Daily Mashriq


ہم انقلاب کے خواہاں ہیں

ہم انقلاب کے خواہاں ہیں

ہم انقلاب کے خواہاں ہیںلیکن ہماری انقلاب کی تعریف ذرا نرالی ہے۔ دنیا کی رسمی تعریف سے ذ را ہٹ کے ہے۔ ہم اپنی مرضی کا انقلاب چاہتے ہیں۔ ایسا انقلاب جس کے بعد کا سورج بھی زیادہ روشن ' زیادہ سنہرا ہوتا ہے۔ وہ انقلاب جس کے بعد معاشرے کا چہرہ کسی نئی نویلی دلہن کی مانند تابناک ہوتا ہے۔ انسانی روئیے مسکراتے ہیں اور جہاں جہاں بگاڑ کی رنجشوں نے دل میلے کردئیے ہوتے ہیں سب ٹھیک ہو جاتا ہے۔ یہ وہ انقلاب ہے جس کے بعد بنی نوع انسان کا حال اور مستقبل سنور جاتے ہیں۔ جب ہر ایک روئیے میں بہتری اور نکھار پیدا ہو جاتا ہے۔ انسان نے جب جب اپنے بگاڑ کو ایک کالا' گاڑھا سیال بنا کر معاشرتی رویوں پر انڈیل دیا ہوتا ہے۔ اس سب کی صفائی ہو جاتی ہے۔ سب اچھا ہو جاتا ہے اور پھر ایک طویل عرصے تک اچھا ہی رہتا ہے۔ ہم یہ سب چاہتے ہیں' ہر ایک بات سدھر جائے' ہر ایک رویہ سیدھا ہو جائے' ہر احساس میں ایک نئی روانی پیدا ہو جائے لیکن یہ سب جادو کی مانند ہو' ہم ایک رات سوئیں تو سب راکھ۔ اور اگلی صبح اٹھیں تو اس راکھ میں سے تبدیلی کا ایک ققنس برآمد ہو اور اس کے پروں سے سنہرا رنگ جھڑتا ہو' وہ سارے ملک و نظام کے اوپر گھومتا اڑتا پھرے اور اس کے پروں سے جھڑنے والے رنگ سے سب کچھ دوبارہ زندہ ہو جائے جیسے سوئی ہوئی شہزادی پر سحر ٹوٹنے سے سارے محل میں دوبارہ زندگی لوٹ آتی ہے۔ ہم انقلاب چاہتے ہیں۔ نہیں ہم انقلاب کے بعد کی بہتری چاہتے ہیں۔ وہ بھی بس اسی حد تک جتنی کتابوں میں' کہانیوں میں' فلموں میں ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہم کوئی صعوبت' کوئی سختی برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ملک میں تبدیلی لانے کے لئے ہم کسی مصیبت سے نہیں گزرنا چاہتے۔ کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ عمران خان تبدیلی کے لئے دھرنا دے تو دے ہم بعد میں اس تبدیلی میں شامل ہو جائیں گے۔ موجودہ حکمران اگر پانامہ لیکس کے ذریعے بدعنوان ثابت ہو ہی گئے ہیں تو اچھی بات جب عدالت کوئی فیصلہ سنا دے گی تو ہم اس وقت اس سے مستفید ہو جائیں گے۔ آصف زرداری ملک واپس لوٹ آئیں' ان کی باری کے نعرے لگیں' ہم سب ان کی مجرمانہ فطرت اور سیاسی ترجیحات سے واقف ہوں' کوئی انہیں روک لے تو ٹھیک اور اگر نہ روک سکے تو ہم برداشت کرلیں گے۔ اندازے لگاتے' تجزئیے کرتے' خواب بنتے ایک عمر گزر گئی' ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوا کہ آخر ہم کیسے لوگ ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔ کیا ہم واقعی بہتری چاہتے ہیں یا جس کو ہم صبر کرنا سمجھتے ہیں وہ ہماری سستی ہے اور یہ سستی بھی ہے یا ہماری خود اپنے ہی حوالے سے بے حسی ہے۔ یہ بھی حیران کن ہے کہ لوگ اپنے ہی حوالے سے بے حس کیسے ہوسکتے ہیں۔ اپنے بارے میں تو لوگ اتنے حساس ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے مفادات کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن ہم کمال لوگ ہیں ہم اپنے ہی بارے میں بے حس ہیں۔ ہم اپنے لئے کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ کوئی اور کرے تو کرے ہم اپنے لئے کچھ نہ کریں گے۔ کوئی سوچے کے ایسے لوگ بھلا دنیا میں کہاں ہوتے ہیں جو خود ایسے ہی وفاردار نہیں ہوتے۔ وہ اپنے ہی مفاد کی بات نہیں کرنا چاہتے ۔ جو لوگ انہیں لوٹتے ہیں یہ انہیں ہی ووٹ دیتے رہتے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کس نے انہیں کیسے بے وقوف بنایا' کس طرح دھوکہ دیا' کس طور انہیں لوٹا۔ انہیں بس اپنی سستی سے غرض ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی انہیں اس خواب غفلت سے جگائے' کوئی انہیں یہ سمجھائے کہ انہیں اپنے لئے خود جدوجہد کرنا ہوگی۔ لوٹ مار سے بچنا ہے تو اپنے لئے خود تن کر کھڑا ہونا ہوگا' لٹیروں کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہیں اپنی طاقت کے زور سے روکنا ہوگا کیونکہ اگر وہ یہ نہیںکریں گے تو وہ انہیں چاٹ جائیں گے۔ بالکل ایسے ہی جیسے دیمک کسی انتہائی مضبوط' تناور درخت کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہے۔ جیسے بظاہر ایک انتہائی صحت مند دکھائی دینے والا انسان کینسر کے باعث اندر سے کھوکھلا ہو رہا ہو۔ میں سوچتی ہوں کہ آخر ہم خود سے کیا چاہتے ہیں' ہم کیا سوچ رہے ہیں اور پھر خیال آتا ہے کہ بھلا کیا سوچیں گے۔ ہم تو خالی الذہن تاریخ کے چوراہے پر گم صم بیٹھی وہ قوم ہیں جس نے ہمیشہ اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ کر یہ سوچا ہے کہ سامنے دکھائی دینے والے یہ کون لوگ ہیں۔ ہم اپنے آپ سے ناواقف لوگ ہیں۔ ہم نے کبھی خود سے واقفیت کی کوشش بھی نہیں کی اور اب ایک نیا سال جب اپنی ننھی ننھی آنکھیں کھولے ہماری جانب دیکھ رہا ہے تو ہم بنا سوچے سمجھے کبھی شمعیں روشن کرتے ہیں ' کبھی روایات اور تاریخ سے نابلد سیاستدان ہمیں قائد اعظم کی سالگرہ کا کیک کاٹنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ہمارے بچوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی اور اس کیک کی تصویر ارسال کریں ' انہیں انعام ملے گا اور ہم پھر بھی خاموش رہتے ہیں۔ نہ تشبہ علی الکفار کا خیال ہے نہ ہی کسی اور بات کا۔ نہ یہ یاد ہے کہ یہ دین جس کے ہم پیرو کار ہیں دین کامل ہے۔ قائد اعظم کا احسان ہے' ہمیں انہیں دعائوں میں یاد رکھنا چاہئے' بچوں کو قائد اعظم کی کہی باتیں یاد کروانی چاہئیں۔ محنت کا سبق دینا چاہئے' کوئی پوچھے کیک کاٹنے سے کیا ہوتا ہے۔ لیکن بے سمت سیاستدانوں کو ہم سمت اس وقت تک سجھا نہیں سکتے جب تک خود ہم اپنی سمت کاتعین نہ کرلیں اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ہوشمند ہوں اور فی الحال یہ دکھائی نہیں دیتا۔ سو فیصلہ یہ کرنا ہے کہ جاگیں تاکہ وہ انقلاب جس کو ہم نے بس خواب بنا رکھا ہے اس کو مجسم صورت میں ڈھالنے کا آغاز ہوسکے۔

متعلقہ خبریں