Daily Mashriq


ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے

حسرت موہانی نے اپنی یاداشت پر زور دیئے بغیر یہ بات بڑی آسانی سے کہہ دی اور جب اس کی یہ غزل غلام علی جیسے رشک ناہید کے ہاتھ لگی تو اس نے اسے کافی راگ کی بنیاد پر برسر محفل، نیم کلاسیکی رنگ وآہنگ میں پیش کیا تو سننے والوں کے ذہن وشعور میں ہلچل مچ گئی اور یوں انہیں جب اور جہاں کبھی بھی کسی بھولی بسری یاد نے ستانا شروع کیا تو وہ یہ غزل گنگنانے لگے۔ عہد حاضر میں رہنے والے بیتے د نوں کو یاد کرکے خوش ہوتے ہیں یا خفا۔ اس کا دارومدار بیتے دنوں کی یاد پر منحصر ہے۔ بڑی سادہ اور سمجھ آنے والی بات ہے کہ گزرے ہوئے زمانے کی ہر خوش کن یاد، عہد حاضر کے انسان کو خوش کرنے کا باعث ہوتی ہے مگر اس کیلئے شرط یہ ہے کہ خوشیوں کے ان لمحات کی کوکھ سے دکھوں، غموں، پریشانیوں اور پشیمانیو ں نے جنم نہ لیا ہو۔بھولا باچھا ماضی میں دھن دولت والا تھا۔ عیش وعشرت میں گزرتے تھے اس کے شب وروز اور وہ اپنے باپ دادا کی کمائی کو لٹاتے وقت بڑے گھمنڈ سے ’’پدر من سلطان بود‘‘ کا مظاہرہ کرتا پھرتا تھا۔ اس کے گرد ہر وقت مفت کی پینے والوں کا جمگھٹا رہتا تھا جو اس کی عیش وعشرت کے ساتھی تھے اور بھولے باچھا کے دھن دولت کو اپنی چکنی چپڑی یاری کے بہانے لوٹتے رہتے تھے لیکن وقت گزرنے کیساتھ جب وہ باپ دادا کی محنت کی ساری کمائی گل چھرے اڑانے والوں پر نچھاور کرچکا تو حالات نے اس کو پائی پائی کا محتاج کردیا اور اس کو کنگال دیکھ کر اس کی برپا کی ہوئی عیش وعشرت کی محفلوں کے سنگی ساتھی یا نام نہاد یار بیلی اسے بیچ بھنور کے چھوڑ کر رفو چکر ہوگئے۔ آج کل بھولا باچھا جب اپنے ماضی کے ان رنگین دنوں کو یاد کرتا ہے تو اسے پریشانی اور پشیمانی کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا اور یوں بیتے دنوں کی پرتعیش یادیں اسے خوش کرنے کی بجائے رنجور کر دیتی ہیں اور وہ دل ہی دل میں یہ سوچ کر کڑھتا رہتا ہے کہ کاش میں باپ دادا کی دھن دولت عیش وعشرت اور مفت خوروں پر نہ لٹاتا۔ وہ جو سیانے کہا کرتے ہیں کہ اب پچتائے کیا ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت۔ وہ پیچھا چھڑانا چاہتا ہے ایسی یادوں سے، بھول جانا چاہتا ہے وہ زندگی کے سفر میں پیچھے رہ جانے والے لمحات کو لیکن جب وہ ایسا نہیں کر سکتا تو چیخ چیخ کر پکار اٹھتا ہے کہ

یاد ماضی عذاب ہے یارب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ماضی کی اچھی اور بری یادیں ماضی کے مزار میں دفن ہوجاتی ہیں۔ بہت کم یادیں ایسی ہوتی ہیں جن کو دہرا کر انسان خوشی اور طمانیت محسوس کرتا ہے یا ان یادوں کو نہ بھلانے کی روایت نبھاتا ہے۔ جیسے کسی چاہنے والے کی فوتگی کے بعد اس کی برسی منانا یا یوم پیدائش منا کر’ ہیپی برتھ ڈے‘ کے نغمے الاپنا۔ کسی مذہبی یا قومی تہوار کو منا کر اس سے منسلک کسی واقعے کی یاد تازہ کرنا، اس کے علاوہ آنیوالی نسلوں تک اس یاد کو منتقل کرنا۔ جیسے عید الاضحیٰ پر حضرت ابراہیم خلیل اللہ ؑ کی قربانی کی سنت ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی یاد منانا یا 14 اگست کو یوم آزادی پاکستان مناکر تحریک آزادی کی یاد تازہ کرنا۔ یہ اور اس قسم کی بہت سی یادوں کو تازہ کرنے یا دہرانے کی بہت ساری رسمیں اور رواج قوموں کی تاریخ اور ان کی ثقافت کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ یادیں اچھی ہوں یا بری ماضی کا حصہ ہوتی ہیں اور ماضی کہتے ہیں اس زمانے کو جس کی ریت وقت کے گزرنے کیساتھ ساتھ ہمارے ہاتھوں سے پھسل چکی ہوتی ہے۔ سال 2017 کا دسمبر ہتھیلی میں پکڑی ریت کی طرح پھسلا جا رہا ہے۔ چند دن کا مہمان ہے۔ 21یا 22دسمبر کو ہم نے سال کا سب سے چھوٹا دن گزارا، پھر دنوں کی طوالت میں غیر محسوس طور پر اضافہ ہونے لگا۔ 25 دسمبر کو ہم نے بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا ایک سو اکتالیسواں یوم پیدائش منایا جبکہ اسی دن مسیحی برادری کے لوگ میری کرسمس کا جشن منا نے لگے اور یوں دسمبر 2017کے سارے ہنگامے ساری سرگرمیاں یاد ماضی بن کر صدیوں کے سمندر کی پرتلاطم موجوں کی نذر ہو نے لگیں ۔ دو چار دن بعد ہم دسمبر2017ء کی کتاب کا آخری پتہ پلٹ کر رواں سال کو ہم بیتے برس کا نام دیدینگے۔ ہاں رہ جائیں گی بہت سی تلخ و شیریں یادیں جو ہمیں تڑپائیں گی، رلائیں گی اور ان میں سے کچھ ہمیں فخر و انبساط میں بھی مبتلا کریں گی اور فہم وادراک والے ان یادوں کے سبق آموز حصوں کو چن چن کر، ان پر اپنے مستقبل کے تاج محل تعمیر کرنے لگیں گے اور جن بیچاروں کو بیتے دنوں کی یادوں سے عبرت نچوڑنی نہیں آتی، پھسلتا رہے گا ان کے ہاتھوں سے وقت کی ریت کا دھارا۔ بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے، الوداع دسمبر 2017ء کہنے کو اور نئے سال 2018 کی مبارک بادیں بانٹنے اور وصول کرنے کو۔ مگر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ دنیا جانے والوں کو الوداع کہنی بہت کم آتی ہے ، وہ آنیوالے لمحوں میں ایک دوسرے کو محبتوں کے گلدستے پیش کرتے ہوئے مبارکبادوں کے خیرسگالی جذبوں کا تبادلہ کرنے کی رسم ضرور ادا کریں گے کہ چڑھتے سورج کی چکا چوند میں ڈوبتے سورج کی لو ماند پڑ جاتی ہے ۔ ہم تلخ یاد نہیں بننا چاہتے بیتے دنوں کی ، طلوع ہونا چاہتے ہیں، ملک اور قوم کے روشن و درخشاں مستقبل میں ڈھل کر۔ خدا کرے کہ ہم ایسا کرسکیں۔

ہے غنیمت کہ بہ امید گزر جائے گی عمر

نہ ملے داد، مگر روز جزا ہے تو سہی

متعلقہ خبریں