عہد ساز شخصیت، محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو 10سال بیت گئے۔

عہد ساز شخصیت، محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو 10سال بیت گئے۔

ویب ڈیسک:پاکستانی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی دسویں برسی۔

سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی لیاقت باغ میں جلسے کے بعد شہید کیا گیا،

بے نظیر بھٹو شہید پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کے ساتھ ساتھ 35سال کی عمرمیں صدارت عظمیٰ کے عہدےپر فائز ہونے والی سب سے کم عمر وزیراعظم بھی تھیں،

جلا وطنی، قید و بند کی سعوبتیں برداشت کرنے والی اور دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم منتخب ہونے والی بے نظیربھٹو سابق صدر مشرف کے دور میں تقریباً آٹھ  سال کی جلاوطنی گزارنے کے بعد 18اکتوبر کو وطن واپس لوٹیں تو ایئرپورٹ پر ان کا تاریخی استقبال کیا گیاایئر پورٹ سےبے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں 150 افراد موت کی نیند سو گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہو ئے،پیپلز پارٹی کی چئیرپرسن جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ) سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی بے نظیر دبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ،

27 دسمبر 2007ء کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آرہی تھیں تو لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکلیں تو نامعلوم شخص کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی، اس کے بعد بے نظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں  زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بے نظیر جاں بحق ہو گئیں۔

بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہر سال انکی برسی کی مرکزی تقریب ان کے آبائی گاوں گڑھی خدا بخش میں منائی جاتی ہے۔

ٹاپ سٹوری