Daily Mashriq


وزیر اعظم اس فیصلے پر نظر ثانی کریں

وزیر اعظم اس فیصلے پر نظر ثانی کریں

پختونخوا پرویز خٹک کی وفاقی حکومت کی طرف سے صوبوں کو اعتماد میں لئے بغیر بجلی خریداری کے اعلان کے علاوہ دیگر ایسے کئی معاملات جس کاتعلق صوبائی حقوق سے ہے میں نظر اندا ز کئے جانے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو احتجاجی خط لکھ کراحتجاج صوبے کی نمائندگی کے تقاضوں کے مطابق ہے۔دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا کیساتھ صرف اس مد میں ہی نہیں بلکہ بجلی کے خالص منافع سمیت دیگر کئی معاملات میں نظر انداز کرنے اور حق تلفی کرنے کا عمل مسلسل ہورہا ہے۔ جس سے صوبے کے عوام کا احساس محرومی کا شکار ہونا اور حق تلفی کی شکایت بلاوجہ نہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ وفاقی حکومت حکمران جماعت کے قائدین کے باعث از خود مشکلات اور دبائو کا شکار ہے اور عوام میں اس حوالے سے اچھے تاثرات میں کمی آرہی ہے ایک ایسا نا مقبول فیصلہ سیاسی طور پر بھی اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے جس کے اثرات آئندہ عام انتخابات میں سامنے آنا فطری امر ہوگا۔ بہرحال سیاسی معاملات سے قطع نظر آئینی اور قانونی طور پر صوبوں میں جس جماعت کی حکومت ہو وفاقی حکومت کی وفاق کے چاروں اکائیوں کو برابر اہمیت دینا اور ان کو دستور کے تحت حاصل وسائل میں حصہ اور مشاورت کے ذریعے اعتماد میں لینا بنیادی ذمہ داری ہے جس سے احتراز کیا گیا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں یہ صرف صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ ان کیساتھ ساتھ دیگر سیاسی جماعتوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کے حقوق کیلئے آواز اُٹھائیں۔ مقام اطمینان امریہ ہے کہ ماضی میں جب بھی ایسا موقع آیا خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں نے اجتماعی سوچ اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اب بھی وقت کا تقاضا یہی ہے کہ وزیر اعلیٰ سیاسی جماعتوں کا ایک جرگہ بلائیں اور ان کو بھی اس مطالبے اور احتجاج میں شامل کر کے وفاقی حکومت پر دبائو بڑھائیں ۔ وزیراعظم کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے احتجاجی مراسلے کے بعد اس غلطی کا ازالہ کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں اور جہاں صوبوں کے حقوق اور مشترکہ معاملات کا سوال ہو وہاں ان کی مرضی اور مشاورت کے بغیر کوئی اقدام نہ اُٹھا یا جائے اور نہ ہی ان پر کوئی فیصلہ مسلط کرنے کی سعی کی جائے ۔

مہنگائی کی تازہ لہر سے پریشان عوام

مہنگائی کی تازہ لہر کے باعث روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کی پریشانی فطری امر ہے۔ گوکہ یہ لہر پہلی نہیں بلکہ عوام مسلسل مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشانی سے دوچار ہیں لیکن گزشتہ چار ماہ کے واقعات کے باعث آنیوالی یہ لہر آفت ناگہانی نہیں بلکہ ملک میں سیاسی انتشار کے باعث پیدا شدہ حالات کا نتیجہ ہے جس کی ذمہ داری اس بحران کے وابستگان پر عائد ہوتی ہے۔ پریشان کن امر یہ ہے کہ اشیائے خوردونوش سمیت مختلف چیزیں عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگئی ہیں، روز مرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کم آمدنی والے طبقے کا خاص طور پر متاثر ہونا فطری امر ہے۔ ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کا اثر روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی قیمتوں پر پڑنے کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کی یہ شکایت بجا ہے کہ روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی قیمتیں پہلے ہی پریشان کن حد تک زیادہ تھیں جبکہ مہنگائی کی نئی حالیہ لہر نے غریب وکم آمدن والے لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جبکہ رہی سہی کسر ناجائز منافع خور پوری کر دیتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس صورتحال کا منڈی کی تجارت اور معاشی اتار چڑھائو اور مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کے طریقوں سے مقابلہ کرنے کی نہ تو سکت ہے اور نہ ہی حکمت عملی اور نہ ہی اس پر کسی دور میں توجہ دی گئی، لے دیکر انتظامیہ کے پاس عوام کی اشک شوئی کیلئے چند دن کے نمائشی چھاپے اور زیادہ سے زیادہ چند ایک گرفتاریاں ہیں جس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، بہرحال صوبائی حکومت کو کم ازکم مصنوعی مہنگائی پیدا کرنیوالوں کیخلاف تو صوبہ گیر سخت مہم چلانی چاہئے اور گرانفروشی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے والوں کو لگام دینے کی پوری سعی کر لینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں