Daily Mashriq


المیوں سے عبارت سیاسی تاریخ اور بے نظیر بھٹو کی شہادت

المیوں سے عبارت سیاسی تاریخ اور بے نظیر بھٹو کی شہادت

پاکستان کی سیاسی تاریخ المیوں سے عبارت ہے۔ ایک وزیر اعظم حسین شہید سہروردی برطرفی کے بعد بیروت کے ہوٹل میں پر اسرار طور پر مردہ پائے گئے ۔ اس سے قبل پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو لیاقت باغ میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران گولی مار کر قتل کردیاگیا۔ غیر مساویانہ پالیسیوں' مغربی پاکستان کی سول و ملٹری بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کے طرز حکمرانی نے 16دسمبر 1971ء کو پاکستان توڑ دیا۔ نئے پاکستان کی تعمیر نو کرنے'ایٹمی پروگرام اور 1973ء کا آئین دینے والے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نظریہ ضرورت کا آسیب کھا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کی غیر جماعتی اسمبلی سے وزیر اعظم بننے والے محمد خان جونیجو کو بے عزت کرکے ایوان اقتدار سے نکالا گیا۔ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر دہشت گردوں نے زندگی کی قید سے آزاد کردیا۔ آپ کہیں گے کہ میاں نواز شریف کا ذکر نہیں کیا ۔ تو کڑوا سچ یہ ہے کہ وہ 10سالہ معاہدہ جلا وطنی پورے ہوش و حواس سے کچھ اس طرح کرکے ملک سے رخصت ہوئے کہ خاندان کے ساتھ 21اٹیچی کیس اور تین باورچی بھی اس خصوصی طیارے میں تھے جس نے معاہدے کے تحت میاں صاحب کو اسلام آباد سے ریاض لے جانے کے لئے چکلالہ ائیر بیس سے اڑان بھری تھی۔ اس امر پر د و آراء نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو عوام کے نبض شناس تھے۔ ان کی صاحبزادی نے پیپلز پارٹی کی قیادت اس وقت سنبھالی جب بھٹو قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار اور پھر پھانسی پر چڑھا دئیے گئے ۔ جس جواں عزمی اور نظریاتی استقامت کے ساتھ بے نظیر بھٹو نے اپنی والدہ محترمہ بیگم نصرت بھٹو کے ہمراہ پارٹی کو سنبھالا اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف جدوجہد کی وہ ہماری سیاسی تاریخ کا تابناک حصہ ہے۔ قید' نظر بندیاں' مقدمات' جلا وطنی اس بہادر خاتون نے نہ صرف خندہ پیشانی سے سب اذیتیں برداشت کیں بلکہ آمریت کو قدم قدم پر مردانہ وار یوں للکارا کہ بیسویں صدی کے عظیم عوامی و انقلابی شاعر حبیب جالب مرحوم کہہ اٹھے۔ ''ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے''۔ بے نظیر بھٹو دوبار اس ملک کی وزیر اعظم بنیں۔ بد قسمتی سے ان کی دونوں حکومتیں سنگین الزامات کے تحت برطرف ہوئیں۔ پہلی حکومت کو ریاستی اشرافیہ کے نفس ناطقہ صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کیا اور دوسری حکومت کو ان کے منہ بولے بھائی اور خود بنائے ہوئے صدر مملکت سردار فاروق لغاری نے۔ د وسرے بہت سارے کاموں کے علاوہ بے نظیر بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پاکستان کو جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی سے لیس کیا۔ یہ بے نظیر بھٹو ہی تھیں جنہوں نے اپنے شہید والد کے شمالی کوریا کی قیادت سے قائم مراسم کا ذاتی فائدہ اٹھانے کی بجائے کورین قیادت کو آمادہ کیا کہ وہ پاکستان کو جدید میزائل ٹیکنالوجی دے۔ خطرات سے کھیلتے ہوئے وہ ٹیکنالوجی کو شمالی کوریا سے ذاتی طور پر پاکستان لے کر آئیں۔ باوجود اس کے کہ وہ جانتی تھیں کہ اگر امریکیوں کو ذرا بھی شک پڑ گیا تو وہ پروٹوکول اور بین الاقوامی قوانین کو خاطر میں لائے بغیر ان کا طیارہ مار گرائیں گے۔ اس دختر وطن و جمہوریت کی دو حکومتیں برطرف ہوئیں اور ایسے حالات پیدا کردئیے گئے کہ انہیں ملک چھوڑ کر جانا پڑا۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف کا یہ بیان تاریخی دستاویزات کا حصہ ہے کہ '' محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف مقدمات درج کرنے کے لئے ان کی حکومت (90 تا93 اور 1997 تا 1999ء کے دونوں ادوار) پر بعض ریاستی اداروں کا شدید ترین دبائو تھا۔ یہی بے نظیر بھٹو 27دسمبر 2007ء کی شام لیاقت باغ راولپنڈی کے باہر بے جرم و خطا محض اس لئے مار دی گئیں کہ وہ امریکہ کے توسط سے مشرف حکومت کے ساتھ ہوئے معاہدے کے تحت وطن واپس لوٹی تھیں مگر وطن پہنچ کر انہوں نے بالا دستوں کی بجائے عوام کے ساتھ کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا اور پوری طاقت کے ساتھ مشرف رجیم اور شدت پسند قوتوں کو للکارا۔ اس دبنگ اور عوام کے جذبوں کی ترجمان آواز کو خاموش کروانے اور کرنے والے درحقیقت عملی طور پر یہ ثابت کر گئے کہ بندوقوں والے اس بہادر خاتون سے خوفزدہ تھے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل میں طالبان آلہ کار تھے مگر پس پردہ امریکہ اور جنرل پرویز مشرف تھے۔ ان کے قتل کے بعد انہی کالموں میں تفصیل کے ساتھ اس سازش اور ضرورتوں کی کہانی لکھی تھی مکرر عرض کرتا ہوں کہ '' جس لیزر بیم گن سے بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا وہ امریکی فوج کا خاص ہتھیار تھا۔ طالبان فقط ان کی گاڑی کے گرد دھماکے' فائرنگ اور بھگدڑ پیدا کرنے کے لئے استعمال ہوئے۔ آپ اس وقت کی وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئیر جاوید اقبال چیمہ کا بیان نکلوا کر دیکھ لیجئے جس میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل والے مقام سے 100 گز دور ایک غیر ملکی کی لاش ملی ہے۔ بریگیڈئیر چیمہ نے یہ بیان 27 اور28دسمبر کی درمیانی شب دیا تھا پھر اگلے روز دوپہر کو وہ اپنے پچھلی رات والے بیان سے مکر گئے۔ افسوس صد افسوس کہ ان حضرت سے آج تک کسی عدالت نے یا تحقیقات کرنے والے نے یہ دریافت نہیں کیا کہ وہ اپنے پہلے بیان سے کس کے کہنے پر مکرے تھے؟۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کا واحد مقصد پاکستان کو ایک حقیقی قومی جمہوری رہنما سے محروم کرکے ایسے حالات پیدا کرنا تھا جس میں ایک ملک کے اندر کئی ملک دکھائی دیں۔ پچھلے 8-9 سالوں کے سیاسی حالات کا بغور تجزئیہ کرلیجئے عالمی استعمار اور اس کے مقامی کارندوں کی سازش کے مقاصد عیاں ہوتے چلے جائیں گے۔ پیپلز پارٹی بھی اپنے پچھلے دور اقتدار میں شہید بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کو اگر بے نقاب نہیں کر پائی تو اس کی ایک ہی وجہ ہے وہ یہ کہ سازش تیار کرنے اور عمل کروانے والے زیادہ بلکہ کہیں زیادہ طاقتور تھے اور آج بھی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی 9ویں برسی کے موقع پر فیصلہ پیپلز پارٹی کو کرنا ہے کہ اس نے سمجھوتوں کی سیاست کرنی ہے یا عوامی جذبات کی ترجمانی اور عوام کے حق حکمرانی کی۔

متعلقہ خبریں