بونے لوگ صرف سیاست میں تو نہیں !

بونے لوگ صرف سیاست میں تو نہیں !

زندگی کے سارے رنگ اپنی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ انسان کو دعوت نظارہ دیتے رہتے ہیں وہ دھوپ چھائوں کے اس سفر میں کتنے لوگوں سے ملتا ہے کتنے نشیب و فراز دیکھتا ہے لیکن آگے ہی آگے بڑھتے رہنے کی آرزو نہیں مٹتی زندگی کے ساتھ اس کا مقابلہ جاری رہتا ہے وہ دل وجاں کی ساری توانائیوں کے ساتھ اپنے حصے کے سانس پورے کرتا ہے ۔بچپن کے کھیل کود ،لڑکپن کی چھوٹی چھوٹی شوخیاں ہوں یا نوجوانی میں کی گئی حماقتیں وہ ساری زندگی انہی یادوں کے سہارے راہ حیات کا کٹھن سفر طے کرتا چلا جاتا ہے۔بیتے دن اسے بہت یاد آتے ہیں۔ 

گزرا ہوا سفر محبتوں کی شاہراہ پر طے کیا گیا ہو تو طمانیت کا ایک خوش کن احساس اپنی تمامتر رعنائیوں کے ساتھ دل و دماغ کو معطر رکھتا ہے اگر رخش عمر کو کبھی فرصت ملے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کے لیے چند ساعتیں میسر آجائیں تو پیار بھرے لمحات کی رفاقت میں کٹا ہو ا سفر ایک خوش کن احساس کے ساتھ دل و دماغ کے نہاں خانوں میں کتنی شمعیں روشن کرتا چلا جاتا ہے ان روشنیوں کی چکا چوند میں زندگی کی اونچی نیچی پگڈنڈیاں کتنی نمایاں ہو جاتی ہیں انسان کو پھر کوئی ٹھوکر نہیں لگتی وہ ایسا کچھ نہیں کرتا کہ جس پر بعد میں پشیمانیاں اس کے گلے کا ہار بن جائیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود زندگی کے تقاضے کب کسی سے نبھائے جاسکیں ہیں کون ایسا ہوگا جسے یہ اطمینان ہو کہ وہ اپنے دامن میں کانٹے نہیں رکھتا ۔کون یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی جھولی میں پھولوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔زندگی کی کہانی کے معنی کب طے ہوتے ہیں اور اگر یہ معنی طے ہوجائیں تو زندگی اپنی موت آپ مرجائے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زندگی ایک نامکمل افسانہ ہے۔ لیکن یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ اسی ناپائیدار زندگی کے لیے ہم کتنے پائیدارمنصوبے بنا کر رکھتے ہیں ۔ کتنے اطمینان کے ساتھ زندگی کی بساط پر اپنے مہرے سجا کر انہیں آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں ۔ اور یہ کچھ ایسا برا بھی تو نہیں ہے اسی کانام ہی تو زندگی ہے لیکن اتنا خیال ضرور رکھا جائے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو ہماری زبان سے کسی کے دل نازک کو ٹھیس نہ پہنچے۔ کچھ ایسا نہ ہو جو بعد میں ہمارے گلے کا ہار بن جائے جو ہمیں آنے والے وقت میں اپنے ضمیر کا قیدی نہ بنا ڈالے۔اس حوالے سے جتنی بھی باتیں ہوتی ہیں ہم ان کے ڈانڈے آخر میں اپنے سیاستدانوں کے ساتھ ملا دیتے ہیں ۔ یہ سب بجا سب تسلیم! مگر ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم اس کہانی کو صرف سیاست تک محدود نہ رکھیں۔ جب ضمیر کی بات ہو تو پھر سب کے لیے وہی کڑا معیار مقرر کیا جائے جوہم نے سیاستدانوں کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ وہ میٹر ریڈر جو میٹر کو دیکھے بغیر آپ کے ذمے بہت سارے یونٹ ڈال دیتے ہیںکیا وہ کبھی ایک لمحے کے لیے بھی سوچتے ہیں کہ ان کے اس جرم سے ایک انسان کے دل و دماغ کتنی اذیتوں سے دو چار ہوتے ہیں۔ زرا سوچئیے جس کی تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ ہو اور اس کا بجلی کا بل بھی پندرہ ہزار روپے آجائے! ایک استاد جسے پڑھانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے جو کلاس میں جانا ہی نہیں چاہتا اگر کبھی کبھار چلا بھی جاتا ہے تو لڑکوں کے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کر کے چلا آتا ہے ۔ ہم اس رویے کو کیا نام دیں؟ ڈاکٹر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے مریض کے ساتھ اگر ہمدردی نہ رکھے اور اس کی ساری توجہ اس کی جیب پر مرکوز ہو تو کیا کہیں گے آپ؟ سیاستدان پارٹی چھوڑ دے تو اسے لوٹا کہا جاتا ہے لیکن اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کتنے ہی ایسے شعبے ہیں جن میں لوگ چند سکوں کی خاطر اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ برسوں کے تعلق کو چند لمحوں میں تو ڑ کر رخصت ہو جاتے ہیں ان کے لیے بھی تو کوئی نام ہونا چاہیے لوٹا نہ سہی کسی اور برتن کے بارے میں سوچتے ہیں!بڑے بڑے حجاج کرام پانچ وقت کے نمازی مرچوں میں ملاوٹ کرتے ہیں کہ چند سکے زیادہ کما لیں۔ دودھ میں پانی، مصالحہ جات میں ملاوٹ،چائے کی پتی میں ملاوٹ، جعلی دوائیاں بیچ کر راتوں رات امیر بننے کے خواب، زرد صحافت،عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں، دفاتر میں جائز کام کے لیے بھی رشوت !کم تولنا، قبرستانوں پر ناجائز قبضہ ۔ہے کوئی پوچھنے والا؟ قبضہ گروپس سرگرم عمل ہیں پلاٹس ہڑپ کیے جارہے ہیں۔ پرائی زمین پر مکان تعمیر کر لیا جاتا ہے مالک کو اپنا حق لینے کے لیے ساری عمر عدالتوں میں دھکے کھانے پڑتے ہیں۔انصاف اگر مل بھی جائے تو اتنی تاخیر سے ملتا ہے کہ اصل مالک زمین کا رزق بن چکا ہوتا ہے۔یہ سارے وہ عمل ہیں جن کا تعلق ضمیر سے ہے ضمیر مردہ ہو جائے تو پھر یہ سب کچھ آسان ہو جاتا ہے۔ سود کا بازار گرم ہے پشاور شہر اور صدر میں جگہ جگہ دکانیں کھلی ہوئی ہیں جہاں سود خور لوگوں کا خون چوس رہے ہیں۔ اس حوالے سے متاثرین اجتماعی خود کشیاں تک کرچکے ہیں لیکن کسی کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ان سود خوروں کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائے۔اغوا برائے تاوان ایک منافع بخش کاروبار کی صورت اختیار کرچکا ہے معصوم بچوں کو بڑی آسانی سے اغوا کر لیا جاتا ہے۔متاثرین کی اکثریت پولیس کے پاس جانے سے پرہیز کرتی ہے خود ہی تاوان دے کر معاملات طے کر لیے جاتے ہیں۔بونے لوگ صرف سیاست میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہیں کبھی کبھی لکھنے والوں کو ان پر بھی بات کرنی چاہیے۔ کہانی صرف سیاست تک محدود نہیں ہونی چاہیے ضمیر کا خیال رکھنا دوسروں کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ سیاستدانوں کے لیے!

اداریہ