Daily Mashriq


سی پیک پر بار بار تحفظات کا مخمصہ

سی پیک پر بار بار تحفظات کا مخمصہ

صوابی میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک جانب چائنا پاکستان اقتصادی راہداری کی تعریفیں کیں تو وہیں چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وفاقی حکومت پر شدید تنقید بھی کی۔عمران خان نے کہا کہ سی پیک سے ہمارے بچوں کا مستقبل سنور جائے گا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سی پیک پر مسئلہ چین سے نہیں بلکہ وفاقی حکومت سے ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں وعدہ کیا تھا کہ سی پیک میں مغربی روٹ بنے گا اور خیبر پختونخوا کو فائدہ ہوگا لیکن اب پتہ چلا کہ خیبر پختونخوا کو سی پیک کا حصہ نہیں مل رہا ۔عمران خان نے نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں آپ نے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیا تھا اور 2016 تک کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ معاہدہ کیا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ تینوں چھوٹے صوبے وفاقی حکومت سے مطالبہ کریں کہ جو بھی سی پیک کے معاہدے ہیں وہ ہمیں دکھائے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک میں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو ان کا حق ملنا چاہیے کیوں کہ جب ناانصافی ہوتی ہے تو انتشار ہوتا ہے۔تحریک انصاف کے قائد عمران خان اور دیگر قائدین کی جانب سے صوابی جلسہ میں اقتصادی راہداری کو موضوع بنانا ان کی سیاسی ضرورت تو ہوگی لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے اور جو سوالات اٹھائے ہیں اس پر وفاق کی جانب سے خاموشی یا پھر نظر انداز کرنے کی پالیسی درست نہ ہوگی۔ تحریک انصاف سی پیک کے مسئلے کے علمبردار کے طور پر صوبے میں ایک قوم پرست جماعت کی طرح صوبے کی نمائندگی ضرور کرتی دکھائی دیتی ہے لیکن دوسری جانب مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں وزیر اعظم کو بالمشافہ ملاقات میں چاروں وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں اس حوالے سے ایجنڈے سے ہٹ کر متوجہ کرنے کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے سعی کیوں نہ کی' یہ سوال شبہات کا باعث ہے۔ ہمارے تئیں یہ ایک مناسب موقع تھا جسے ضائع کردیاگیا۔ سی پیک کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے صوابی کے جلسے میں کیا یقینا وہ صوبے کے حقوق کے حوالے سے اہم تھے۔ موقع و مناسبت کے اس تفاوت پر اٹھنے والے سوالات سے قطع نظر اقتصادی راہداری میں مغرب روٹ کی تعمیر کا جو دعویٰ وفاقی حکومت کرتی ہے اس کی صراحت سے وضاحت نشاندہی اور اس روٹ کے ساتھ صنعتی زونز اور دیگر مواقع و سہولیات کی دستیابی کا تفصیلی جواب دے کر صوبے کے عوام کی تشفی اور سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کی سعی کیوں نہیں کی جاتی اور اس معاملے کو عوام کے لئے معمہ بلکہ شکوک و شبہات اور بد اعتمادی کا ذریعہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت اور حکومت ہی کو اس معاملے پر خدشات اور تحفظات نہیں پورے صوبے کے عوام مخمصے کا شکار ہیں۔ انہیں اس امر کی سمجھ نہیں آتی کہ سی پیک میں بھارت کو تو شمولیت کی پیشکش کی جاتی ہے مگر اپنی صفوں سے اٹھنے والی آوازوں کا جواب نہیں دیا جاتا۔ یادرہے کہ سدرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے 20 دسمبر کو کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب میں انڈیا کو پیشکش کی تھی کہ وہ ایران اور افغانستان اور خطے کے دیگر ممالک کی طرح سی پیک میں شامل ہو اور دشمنی ختم کرے۔اس حوالے سے جب چینی دفترِ خارجہ کی ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اور چین کے درمیان انڈیا کو اس منصوبے میں شامل کرنے پر کوئی مشاورت ہوئی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ میں سوچ رہی ہوں کہ کیا انڈیا پاکستانی جنرل کی اس پیشکش کو خیرسگالی کے طور پر لے گا یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے پاک چین اقتصادی راہداری باہمی تعلقات کے فریم ورک کی بنیاد ہے ۔ منصوبے سے نہ صرف دونوں ملکوں میں معاشی اور سماجی ترقی ہو گی بلکہ اس سے علاقائی تعلقات، امن، استحکام اور خوشحالی میں بھی کردار ہوگا۔این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان کا بیان گلوبل ٹائمز کے ان آرٹیکلز کے بعد آیا ہے جس میں انڈیا کو یہ تجویز دی جا رہی ہے کہ وہ اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی تجویز کو قبول کرے۔سدرن کمانڈ کے سربراہ کی زبانی بھارت کو پیشکش جہاں خاموش سفارتکاری کا خاتمہ ہے وہاں اس امر کا واضح اظہار ہے کہ سی پیک میں بھارت کی شمولیت کی پاک فوج بھی خواں ہے۔ ایک طرف جہاں اتنی بڑی پیشکش ہو رہی ہے وہاں دوسری جانب خود اپنے ملک میں اس حوالے سے محرومیوں کی شکایت ملک و قوم کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔اس حوالے سے دو رائے نہیں کہ سی پیک 46ارب ڈالر کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس پر دنیا کی تیس فیصد آبادی کا انحصار ہوگا۔ اگر اسے سیاسی نہ بنایا جائے اور حکمران تعصبات اور اقرباء پروری کی بجائے ملکی مفادات کے مطابق اس کی موزونیت ' مواقع اور ثمرات کی تقسیم پر اکتفاء اور اتفاق کریں تو اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔

متعلقہ خبریں