Daily Mashriq


ڈومیسائل اب سکول میں میسر

ڈومیسائل اب سکول میں میسر

80ء کی دہائی میں جب میٹرک کا امتحان پاس کیا تو پہلی بار ڈومیسائل کا لفظ سنا، سو ایک فارم کہیں سے حاصل کیا اور اپنے کونسلر صاحب کے پاس چلے گئے۔ جنرل (ر) ضیاء الحق کے دور کے کونسلر صاحب کو بھی علم نہ تھا کہ ڈومیسائل میں کیا لکھنا ہے۔ کئی دنوں تک ان کے دربار حاضری دینے کے بعد کہیں جا کر ان کے دستخط اور تصدیق والا ڈومیسائل فارم واپس ملا۔ اگلا مرحلہ پولیس تھانے کا تھا۔ تھانے جانا یوں بھی شریف لوگوں کا کام نہیں ہے، سو ایک بزرگ رشتہ دار سے گزارش کی تو وہ ہمارے ضامن بن کر تھانے سے ہماری شرافت کا سرٹیفیکیٹ لے آئے۔ پوری تفصیل تو یاد نہیں لیکن بیس بائیس دنوں میں ڈومیسائل کی وہ نادر دستاویز حاصل ہوئی اور پھر کہیں جاکر کالج میں داخلہ مل سکا۔ آبادی زیادہ ہوجائے تو وسائل کی کمی ہوجاتی ہے، توکوٹہ سسٹم پروان چڑھتا ہے۔ ہمارا ڈومیسائل بھی ہماری شناخت سے زیادہ ہمارے کوٹے کے حصول کے لئے زیادہ مددگار رہتا ہے۔ ہم اکثر ان والدین کو بچوں کا ڈومیسائل بنوانے کا مفت مشورہ دیتے ہیں کہ جن کے بچے ابھی میٹرک ہی میں پڑھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ رزلٹ آنے کے بعد ہر کوئی اس دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔ عام دنوں میں ذرا سہولت رہتی ہے۔ آج ایک خبر پڑھی تو دل خوش ہوگیا کہ بالآخر ہم نے اس مسئلے پر قابو پالیا، حالانکہ یہ کوئی راکٹ ٹیکنالوجی جیسا مشکل مسئلہ نہ تھا کہ اسے حل نہ کیا جاسکتا۔ محکمہ انفارمیشن کے ایک بیان کے مطابق چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا محمد اعظم خان کی ہدایت پر طلبہ کو ان کے سکولوں میں ہی ڈومیسائل فراہم کئے جائیں گے، یعنی سکول انتظامیہ کی تصدیق پر طلبہ کے ڈومیسائل فارم بھرے جائیں گے اور شہری انتظامیہ اس پر ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا کریں گے۔ خبر ہے کہ سوات میں اس پر عمل بھی شروع ہو چکا ہے اور ہزاروں طالب علموں کو سکول کے اندر ہی ان کے ڈومیسائل دے دیئے گئے ہیں۔ کیا خیال ہے ایک مشکل ترین مسئلے کا یہ ایک آسان ترین حل نہیں تو اور کیا ہے۔ ہمارے ہاں جس چیز کی کمی روز اول سے پائی گئی ہے وہ عوام کو کچھ نہ سمجھنا ہے۔ جب عوام کو کچھ نہ سمجھا جائے تو ان کی سہولت کے لئے بھلا کیا نہیں سوچا جا سکتا ہے۔ ورنہ مسائل کی کیا حیثیت ہے کہ انہیں حل نہ کیاجاسکے۔ چیف سیکریٹری صاحب کی یہ اپروچ مجھے تو بہت اچھی لگی کہ جس کے پس منظر میں عوام کو سہولت پہنچانے کی سوچ کارفرما ہے۔ اصل میں ہم سرکاری ملازمین خود کو سرکار زیادہ سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ ہماری نوکری، ہماری تنخواہ اور ہماری مراعات بنیادی طور پر عوام کے لئے کوئی مخصوص جاب کرنے کے لئے ہی ہوتی ہے۔ جب کوئی بھی ملازم اپنی جاب کی روح کو سمجھنے لگے تو اس کی جاب میں بھی برکت آجاتی ہے اور عوام کی سہولت اور آسانی کے راستے نکل آتے ہیں۔ ایک دفعہ ایبٹ آباد میں صوبے کے مختلف انٹرمیڈیٹ بورڈز کے چند چیئرمینوں سے اچانک ایک ملاقات ہوگئی تھی، وہ حضرات کسی میٹنگ کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔ میں نے ان سے اتنی سی عرض کی کہ جناب ضروری نہیں کہ صوبوں، ملکوں یا دنیا کی سطح پر تاریخ لکھی جاتی ہو بلکہ تاریخ تو کسی ایک ادارے کی بھی لکھی یا مرتب کی جاتی ہے۔ ایک سکول، کالج، ہسپتال، بی ایچ یو، ڈائریکٹوریٹ وغیرہ ایک یونٹ ہوتا ہے اور اس کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے، سو کم ازکم اس ادارے کے سربراہ کو اس مختصر سی تاریخ میں اپنا نام سنہرے حروف سے لکھوانے کا ایک نادر موقع ضرور میسر آتا ہے کیونکہ اداروں میں کام کرنیوالوں کی کارکردگی کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ آپ کسی آفس میں ماضی کے کسی ایک افسر کا نام لیں تو سامعین میں سے ہی کوئی فوراً بول اٹھے گا کہ کیا شاندار آدمی تھا، یا کیا فضول آدمی کا ذکر کر دیا۔ہمارے بچپن میں ایک مجسٹریٹ سرفراز خان کی دھاک پورے پشاور شہر پر بیٹھی ہوئی تھی۔ جب کو ئی ملاوٹ کرنے والاملاوٹ کا سوچتا تو اس کے ذہن میں سرفراز خان کا نام ضرور آتا۔ سرفراز خان کو اپنی حیثیت کا بھی علم تھا اور عوام کے مسائل کا بھی شعور تھا اور اپنی ایک ہسٹری بھی بناگئے ورنہ تو مجسٹریٹ تو ہزاروں گزرے ہوں گے لیکن سرفراز خان ان میں ایک ہی تھے اور وقت کا کیا ہے وہ تو گزر ہی جاتا ہے۔ آج ایک افسر بااختیار ہے تو کل دوسرا ہوگا۔ اصل چیز یہ ہے کہ کارکردگی کیا ہے۔ ہم جس دور میں زندہ ہیں وہاں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہم جس انداز میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں وہ اب ویسی نہیں رہے گی اسکی بنیادی وجہ میڈیا اور سوشل میڈیا ہے ہم عوام اپنا اوردوسرے معاشروں کا موازنہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے ہمارا معاشرہ بہت سے حوالوں سے مثالی نہیں ہے۔ اسلئے تنقید کا ناختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہم تو ای بنکنگ، ای بلنگ، کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ، آن لائن شاپنگ، پیزا ڈیلیوری، کریم کا، ای ٹکٹنگ اور ایزی پیسہ کے دور میں زندہ ہیں۔ اس دور میں کوئی بھی دقیانوسی چیز نہیںچل سکتی، نہ ہی پرانی سوچ چل سکتی ہے۔ اب پٹواریوں کے دسترخوان نما کپڑے نقشے قصہ پارینہ ہوجانے چاہئیں۔ نئی ٹیکنالوجی کا دور ہے اسے استعمال کرنا چاہئے، عوام کو ان کے گھروں کے قریب سہولتیں دینے کا دور آچکا ہے جو عوام کا حق بھی ہے۔ اگرچہ ڈومیسائل کا سکولوں میں اجراء کروانا شاید کسی کیلئے بہت بڑی بات نہ ہو لیکن میرے لئے یہ سوچ اور پرسیپشن کی تبدیلی ہے۔ سماج کو تبدیل کرنے کے سب سے مقدم حوالہ سوچ اور پرسیپشن کا ہے وہ تبدیل ہو جائے تو تبدیلی یقینی ہوتی ہے۔ اس میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ سوچ کہاں سے بدلی ہے؟۔

متعلقہ خبریں