Daily Mashriq


شیڈول فور میں شامل افراد کا معاملہ

شیڈول فور میں شامل افراد کا معاملہ

انسداد دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کی جانب سے شیڈول فور میں شامل افراد کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کے لئے عوامی نمائندگی ایکٹ 1976ء اور 1997ء میں ترمیم کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔ مشتبہ اور مشکوک عناصر کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنے کو یقینی بنانے کے لئے قوانین میں جس قدر سختی لانے کی ضرورت ہے اس ضرورت کو پورا کیا جائے۔ ہمارے تئیں صرف قوانین بنانا ہی کافی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد میں سنجیدگی اور کسی مصلحت کو آڑے آنے نہ دینا بھی ضروری ہے۔ ان معاملات سے قطع نظر اگر انتخابات کے عمل کا اگر جائزہ لیا جائے۔ انتخابات میں اگر محولہ عناصر براہ راست امیدواروں کے ذریعے حصہ نہ بھی لیں تو بالواسطہ ان کی شرکت و شمولیت ضرور ہوتی ہے بلکہ سیاسی جماعتیں ان عناصر سے نشست میں کامیابی کے لئے حمایت و مدد طلب کرتی ہیں۔ اس طرح یہ عناصر براہ راست سیاسی دوڑ سے الگ رہ کر بھی سیاسی عمل کا حصہ ضرور بنتے ہیں اور کامیاب امیدوار ان کا مرہون منت بن جاتا ہے۔ علاوہ ازیں بھی ان عناصر کی اس قدر اہمیت ضروری ہوتی ہے کہ ان کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے تئیں جتھے اور گروپ کی صورت میں ان عناصر کا اپنی جگہ کسی دوسرے کو امیدوار نامزد کرکے ان کی کامیابی کے لئے کوششیں بھی کوئی مشکل امر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قوانین کو سخت بنانے کے باوجود ایسے عناصر جن کو عوام کی حمایت حاصل ہو ان کو انتخابی عمل سے دور نہیں رکھا جاسکتا۔ اس طرح کے گروپوں کی تطہیر بلکہ اس طرح کے گروپوں کے بننے کی روک تھام ملکی قوانین پر سختی سے عملدرآمد سے ممکن ہے جس کا فقدان کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان عناصر کو شیڈول فور میں تو ڈال دیا جاتاہے مگر ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو پاتی۔ اس طرح کے عناصر یا ان کے حامی کھلے عام اسلحہ لے کر پھرتے ہیں۔ پولیس ان کے مراکز جانے سے کنی کتراتی ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں ان عناصر کا اثر و رسوخ مزید بڑھ جاتا ہے اور لوگ نہ صرف ان سے مرعوب ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات معاشرے کے کمزور افراد ان عناصر سے داد رسی اور انصاف کے لئے رجوع کرتے ہیں مستزاد اس طرح کے با اثر عناصر عوام کی خدمت اور مشکل وقت میں دست گیری کرکے ان کی ہمدردیاں حاصل کرتے ہیں۔ جب تک ان تمام امور کا جائزہ لے کر ان اسباب و علل کا خاتمہ اور روک تھام نہ کی جائے صرف ان کو انتخابی عمل سے روکنا کافی نہ ہوگا۔ حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرنے ہوں گے اور سیاسی جماعتوں کو من حیث المجموع اس طرح کے عناصر کے اثرات اور ان کی حمایت کے حصول سے باز رہنا ہوگا جس کے بعد ہی ان عناصر سے چھٹکارہ یا کم از کم ان کے اثرات کو کم کرنا ممکن ہوگا۔ ان عناصر کو پرے دھکیلنا بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کا باعث بن رہا ہے جس پر قابو پانے کے لئے مشاورت سے ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔

زرعی اراضی کا سکڑائو

یہ امر واقعی تشویشناک اور فوری توجہ کا متقاضی ہے کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران 77ہزار ایکڑ زرعی اراضی ہائوسنگ سکیموں کی نذر ہوگئی ہے اور صوبے میں جاری ہائوسنگ سکیمز کی رفتار سے ایسا لگ رہا ہے کہ باقی بچی زرعی اراضی پر بھی بہت جلد عمارتیں کھڑی نظر آئیں گی۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ قانونی طور پرزرعی اراضی پر ہائوسنگ سکیمز اور کالونیاں نہیں بنائی جاسکتیں اس قانون کی دھجیاں اڑ رہی ہیں مگر اس کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔ یہ منظر نامہ تو واضح ہے اگر دیکھا جائے تو اس کی ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوتی ہے جو شہریوں کے لئے مناسب مقامات پر ہائوسنگ سکیمز اور کالونیاں بنا کر ان کی ضرورت پوری کرنے میں بری طرح ناکامی کاشکار ہے۔ ریگی للمہ ٹائون شپ برسوں سے تشنہ تکمیل ہے۔ لوگوں کی جمع پونجی گویا لٹ چکی ہے مگر تمام تر دعوئوں کے باوجود متنازعہ اراضی کا قضیہ اپنی جگہ' زیر تکمیل زونز میں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اس ہائونگ سکیم کی گیس کی سہولت سے محرومی ہے۔ صرف یہی نہیں صوبے میں جہاں جہاں بھی سرکاری شعبے میں رہائشی منصوبے شروع کئے گئے کم و بیش سبھی کا یہی حال ہے سوائے حیات آباد ٹائون شپ کے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ جہاں زرعی اراضی کو رہائشی آبادیوں میں تبدیل ہونے کے عمل کو روکے وہاں عوام کو مناسب قیمت پر ہائوسنگ سکیمز بروقت بنا کر دینے کی بھی ذمہ داری پوری کرے تاکہ صوبے میں ایسی رہائشی سکیموں کا راستہ روکا جاسکے جو مہنگے سے مہنگے داموں پلاٹ فروخت کر رہے ہیں اور ا راضی در اراضی دھڑا دھڑ خرید کر زمین ہموار کرکے سڑکیں اور پلاٹ بنا کر رہائشی سکیموں پراجارہ داری قائم کرنے کی سعی میں ہیں۔

متعلقہ خبریں