Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام احمد بن حنبل علیہ الرحمتہ کی طرح ذوالنون مصریؒ نے بھی بڑی ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ یہ بڑے مستجاب الدعوات بزرگ تھے۔ انہوں نے بھی بہت سی تکلیفیں اٹھائیں اور حکومت کی تمام ترغیبات کو پائے حقارت سے ٹھکرادیا۔

یہ عباسی خلیفہ واثق باللہ کے دور کی بات ہے کہ اس نے بعض علمائے سوء کے کہنے پر انہیں قتل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور انہیں گرفتار کرکے لانے کا حکم جاری کیا۔ دربار میں چٹائیاں بچھا دی گئیں۔ جلاد کو تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا۔

ذوالنون مصریؒ جب دربار میں پہنچے تو لوگوں کو دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کہ خلیفہ انہیں سزا دینے کے بجائے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ اس نے قیمتی خوشبو منگوا کر اپنے ہاتھ سے انہیں لگائی اور کہنے لگا: ابو الفیض! ہم نے خواہ مخواہ آپ کو مشقت میں ڈالا۔ آپ امن وسلامتی سے تشریف لے جائیں۔ جب وہ دربار سے نکل گئے تو ان کا وزیر ان سے کہنے لگا: ایسا منظر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ کوئی شخص اس طرح معاف کردیا گیا ہو۔ واثق نے کہا: تم نے صحیح کہا‘ لیکن کیا تم نے دیکھا نہیں تھا کہ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے‘ یقینا وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کررہا تھا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ہم اسے نقصان پہنچاتے اور وہ شخص ہمارے خلاف بددعا کردیتا تو ہماری شامت آجاتی۔ اس لئے میں نے اسے چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ (الدعاء المأ ثور و آدابہ‘ للحافظ أبی بکر الطرطوشی‘ ص:106 بتصرف)

حق بات کے لئے ظالم کے سامنے جوڈٹا رہتا ہے اس کی نصرت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ کامیابی ہمیشہ حقدار کو نصیب ہوتی ہے۔

بصرہ کی ایک خاتون رات کو تنہائی میں اپنی دعائوں میں فرماتیں۔ ’’الٰہی! کیا آپ ایک ایسے دل کو آگ میں جلائیںگے جو دن رات آپ کی محبت میں سرشار ہو…‘‘ ابو القاسم قشیریؒ فرماتے ہیں کہ ایک رات وہ خاتون یہی کہہ رہی تھیں کہ ان کو ایک آواز سنائی دی۔ ہمارا یہ شیوہ نہیں ہے ہم سے بدگمان نہ ہو۔ انہی خاتون کے پاس ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوریؒ تشریف لے گئے اور فرمایا ان کو کثرت غم سے وافر حصہ میں ملا ہے‘ اس پر ان خاتون نے فرمایا‘ اے سفیان ثوری! جھوٹ مت بولو اگر آخرت کی فکر کا پورا پورا غم ہوتا تو میرے لئے سانس تک لینا دشوار ہو جاتا۔حکیم بن جعفر بیان فرماتے ہیں کہ ایک خاتون جن کا نام جوہر تھا اپنے وقت کی بڑی عبادت گزار شب بیدار خاتون تھیں۔ ان کے بارے میں ان کے شوہر ابو عبداللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات خواب دیکھا کہ ایک خوب صورت جگہ چند خیمے لگے ہوئے ہیں انہوں نے دریافت کیا کہ یہ خیمے کن لوگوں کے لئے ہیں؟ ان سے کہا گیا یہ خیمے راتوں رات قرآن پاک میں مصروف رہنے والوں کے لئے ہیں ۔عبادت گزار اور پاکباز خواتین کا انعام بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا ہے بلکہ یہ خواتین خود اللہ کا انعام ہیں جس گھر میں جاتی ہیں وہ جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں