Daily Mashriq


بس تھوڑی سی توجہ درکار ہے

بس تھوڑی سی توجہ درکار ہے

کی جانب سے برقی پیغامات کی تعداد میں روز افزوں اضافہ روزنامہ مشرق پر اعتماد کا مظہر ہے، ہمارے اس کالم کو شروع کرنے کا مقصد قارئین کرام سے رابطہ اور ان کو اس بات کا موقع فراہم کرنا تھا کہ اگر ہماری وساطت سے ان کا کوئی مسئلہ سامنے آئے تو ابلاغ کی ذمہ داری پوری ہو۔ ممکن ہے سرکاری اداروں کو بھی عوامی مشکلات سے آگاہی ہونے پر متعلقہ حکام ان کے ازالے کی سعی بھی کرتے ہوں، صوبائی حکومت کیلئے تو خاص طور پر یہ کالم عوامی مسائل کی ایک ایسی سمری ہے جس میں مختلف النوع مسائل اور مختلف علاقوں کے عوامی مسائل چند سطروں میں بیان کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے پڑھ کر ان کا نوٹس لینا اور ان کے حل میں آسانی ہونا فطری امر ہے۔ جو قارئین اس کالم کی وساطت سے اپنے مسائل و مشکلات سامنے لائے ہیں عموماً وہ اجتماعی نوعیت کے ہوتے ہیں، بنابریں ایک برقی پیغام ایک پوری برادری کا پیغام اور ان کی نمائندگی ہوتی ہے۔ عوام کی آواز بننے کی اس کوشش کو سراہنے والوں کے ہم تہہ دل سے مشکور ہیں اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ مشرق کے صفحات ان کی خدمات و نمائندگی کیلئے ہر وقت حاضر ہیں ۔ضلع ٹانک سے ابراہیم خان کو شکایت ہے کہ ڈی ایچ کیو ٹانک میں کتے کے کاٹنے کی ویکسین دستیاب نہیں، ایک کو رس پر کم از کم تین ہزار پانچ سو روپے کا خرچ آتا ہے ۔ عام آدمی کیا کرے ؟ اس ویکسین کی پشاور کے تدریسی ہسپتالوں میں بھی عنقا ہونے کی شکایت ہے، باربار یہ مسئلہ سامنے آتا ہے مگر حکومت نہ تو کتے مار مہم شروع کرواتی ہے اور نہ ہی ہسپتالوں میں ویکسین کی فراہمی کا بندوبست کرتا ہے، پھر بھی صحت کے انصاف کا چرچا بہت ہے۔ صوبائی وزیر صحت اور محکمہ صحت کے سینئر حکا م سے توجہ کی گزارش ہی ہو سکتی ہے مگر سنی ان سنی کرنے کی اُمید پر کہ اپنا مشاہدہ بھینس کے آگے بین بجانے ہی کا ہے۔دیر میدان سے زاہد شاہ کو شکایت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ایس ایس ٹیچرز سے انصاف نہیں کیا۔ حکومت نے پرائمری، سی ٹی، ڈی ایم، پی ای ٹی، قاری اے ٹی ، ٹی ٹی کو 2013ء سے اپ گریڈ یشن دیدی لیکن ایس ایس ٹیچر ز کو محروم رکھا گیا، اس ضمن میں ہائیکورٹ ایبٹ آباد بنچ نے بھی ان کے حق میں فیصلہ دیا لیکن تاحال ان کی ترقی کا مسئلہ حل پذیر ہے۔ صوبائی حکومت سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل میں غیر سنجیدہ نظر نہیں آتی اگر ایس ایس ٹیچر ز کے مسئلے پر ہمدردانہ غور کیا جائے تو بہتر ہوگا۔تخت نصرتی کرک سے صدیق مجبور شکوہ کناں ہیں کہ حکومت نے اساتذہ کی بھرتیوں میں پیشہ وارانہ ڈگری کی شرط ختم کرکے ان کیساتھ نا انصافی کی۔ بھائی معذرت کیساتھ تعلیم یافتہ اور صحت مند ہونے پر اپنے نام کیساتھ مجبور لفظ لگانامناسب نہیں، اسے کسی اچھے نام سے بدل دیں، جہاں تک آپ کی شکایت کا سوال ہے پیشہ وارانہ ڈگری کی شرط ختم کرنے سے مقابلہ ضرور سخت ہوگا مگر اس کا آپ کو انٹری ٹیسٹ میں ضرور فائدہ ہوگا پیشہ وارانہ ڈگری رکھنے والوں کو عام سندیافتہ اُمیدواروں سے مقابلہ کرنے میں گھبرانا نہیں چاہئے، محنت سے کام لیں اور اچھا سکور کر کے ملازمت کے حقدار بن جائیں۔ عام ڈگری ہولڈر کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ مقابلے میں آکر ملازمت کے حقدار بن جائیں، اسی طرح آپ بھی صرف تدریس تک خود کو محدود نہ رکھیں آپ کو بھی دیگر شعبوں میں مقابلے کی ممانعت نہیں۔پرائمری سکول کے چوکیدار وں کیساتھ ناانصافی کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پرائمری سکولوں کے چوکیداروں کو چودہ ہزار روپے تنخواہ کے عوض سے دن رات یعنی چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی لی جاتی ہے حالانکہ سرکاری ملازمین کو قانون کے مطابق آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔ یہ وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ آیا یہ کنٹریکٹ پر بھرتی چوکیداروں کا مسئلہ ہے یا سبھی کا۔ سرکاری رولز کے مطابق آٹھ گھنٹے ہی کی ڈیوٹی بنتی ہے یا پھر بھرتی کے وقت جن شرائط پر اتفاق کیا گیا ہو، بہرحال یہ ایک جائزاور قابل توجہ مسئلہ ہے کیونکہ ایک شخص کیلئے دن رات کسی طور ڈیوٹی کی انجام دہی مشکل ہے، خواہ اسے دروازہ بند کر کے سوناہی کیوں نہ پڑے۔ سکول کے اوقات میں تو بہرحال دروازے پر ڈیوٹی ہی کافی ہونا چاہئے۔خیبر پختونخوا کے صوبائی محتسب کے دفتر سے محمد طیب نے صوبائی محتسب کو ملنے والی شکایات کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے جو اچھی اور مثبت بات ہے۔ صوبائی محتسب کے دفتر کی جانب سے یہ وضاحت اور یقین دہانی حوصلہ افزاء ہے۔ قارئین کی سہولت کیلئے میں ان کا نمبر لکھ رہی ہوں تاکہ مناسب رہنمائی کیلئے ان سے رجوع کیا جاسکے اور باقاعدہ شکایت کے اندراج میں کوئی مشکل اور مغالطہ ہو تو وہ دور ہو سکے ۔ ایم طیب سے یہ توقع ہے کہ وہ بھی میری طرح قارئین کے فون اور پیغامات کے حصول میںپیش آنیوالی مشکلات کو ناگوار محسوس کرنے کی بجائے اسے ایک اخلاقی فریضہ جانیں گے۔ دفتر ی اوقات کے بعد کسی کی جائز شکایت سننا اور مشورہ دینا اور شکایت کا ازالہ کرنے کی سعی عبادت اور خدمت خلق ہے۔ ان کا نمبر 1314-9029897 ہے۔ جس طرح صوبائی محتسب کے دفتر سے ایک ذمہ دار شخص نے اسی کالم کی وساطت سے عوام تک رسائی کی سعی کی ہے اس طرح دیگر محکموں کے عہدیداران بھی اگر چاہیں تو ان کا خیر مقدم کیا جائیگا۔ روزنامہ مشرق اگر عوام اور سرکاری محکموں میں رابطے کا کردار ادا کر سکے تو یہ ادارے کیلئے اطمینان اور مسرت کا باعث ہوگا۔ ہماری تمام محکموںکے افسران تعلقات عامہ سے خصوصی گزارش ہوگی کہ وہ عوام سے رابطے بہتر بنانے اور اپنے ادارے کے حوالے سے غلط فہمیوں کو دورکرنے کی ذمہ داری بخوبی نبھائیں کیونکہ بعض اوقات بہت ساری غلط فہمیاں رابطوں اور معلومات کی کمی کی وجہ سے ہی جنم لیتی ہیں۔

متعلقہ خبریں