Daily Mashriq

لیڈی ریڈنگ ہسپتال

لیڈی ریڈنگ ہسپتال

ہمارے ایک مہربان دوران گفتگو موت کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں اگرچہ بعض اوقات محفل میں موجود بعض احباب یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ یار کوئی اور بات کرو کیوں ہمیں ہر وقت ڈراتے رہتے ہو!ان کا موقف یہ ہے کہ موت کو ہروقت یاد رکھنا چاہیے۔ ہم جوانی میں بڑھاپے کیلئے پس انداز کرتے رہتے ہیںاوریہ سب کچھ اسی لیے کرتے ہیں کہ ہمیں اپنے بڑھاپے کا یقین ہوتا ہے کہ ایک دن بڑھاپا بھی آئیگا اس حوالے سے ہم اللہ پاک کی محتاجی کے سوا ہر قسم کی محتاجی سے بچنے کی دعائیں بھی مانگتے رہتے ہیں۔ کیا کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا کی ہے کہ بڑھاپا یقینی نہیں ہے کسی وقت بھی موت کا فرشتہ نازل ہوسکتا ہے اور ہم بڑھاپے سے پہلے بھی کوچ کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ دنیا سے جوانی ہی میں رخصتی کے مناظر ہم روز دیکھتے رہتے ہیں ۔ اس سب کچھ کے باوجود ہم بڑھاپے کی تیاری تو کرتے ہیں جس کا آنا شک میں ہے مگر موت کی تیاری نہیں کرتے جس کے آنے میں دنیا کے کسی بھی فرد کو شک نہیں ہے دنیا کی ہر چیز پر مباحثہ ہوسکتا ہے لیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر کوئی بحث نہیں ہوسکتی اس میں شک وشبہ کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ہم نے تو اپنے بزرگوں سے یہی سنا ہے کہ کبھی کبھی قبرستان اور ہسپتال کا دورہ کرتے رہنا چاہیے عبرت حاصل ہوتی ہے اور جب قبرستان جائو تو قبروں پر لگے ہوئے کتبے پڑھا کروتمہیں بیس سال کے جوان کی قبر بھی ملے گی اور ستر سالہ بوڑھے کی بھی !تمہیں موت یاد رہے گی تم قبرستان میں قطار اندر قطار قبریں دیکھ کر سوچو گے کہ تم نے بھی یہاں ایک دن آنا ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں قیامت تک رہنا ہے اسی طرح وہ ہسپتال کے حوالے سے کہتے کہ ہسپتال کا دورہ کرنے سے تم صحت جیسی عظیم نعمت کی قدر کرنا سیکھ جائو گے ہسپتالوں میں کیسے کیسے جوان کتنی موذی بیماریوں میں مبتلا نظر آتے ہیں کتنے غریب مجبور اور لاچار لوگ ہسپتال کی راہداریوں میں بستر بچھائے اپنے مریضوں کی تیمارداری کیلئے ہسپتال کے عملے کی جھڑکیاں سنتے رہتے ہیں لیکن مجبوری کا نام شکریہ! وہ بیچارے کہاں جائیں کیا کریں یہ سرکاری ہسپتال ان کیلئے بنائے گئے ہیں اور پرائیویٹ ہسپتال کے اخراجات برداشت کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ہمارے پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی بھی یہی کہانی ہے آس پاس اور دور دراز کے علاقوں سے آنیوالے بھی بہ امر مجبوری یہاں علاج کیلئے آتے ہیں اگر ان کے علاقے میں جدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتال ہوتے تو وہ بیچارے کبھی بھی علاج کیلئے اتنا دور آنے کی زحمت گوارا نہ کرتے۔ اب چونکہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں اس کی گنجائش سے زیادہ مریض داخل ہوتے ہیں اسلئے کسی وارڈ میں مریض کو بستر کا مل جانا بڑی خوش نصیبی سمجھی جاتی ہے ۔ اس قسم کی چیزیں ہسپتال میں چلتی رہتی ہیں شہر کا بہت بڑا سرکاری ہسپتال ہونے کی وجہ سے یہاں ہروقت مریضوں کا اژدھام ہوتا ہے لیکن ڈاکٹر اپنا کام بطریق احسن سرانجام دے رہے ہوتے ہیںیقینا یہاں موجود ڈاکٹرز اپنی استعداد سے بڑھ کر کام کرتے ہیں یہ کتنی اچھی بات ہے ، جو ان دکھی لوگوں کی خدمت کرتا ہے وہ درحقیقت بہت بڑی عبادت کر رہا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا بہت بڑا اجر ہے کیونکہ دکھی انسانیت کی خدمت کرنا ہی اصل عبادت ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کریگا۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال پر بہت زیادہ دبائو ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پہلی فرصت میں اسی سائز کے کم از کم تین ہسپتال مزیدتعمیر کرے !ہمیںلیڈی ریڈنگ ہسپتال میں جرائم پیشہ عناصر کے بہت سے واقعات سننے کو ملتے رہتے ہیں جیسے نوزائیدہ بچوں کا اغوا ہسپتالوں میں آئے دن کا معمول ہے ۔ ہسپتال میں مریض کیساتھ آئے ہوئے تیماردار وارڈ کے سامنے چمن یا راہداری میں دریاں اور چادریں بچھا کر لیٹ جاتے ہیں وہاں واردات کی نیت سے پھرنے والے چور اچکے ان کے پاس آکر بیٹھ جاتے ہیں اور تاثر یہ دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنے مریض کیساتھ آئے ہوئے ہیں، اس دوران وہ بڑی ہوشیاری سے اپنی چکنی چپڑی باتوں سے مریض کے لواحقین کو اپنے اخلاق سے متاثر کر لیتے ہیں اور پھر موقع ملتے ہی ان کی کوئی قیمتی چیز چرا کر نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں۔ اگر ہسپتالوں میں موجود اردلی مریضوں کیساتھ آئے ہوئے سادہ لوح دیہاتیوں کو اس قسم کے جرائم پیشہ عناصر سے خبردار کردیں تو اس قسم کی وارداتوں کی روک تھام ہو سکتی ہے ۔ کالم کے آغاز میں بات موت کے حوالے سے چلی تھی اور ہسپتال وہ جگہ ہے جہاں اور کچھ یاد آئے نہ آئے موت ضرور یاد آتی ہے۔ یہاں بڑے بڑے خوبصورت جوان موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا دیکھے جاسکتے ہیں ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ انہیں اپنی کھوئی ہوئی صحت واپس مل جائے ! موت کو یاد رکھنا سب سے بڑی عقلمندی ہے اور اسے بھلادینا بہت بڑی جہالت اور غفلت ہے۔ 

اداریہ