چوہدری نثار اچانک اہم کیوں ہوئے؟

چوہدری نثار اچانک اہم کیوں ہوئے؟

یہ سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ منظر عام پر آنے سے ہی نہیں بلکہ اس سانحہ سے بھی پہلے کی بات ہے جب بلاول بھٹو زرداری نے اچانک لکھاہو اسکرپٹ پڑھنے کے انداز میں ''گونثارگو'' کے نعرے بلند کرنا شروع کئے تھے ۔یہ وہ وقت تھا جب طاہرالقادری اورعمران خان ''گونوازگو '' کے نعرے کو مقبول عام عوامی تحریک بنانے کی تگ ودو میں تھک چکے تھے مگر ان نعروں کی بازگشت ابھی تک فضائوں سے محو نہیں ہوئی تھی یہاں تک کہ ابھی ان نعروں پر مشتمل طاہر القادری کرنسی نوٹ بازاروں میں گردش کررہے تھے ۔ایسے میں بلاول کے نعروں نے'' گونثار گو'' کے نعروں سے ایک نیا منظر تخلیق کرتے ہوئے سماں باندھ دیا ۔حالانکہ اس وقت اور آج بھی حکومت کے اندر اور باہر ''گو'' کہلانے کے مستحقین کی کمی نہیں۔مگر اس ملک میں گوگو کے نعروں سے کون گیا ہے؟یہاں رخصت کرنے کے لئے ناگہانی کا انتظار ہی کرنا پڑتا ہے ۔ اس ملک میںاپنی مرضی یا جانے کے مطالبات سے کبھی کوئی بھی نہیں گیاتو چوہدری نثار کیوں جائیں ؟۔نئی روایات اور ٹھیٹھ جمہوری کلچر کے آغاز کا سارا بوجھ چوہدری نثار کے کندھوں پر ڈالنا عجیب سی توقع ہے ۔ بلاول بھٹویہ توقع بے سبب نہیں کر رہے تھے بلکہ اس خواہش اورنعرے کے تہہ میں مفاہمتی سیاست کے ناز و انداز جھلک رہے تھے ۔وہی مفاہمتی سیاست جوپچھلے دور حکومت میں برگ وبالار لاتی رہی اور کرنسی نوٹ زیرزمین خندقوں ، پانی کے ذخیروں ،سطح سمندر پر تیرتی لانچوں اور شو بز سے وابستہ حسینائوں کے دستی بیگوں سے برآمد ہوتے رہے۔مسلم لیگ ن کی اصل طاقت کا مرکز وسطی پنجاب ہے ۔یہی علاقہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طاقت کا محور بھی ہے اور اسے افرادی قوت فراہم کرنے والا علاقہ بھی ہے ۔اسی علاقے میں اُبھرنے والے سیاسی رجحانات اور جذبات سے فوج لاتعلق نہیں رہ سکتی۔مسلم لیگ ن نے فوج کی موافق اور معاون جماعت کے طور پر اسٹیبلشمنٹ مخالف جماعت کی پہچان رکھنے والی پیپلز پارٹی کو بے دخل کرکے اس علاقے میں قدم جمائے تھے مگر جلد ہی میاں نواشریف مطلق طاقت کے راستوں پر چل نکلے اور یوں ان ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی کھٹ پھٹ کا آغاز ہوگیا جو ہر گزرے دن کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔بعد میں یہ دور اور خلیج گھٹتی بڑھتی تو رہی مگر ختم نہ ہو سکی ۔ایسے میں جی ایچ کیو کے پچھواڑے چکری کی راجپوت برادری اور تین نسلوں کے فوجی گھرانے کے فرد چوہدری نثارعلی خان کا کردار اہم ہوتا چلا گیا۔وہ مسلم لیگ ن اور فوج کے درمیان ایک پُل کی شکل اختیار کرنے لگے۔ملک کی ہئیت حاکمہ کے لئے نثار علی خان اس لحاظ سے اہم تھے کہ وہ راولپنڈی سے اور اس سے بھی بڑھ کر فوجی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور جدی پشتی پنجاب کے راجپوت خاندان سے تعلق ان کی اضافی خوبی تھی ۔چوہدری نثار علی خان کی استقامت اور صبر قناعت اس لحاظ سے قابل تعریف ہے کہ دوطاقتوں کے درمیان ڈور بنے رہنے کے باوجود انہوں نے خود کبھی طاقت بننے کی کوشش نہیں کی ۔یہ الگ بات کہ اس حوالے سے کبھی لکشمی ان کے آنگن اُتر بھی نہیں سکی ۔انہوں نے اپنی خواہشوں کو دل میں بسائے اور دبائے رکھااور انہیں کبھی زبان نہ مل سکی ۔ پانامہ لیکس کا تنازعہ گہرا ہوتا چلا گیا تو پوٹھوار سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے رہنما سید ظفر علی شاہ نے کئی انٹرویو میں کہا کہ مسلم لیگ ن میں میاںنوازشریف کے متبادل چوہدری نثار علی خان کی صورت میں موجود ہیں۔اس سے بہت سوں کا ماتھا ضرور ٹھنکا ہوگا۔یہی وہ دن تھے جب بلاول نے اچانک زور وشور''گو نثار گو'' کے نعرے بلند کرنا شروع کئے۔صاف دکھائی دے رہا تھا کہ بلاول ایک سکرپٹ پڑھ رہے ہیں۔چوہدری نثار علی خان نے پیپلزپارٹی میں اپنے خلاف بڑھتے ہوئے غم وغصے کی ایک ہی وجہ بیان کی تھی جو ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کے رہائی کے گرد کی گھومتی تھی یوں وہ اپنے سخت گیر رویے سے میثاق جمہوریت کے لئے خطرات پیدا کر رہے تھے۔یہ بھی ممکن تھا کہ عین میثاق جمہوریت کے تحت سید ظفر علی شاہ کی تجویز کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے لئے چوہدری نثار علی خان پر تابڑ توڑ حملے کرکے انہیں دبائو میں رکھنا مقصود تھا ۔ڈان لیکس میں بھی چوہدری نثار ایک ضامن کے طور پر موجود تھے اوروہ فریقین پر معاہد ے کی پاسداری کے لئے دبائو ڈالے ہوئے تھے ۔رہی سہی کسر سانحہ کوئٹہ کی تحقیقات کے لئے قائم کمیشن کی رپورٹ نے پوری کر دی اور اس رپورٹ کی چند سطروں کی بنیاد پر پاکستان جیسے ملک میں اعلیٰ اخلاقی اور جمہوری روایات کے آغاز کا سارا بوجھ چوہدری نثار علی خان کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے ان سے مستعفی ہونے کے مطالبات دہرائے جانے لگے۔مفاہمتی سیاست اور میثاق جمہوریت کی گاڑی روانی کے ساتھ نہ چل سکی تو پیپلزپارٹی کے پاس مسلم لیگ ن کی حکومت کے مقابلے کے لئے گرینڈ الائنس کا آپشن تو موجود ہی ہے۔چوہدری نثار علی خان اپنے تعلقات اور پس منظر کی بنیاد پر گرینڈ الائنس کی اس گاڑی کے آگے سپیڈ بریکر کھڑے کر سکتے ہیں ۔چوہدری نثار ،سید ظفر علی شاہ کے نسخے کے تحت میاں نوازشریف کی مخالفت میں توشاید ہی بروئے کارآسکیں مگرگرینڈ الائنس کی راہ روکنے یا محدود رکھنے کے لئے وہ میاں نواز شریف کی موافقت میں بروئے کار آسکتے ہیں۔

اداریہ