Daily Mashriq

امریکا، افغان حکومت اور فورسز کی مدد جاری رکھے گا، زلمے خلیل زاد

امریکا، افغان حکومت اور فورسز کی مدد جاری رکھے گا، زلمے خلیل زاد

امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے افغان امن مذاکراتی عمل زلمے خلیل زاد نے ان رپورٹس کو مسترد کردیا ہے جس میں طالبان کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ معاہدے کے مطابق امریکا، افغان حکومت اور اس کی فورسز کی مدد نہیں کرے گا۔

سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک جاری پیغام میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ‘رائٹرز کی رپورٹ میں 2 نامعلوم طالبان رہنماؤں کے حوالے سے کہا گیا کہ معاہدے کے مطابق امریکا، افغان حکومت اور فورسز کی مدد بند کردے گا، جس میں صداقت نہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو بھی حق حاصل نہیں کہ وہ اشتہارات کے ذریعے کسی کو بھی دھمکی دے یا دھوکہ دے۔

امریکی نمائندہ خصوصی کا اس ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ‘میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ہم اب افغان فورسز کا دفاع کررہے ہیں اور ہم طالبان سے معاہدے کے بعد اسے جاری رکھیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ تمام گروہوں نے تسلیم کیا ہے کہ افغانستان کا مستقبل افغانستان میں اندرونی مذاکرات کے ذریعے طے کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکا کے نمائندہ خصوصی نے رائٹرز کی جس رپورٹ کا ذکر کیا ہے اس میں خبر رساں ادارنے نے 2 طالبان کمانڈرز کے بیانات کو رپورٹ کا حصہ بنایا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ان طالبان کمانڈرز میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ‘امکان ہے کہ معاہدہ اس ہفتے میں طے پاجائے گا، جس کے تحت افغان فورسز کی فضائی مدد کرنے والی امریکی فضائیہ، طالبان پر حملے نہیں کرے گی اور جنگجو امریکی فورسز پر حملے نہیں کریں گے'۔

مذکورہ طالبان کمانڈر نے بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا تھا کہ معاہدے کے تحت امریکا، افغان حکومت کی حمایت بھی ترک کردے گا، ‘معاہدے کے بعد جنگجوؤں کے ساتھ جنگ میں امریکا، افغان حکومت اور ان کی فورسز کی مدد کے لیے نہیں آئے گا’۔

رپورٹ میں ایک اور طالبان کمانڈر نے ان رپورٹس کو مسترد کیا جن میں کہا جارہا تھا کہ امریکی مذاکرات کار طالبان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ کابل کی حکومت سے مذاکرات کریں اور جنگ بندی کا اعلان کریں۔

طالبان کمانڈر کا کہنا تھا کہ ‘ہم افغان حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے اور طاقت کے ذریعے اقتدار حاصل کریں گے'۔

گزشتہ ہفتے افغانستان میں 18 برس سے جاری جنگ کے خاتمے اور قیامِ امن کے سلسلے میں افغان طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے مفاہمتی عمل میں غیر ملکی افواج کے انخلا کی مدت پر اتفاقہوجانے کے حوالے سے رپورٹ سامنے آئی تھی۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بتایا تھا کہ ’انخلا کے وقت کے حوالے سے ہم سمجھوتے پر پہنچ چکے اور اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار کے حوالے سے بات چیت کی جارہی ہے‘۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور کے دوسرے روز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہماری عمومی گفتگو ہوئی اور کل ہم عملدرآمد کے بارے میں بات چیت کریں گے‘۔

خیال رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امریکی افواج کے انخلا، جنگ بندی، بین الافغان مذاکرات اور افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت کے حوالے سے بات چیت کے 8 ادوار مکمل ہو چکے ہیں۔

تاہم اب بھی طالبان اشرف غنی کی حکومت کو ماننے سے انکاری ہیں البتہ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ افواج کے انخلا کے ٹائم فریم پر سمجھوتہ ہونے کی صورت میں وہ امن معاہدے کے لیے بین الافغان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ واشنگٹن، طالبان کے ساتھ یکم ستمبر تک معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسی ماہ افغانستان میں صدارتی انتخاب بھی ہو گا، جبکہ امریکی صدارتی انتخاب 2020 میں ہو گا۔

متعلقہ خبریں