ہم اور ہمارے بچے

ہم اور ہمارے بچے

بسا اوقات انسان اپنی آدھی سے زائد عمر گزار بیٹھتا ہے تب جا کر اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کا مشاہدہ ادھورا ہے اور وہ زندگی کی بہت سی حقیقتوں کو نہیں جانتا۔ عین ممکن ہے کہ مجھ سمیت بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ اپنے گھر والوں سے ان کا رویہ بہت فرینڈلی ہے۔ وہ بہت اچھے بیٹے ہیں، بہت اچھے بھائی ہیں،ایک زبردست شوہر اور نہایت شفیق باپ ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

اکثر لوگ دن بھر کام کرکے آٹھ دس گھنٹوں کے بعد جب گھر آتے ہیں تو ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان سے بیوی بچے ہمدردی کے بول بولیں۔ بیوی کہے بہت تھکے ہوئے لگتے ہیں، چائے بنا دوں؟ بچے کہیں بابا آپ تھک گئے ہوں گے لائیے آپ کے پیر دبا دیں۔ اس خواہش کے حامل لوگ بھول جاتے ہیں کہ بیوی نے آٹھ دس گھنٹے آپ کا انتظار کیا ہے ، بچوں نے گھنٹوں آپ کا راستہ دیکھا ہے، انہیں ایک گرم جوش شوہر اور باپ کی ضرورت ہے جو گھر میں داخل ہو توسب کو یہ لگے کہ جس کے انتظار میں وہ گھڑیاں گن رہے تھے وہ آگیا ہے اور اپنے ساتھ مسکراہٹوں کی بہار لایا ہے۔
عام طور پر مرد جب گھر میں داخل ہوتا ہے توسب سے چھوٹے بچے کے ساتھ گرم جوشی سے ملتا ہے حالانکہ بڑے بچے بھی باپ سے پرجوش رویوں کی توقع رکھتے ہیں لیکن جب وہ دیکھتے ہیں کہ باپ نے انہیں نظر انداز کیا ہے تو وہ باپ سے لاتعلق ہونے لگتے ہیں۔سو بہتر رویہ یہ ہے کہ باپ جب گھر میں داخل ہو تو سب بچوں کے ساتھ ایک ایک کر کے ملے ،انہیں وش کرے اور الفاظ سے زیادہ اپنے پرجوش انداز سے انہیں احساس دلائے کہ اسے تمام بچوں سے یکساں محبت ہے۔
ماہرین نفسیات کہتے ہیں ، دوسروں پر آپ کے الفاظ صرف سات فیصد اثر کرتے ہیں۔اٹھاون فیصد حصہ آپ کے پر جوش رویئے کا ہوتا ہے اورپینتیس فیصد اثر آپ کی باڈی لینگویج کا ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ چھ سے سات فٹ کے فاصلے سے بات کریں گے تو آپ اپنے بیوی بچوں پر اتنا ہی اثر چھوڑیں گے جتنا ایک مقرر سامعین پر چھوڑتا ہے۔ اگر آپ ان کے ساتھ تین سے چار فٹ کے فاصلے سے بات کریں گے تو اس کا اتنا ہی تعلق ہوگا جتنا ایک ایسے دودھ فروش سے ہوتا ہے جو روزانہ آپ کے دروازے پر دودھ دینے آتا ہے۔
بیوی بچوں کے ساتھ آپ کا مکالمہ ایک فٹ کے فاصلے سے ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر آپ نے اپنے پانچ سال کے بچے کے ساتھ بات کرنی ہے اور اس سے محبت کا اظہار کرنا ہے تو اس کو اپنی گود میں بٹھا کر بات کیجئے۔
ماہرین سوشیالوجی کا خیال ہے کہ بچے خالی سلیٹ کی مانند ہوتے ہیں۔ اس سلیٹ پر تحریر آپ کی ہوتی ہے۔ گھر میں آپ میاں بیوی جھگڑے کرنے کے عادی ہیں تو یقین رکھئے کہ آپ کے بچوں کا مزاج بھی جھگڑالو ہوگا۔ اگر آپ میاں بیوی آپس میں لوگوں کی عیب جوئی کریں گے تو بچے لوگوں کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف باتیںکریں گے۔
ان کا معاملہ کاپی پیسٹ والا ہوتا ہے اس لئے کچھ بھی کرنے، کچھ بھی بولنے سے پہلے اس بات کو دھیان میں رکھئے کہ بچے بہت اعلیٰ نقال ہوتے ہیں۔
عام طور پر ماں باپ کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ فلاں کا بچہ ہر کلاس میں فرسٹ آتا ہے، لیکن اسی کا کلاس فیلو ہمارا بچہ کبھی پانچویں یا چھٹی پوزیشن سے آگے نہیں بڑھا۔ یاد رکھئے کہ ہر بچہ قدرت کا انمول شاہکار ہے۔ سب کی فطرت جدا جدا ہے۔ ایک ہی ماں کے چار بچے الگ لگ فطرت پر ہوتے ہیں۔ کچھ بچے فطری طور پر پڑھاکو ہوتے ہیں۔ انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ بیگ کھول کر بیٹھ جائو۔ کچھ بچے ہوتے تو لائق ہیں ، پوزیشن بھی لیتے ہیں لیکن انہیں کہنا پڑتا ہے کہ تمہاری پڑھائی کا وقت ہو گیا ہے۔ کچھ کو یہ باور کرانا پڑتا ہے کہ پڑھو گے نہیں تو مار پڑے گی۔ کچھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اچھے نمبر لو گے تو تمہیں تمہاری پسند کی فلاں چیز ملے گی۔دیکھنے میں آیا ہے کہ شازونادر ہی کوئی بچہ ہو جو خوشی سے سکول جاتا ہو۔بچوں کو اس بات کی کیا خبر کہ ان کی تعلیم کے لئے ماں باب اتنے پاپڑ کیوںبیل رہے ہیں؟ان کے معصوم ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ اگر وہ جاہل رہ گئے تو معاشرے میں ان کی کوئی قدروقیمت نہ ہوگی۔ لہٰذا جب وہ سکول کے نام پر منہ بسوریں یا ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کریں تو ان کو ہرگز نہ ڈانٹیں۔یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ میرا بیٹا یا بیٹے غلط راستے پر چل پڑے۔ چھوٹا جوا کھیلتا ہے اور بڑا نشہ کرتا ہے، یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے۔پندرہ سال کے ایک بچے کو کیا خبر کہ موٹر بائیک کی ویلنگ کرنے سے وہ موت کے منہ میں چلا جائے گا۔ ہاں اس کے ماں باپ کو ضرور پتہ ہوتا ہے کہ اس خطرناک کھیل کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے لیکن شفقت مادری و پدری میں وہ اندھے ہو جاتے ہیں اور آنکھیں اس دن کھلتی ہیں جب ایمبولینس میں بچے کی لاش واپس آتی ہے، سو جو لوگ بچوں کو ویلنگ کا دوش دیتے ہیں انہیں اپنا زاویہ نگاہ تبدیل کر کے ان والدین کی عقل پر ماتم کرنا چاہئے جو اچھا خاصا روپیہ خرچ کر کے موٹر سائیکل لے کر دے دیتے ہیں لیکن وہ موٹر سائیکل کے ساتھ کیا کرتا ہے اس کی یا تو خبر نہیں رکھتے اور اگر کوئی نوٹس میں لے آئے تو سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔خدا ایسے والدین کو ہدایت دے جو درحقیقت خود اپنے بچوں کی موت کا سامان کرتے ہیں۔

اداریہ