں تو میں انڈیا کیوں جائوں۔پھر وہ عین اس جگہ گر گیا جہاں اس کے ایک طرف کنڈہ تار کے پرے پاکستان تھااور دوسری طرف کنڈہ تار کے پرے بھارت تھا دونوں ملکوں کے بالکل درمیان ،وہ جہاں گرا تھا اسے نو مین لینڈ کہتے ہیں۔برصغیرکے اس عظیم خطہء پنجاب کوایک بار تقسیم ہوئے پچاس سال سے زائد کاعرصہ گزر نے کے بعد اب پھر تقسیم کی باتیں ہورہی ہیں۔سیاسی سماجی اور ثقافتی حلقوں نے اب سے زور وشور سے علیحدہ کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ کوئی اسے سرائیکی صوبہ کہتا ہے اور کوئی اسے جنوبی پنجاب سے پکارتا ہے ،اس موقع پر ہر کوئی اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اس خطہ کی پھر تقسیم کے درپے ہوا ہے ۔کوئی سیاسی رہنما تو اپنی سیاسی پارٹی قیادت تک کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے اور بس پنجاب کی تقسیم کا راگ الاپ رہے ہیں گویا اب کی بار تو اس کے دو ٹکڑے کر کے ہی دم لیں گے۔ جہاں اس خطہ کے اپنے باسی اس تقسیم کے لئے طرح طرح کی تاویلیں گھڑ رہے ہیں وہاں دوسرے صوبوں کے سیاسی رہنما بھی بغیر سوچے سمجھے حمایت کررہے ہیں ۔اس موقع پر مرکز اور پنجاب میں حکمران جماعت کے وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کہ جن کا تعلق بھی اسی نئے بننے والے صوبہ سے ہے تو یہ عزم لے کر حکومت میں آئے ہیں۔اگر ہماری ذاتی رائے لی جائے تو ہم اس نئے صوبہ کے بنائے جانے کے مخالف بھی نہیں او ر حمایتی بھی ہیں اگر بن جائے تو اس طرح سے جہاں جنوبی پنجاب کی پسماندگی کے خاتمے میں مدد ملے گی وہاں دیگر چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی بھی ختم کرنے کا سامان بھی ہوگا کیونکہ اکثر اوقات چاہے وہ پانی کی تقسیم کا تنازع ہو یا اختیارات کی تقسیم کا ہر بار چھوٹے صوبوں کو گلہ رہتا ہے کہ پنجاب زیادہ لے لیتا ہے۔ یہاں یہ بات تو بارہا کہی جاتی ہے کہ پنجاب بڑے بھائی کا کردار اداکررہا ہے مگر چھوٹے صوبوں کی احساس محرومی ہے کہ بڑھتا ہی جاتا ہے پنجاب کی اس تقسیم سے یہ صوبہ بھی قدرے ان صوبوں کے برابر آجائے گا۔ یوں پانی کی تقسیم کا مسئلہ ' مرکز میںعددی برتری اور دیگر کئی مسائل کا حل نکل آئے گا۔ ہمیں نہ تو سعادت حسن منٹو کے متنازع افسانہ نگار ہونے میں حصہ لینا ہے اور نہ ہی ہمیںپنجاب کی اس تقسیم کے کوئی منفی پہلو ڈھونڈنے ہیں ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہر پاکستانی کو اس کا پوراپورا حق ملے اور کسی کوکم یا زیادہ ملنے پر کسی دوسرے کو انگلی اٹھانے کی ضرورت نہ رہے۔پنجاب کی تقسیم کے ہم حق میں ہیں تو مخالف بھی ہیں کہ اگر سات دہائیوں تک یہ بڑے بھائی کا کردار کرتا رہا ہے تو پھر اب کیا افتاد آن پڑی ہے کہ ہم نے اسے ہر حال میں تقسیم کرناہے او روہ بھی لسانی بنیادوں پر ۔لیکن اس سب باتوں سے بالا تر اب کی تقسیم میں ٹوبہ ٹیک سنگھ ایک بار پھر متاثر ہونے جارہا ہے اور ہمیں تو ڈر ہے کہ پھر کوئی ٹوبہ ٹیک سنگھ نامی سکھ یابشن سنگھ جو پہلے پاگل نہیں تھا اب پاگل ہوجائے اور وہ جنوبی اور شمالی پنجاب کی بجائے ''نو مین لینڈ '' میں پڑے رہنے کو ترجیح دے۔

متعلقہ خبریں