Daily Mashriq

پرائمری اسکولوں میں اردو زبان کو میڈیم بنانے کی حمایت، سروے

پرائمری اسکولوں میں اردو زبان کو میڈیم بنانے کی حمایت، سروے

ماہرین کے مطابق کلاس رومز میں ہدایات کے لیے اردو کے استعمال سے طالب علموں کو رٹ کر یاد کرنے سے نجات ملے گی

لاہور: ملک میں پرائمری اسکول کے اساتذہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا ماننا ہے کہ کلاس رومز میں ہدایات کے لیے اردو زبان کے استعمال سے طالب علموں کو رٹ کر یاد کرنے سے نجات ملے گی اور ان کی چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

پنجاب حکومت نے حال ہی میں اعلان کیا کہ صوبے کے 22 اضلاع میں سروے کی بنیاد پر اسکول کی پرائمری کلاسز میں آئندہ تعلیمی سال سے تعلیم کے میڈیم کو انگریزی سے اردو میں تبدیل کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے تعلیمی کنسلٹنٹ سر مائیکل باربر سے طویل مشاورت کے بعد عوامی اسکولوں میں انگریزی کو ہدایات کے لیے میڈیم کے طور پر استعمال کو متعارف کرایا تھا۔

واضح رہے کہ حکومت کو انرولمنٹ مہمات میں ہدف حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اور بڑی تعداد میں بچے اسکول نہیں جارہے ہیں۔

موصول ہونے والی تحقیقی دستاویزات میں بتایا گیا کہ ہدایات کے لیے میڈیم کے طور پر مادری زبان کے استعمال سے سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

تحقیق کے دیگر انکشافات میں بتایا گیا کہ پاکستانی اسکولوں میں صرف انگریزی کو ہدایات کے لیے میڈیم کے طور پر استعمال سے بچوں کو انگریزی سیکھنے میں مدد نہیں مل رہی، اس کے لیے ایسے اساتذہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو انگریزی زبان میں مہارت رکھتے ہوں اور اسکول کے اندر یا باہر زبان کے استعمال کا وسیع تر تجربہ رکھتے ہوں۔

ان اہم امور کی غیر موجودگی کی وجہ سے بچوں کو انگریزی کے سبق کو رٹ کر یاد کرنا سکھایا جاتا ہے۔

حال ہی میں مکسڈ انڈیکیٹرز کلسٹر سروے اور سالانہ تعلیمی رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ انگریزی کو ماضی میں میڈیم کے طور پر استعمال کے باوجود پنجاب کے 50 فیصد لڑکے اور لڑکیاں انگریزی کے بنیادی الفاظ بھی پڑھ نہیں سکتے تھے۔

جنوبی افریقہ میں کی گئی حالیہ تحقیق جس میں پرائمری اسکول کے وسیع تر ڈیٹا کا استعمال کیا گیا تھا، میں انکشاف ہوا کہ ابتدائی کلاسز میں مادری زبان میں ہدایات سے چوتھی، پانچویں اور چھٹی جماعت میں انگریزی کو سمجھنے میں بھی بہتری آتی ہے۔

یونیورسٹی آف ایجوکیشن کے وائس چانسلر رؤف اعظم نے بتایا کہ انہوں نے ہزاروں اساتذہ کی تربیت کی ہے تاہم تربیت کے باوجود ان کی انگریزی کی صلاحیت بہتر نہیں ہوسکی۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی و بین الاقوامی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تعلیم، بالخصوص پرائمری تعلیم کو مادری زبان میں دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 'حکومت کا اسکولوں کے میڈیم کو انگریزی سے اردو میں تبدیل کرنے کا فیصلہ بہتر ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالب علموں کو مادری زبان میں ہدایات دیے جانے سے ان کے مختلف مضامین کے حوالے سے اصول وضع ہوں گے اور انگریزی کو بھی ایک مضمون کی طرح پڑھایا جاسکے گا۔

متعلقہ خبریں