Daily Mashriq


کیا بھارت بھی اس کردار کا مظاہرہ کرے گا؟

کیا بھارت بھی اس کردار کا مظاہرہ کرے گا؟

پاکستان نے جاسوسی کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو سے دفتر خارجہ میں ان کی والدہ اور زوجہ سے ملاقات کیوں کرائی اس حکمت عملی کا علم چند ہی افراد کو ہوگا بہرحال چونکہ اسے انسانی ہمدردی کا لبادہ اوڑھایا گیا ہے لہٰذا اسے ایسا ہی سمجھنا مناسب ہوگا۔ انسانی ہمدردی کے تحت کچھ بھی ممکن ہے اور یہ ایک ایسی جامع اصطلاح ہے کہ اس کا اطلاق اگر کسی جاسوس پر بھی کیا جائے تو اس کی گنجائش کے متلاشیوں کیلئے موقع ہے ،اگر چہ پاکستان نے کلبھوشن تک سفارتی رسائی دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا ہے کہ اس موقع پر بھارتی سفارتکار کو بات کرنے اور بات سننے کا موقع نہ دیا گیا اور وہ شیشے سے پار صورتحال مانیٹر کرتے رہے، لیکن دفتر خارجہ کے اس موقف کو درست بھی مانا جائے تب بھی اس امر سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پاکستان نے کلبھوشن یاد یو کے اہل خانہ سے ملاقات کی آڑ میں بھارت کو آدھی سفارتی رسائی ضرور دیدی ہے۔ اطمینان اور تسلی کا یہ موقع بھی کچھ کم اہم نہیں کہ بھارتی جاسوس صحت مند اور بہتر حال میں ہے ۔ اس کے بدلے بھارت پاکستان کو کیا رعایت دیگا، اس کو بھی سامنے لایا جائے تو بہتر ہوگا ۔کم از کم بھارت اگر مغوی کرنل حبیب کی اپنے پاس موجودگی اور خیریت کی اطلاع ہی کا تبادلہ کرے تو پاکستانی عوام کو اس ملاقات سے ہونیوالا دکھ کم ہو گا۔ یاد رہے کہ ’را‘ کیلئے کام کرنیوالے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کرلیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کیلئے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی فوجی عدالت نے رواں سال اپریل میں دہشت گردی اور جاسوسی کے جرائم میں سزائے موت سنا دی تھی جس کی توثیق پاک فوج کے سربراہ نے بھی کی تھی۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد پاک فوج کے ایک سابق لیفٹیننٹ کرنل محمد حبیب طاہر نیپال میں پر اسرار طور پر لاپتہ ہوگئے تھے، نیپال کی میڈیا نے کرنل حبیب کی گمشدگی میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہونے کا شک ظاہر کیا تھا بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں بھی کرنل حبیب کی گمشدگی کا کلبھوشن کی گرفتاری سے تعلق ہو سکتا ہے۔ بہرحال موت کی سزا پانے والے کلبھوشن یادیو کا معاملہ ظاہر جبکہ کرنل حبیب کی گمشدگی اسرار میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ اس طرح کے معاملات میں پر اسرار یت کا ہونا فطری امر ہے۔ اگر دیکھا جائے تو کلبھوشن سے اہل خانہ کی ملاقات کی وجوہات بھی اسرا ر سے خالی نہیں اسلئے کہ کوئی بھی ملک دوسرے ملک کو اس طرح کی سنگین غارت گری کے منصوبہ ساز شخص کو کسی بین الاقوامی قانون میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود اس کے اہل خانہ سے ملاقات کا موقع دے، اس ملاقات کی اجازت کے اسرار جاننے والوں یا پھر اس کا اندازہ رکھنے والوں کے برعکس اگر قوم کی جذبات اور ایک عام آدمی کے اندازفکر سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان نے ایسا کر کے عوام کی ناراضگی مول لی ہے اور اس عمل پر تنقید کی بھی بڑی گنجائش ہے کیونکہ عوام کو بلوچستان اور کراچی میں کلبھوشن نیٹ ورک کی دہشت گردی، قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، املاک کی تباہی اور خوف وہراس اچھی طرح یاد ہیں، کسی جاسوس سے عوام کی بد ترین نفرت بھی فطری امر ہے لیکن دوسری جانب حکومت سے بھی اس امر کی توقع کہ محض انسانی ہمدردی ہی اس ملاقات کا مقصد تھا سمجھ میں نہ آنیوالی اور قبول کرنے کے قابل بات نہیں۔ یقینا بہت اسرار پوشیدہ ہوں گے اور پس پردہ معاملات طے ہوئے بغیر اتنا بڑا قدم ممکن نہ تھا۔ ان تمام حالات و واقعات سے قطع نظر یہ ایک اچھا اور مثبت اقدام ہے جو بھارت اورپاکستان کے درمیان روایتی عداوت کے برعکس اقدام ہے گو کہ اس ملاقات پر بھی بھارتی میڈیا تنقید کے تیر برسانے سے باز نہیں آیا لیکن بہر حال یہ پاکستان کی ایک اخلاقی جیت کا تاثر ضرور لئے ہوئے ہے۔ اس کے پس پردہ فریقین کی مصلحت جو بھی ہو لیکن بہر حال یہ ایک اچھی پیشرفت اسلئے ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمانہ جذبہ، روابط اور رواداری کا اظہار ہوتا ہے ۔ پاکستان کے اس کردار کے برعکس بھارت نے یادیو سے ملاقات کا صلہ سرحد پر فائرنگ سے تین پاکستانی اہلکاروں کی شہادت سے دیا جس سے بھلائی کی توقع تو درکنار اس ملاقات کے انتظام کے باعث تھوڑی سی ہمدردی کی امیدوں کا بھی دم توڑ جانا فطری امر ہے ۔ بہرحال پاکستان اوربھارت کو اپنے باہم معاملات خواہ وہ مداخلت کے ہوں یا علاقائی تنازعات ، سرحد وں کا معاملہ یا دیگر متنازعہ معاملات ہوں ان کو سیاسی سطح پر اور مذاکرات و گفت وشنید کے ذریعے حل نکالنے کا وتیرہ اختیار کرنا چاہئے۔ پاکستان نے یادیو سے فیملی کی ملاقات کرا کے جس خیرسگالی کا مظاہرہ کیا ہے اس کا جواب سرحد پر فائرنگ نہیں بلکہ اس کا جواب جوابی خیر سگالی کے اظہار کے طور پر دینا چاہئے۔ یادیو ملاقات کے موقع پر کشمیری حریت پسند رہنما کی اسلام آباد میں مقیم اہلیہ اور بیٹی کی اس شکوہ کا بھارت کے پاس کوئی جواب نہیں نظر آتا کہ پاکستان نے تو بھارتی جاسوس کی فیملی کو ملاقات کا موقع دیا جبکہ بھارت مجھے اپنے شوہر اور میری بیٹی کو اپنے باپ سے ملنے کی اجازت دینے سے انکاری ہے حالانکہ ان پر نہ کوئی مقدمہ ہے اور نہ ہی وہ کسی قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ کلبھوشن یادیو سے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پر مبنی واقعات میں کمی آنی چاہئے اور اس امر کا اظہار ہونا چاہئے کہ دونوں ممالک اپنے معاملات کو طاقت یا پھر عالمی عدالت میںلیجاکر الجھا نے کی بجائے باہم گفت و شنید کے ذریعے حل کا آغاز کریں جو دونوں ممالک اور خطے کے مجموعی مفاد کا تقاضا بھی ہے اور یہی مناسب اور درست بھی ہے لیکن بھارتی تیور اور عین ملاقات کے روز بھی فائر نگ اور سرحدی خلاف ورزی دیکھ کر یہ توقعات عبث اور کلبھوشن سے ان کی فیملی کا انسانی ہمدردی کے ناتے ملاقات کرانا لاحاصل ہی نظر آتا ہے۔ خدا کرے کہ ایسا نہ ہو اور معاملات کی سمت درست ہو۔

متعلقہ خبریں