Daily Mashriq

مطلوبہ نتائج کے حصول میں ناکامی کا معاملہ

مطلوبہ نتائج کے حصول میں ناکامی کا معاملہ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی جانب سے تمام پرائمری اور سیکنڈری لیول ہسپتالوں میں چار ہفتوں کے اندر اندر ڈاکٹروں کی حاضری، ادویات کی مفت فراہمی، دیگر سٹاف اور صحت سے جڑی دوسری سہولیات کی فوری فراہمی کی ہدایت اس امر کا عملی اعتراف ہے کہ گزشتہ دور حکومت سے صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کے دعوؤں کے باوجود مریضوں اور ان کے لواحقین کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ نئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت تمام ہسپتالوں میں فنڈز کا اجراء جلد ازجلد ممکن بنایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں شامل ہونے والے سات نئے اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کی توسیع کا عمل فوری طور پر شروع کرنے سمیت ان اضلاع کیلئے6 مہینوں میں نیشنل ہیلتھ ریفارمز پیکج کی منظوری دی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے صحت انصاف کارڈ کو24 ملین آبادی تک توسیع دینے کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ کو اس امر کا بھی احساس تھا کہ ہیلتھ سٹریٹجی، ٹاسک فورس اور ایم ٹی آئی ایکٹ میں حقیقت پسندانہ اور عوام دوست ترمیم کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیںکہ یہ اقدام نافع ہوگا کہ ڈاکٹروں کی پروفائلنگ کی جائے اور اُنہیں ٹرانسفر اور پوسٹنگ میں موزوں جگہوں یا علاقوں میں تعینات کیا جائے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ہسپتالوں کو ممکنہ وسائل کی فراہمی اور ہسپتالوں کا انتظام بہتر بنانے کی مساعی سے انکار نہیں، گزشتہ حکومت نے سب سے زیادہ اصلاحات تعلیم اور صحت کے شعبوں میں کیں لیکن اس کے باوجود وہ کونسی وجوہات ہیں جن کے باعث اصلاحات اور کوششیں ثمربار نہیں ہوتیں۔ اگر جائزہ لیا جائے تو تدریسی ہسپتالوں سے لیکر ضلعی ہیڈکوارٹرز کی سطح کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کی صورتحال میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی شکایات بھی جوں کی توں ہیں۔ اس لحاظ سے انکار نہیں کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے رش اور ہجوم کے مقابلے میں فراہم کردہ وسائل کی کمی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ہسپتالوں میں بدعنوانی اور اقرباء پروری کے امکانات کسی بھی سرکاری محکمے کی طرح ہونا کوئی راز کی بات نہیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور لاچار مریضوں کیلئے سہولت اور وسائل اور ادویات وآلات تشخیص کی کمی ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہسپتالوں کیلئے فنڈز کا اجراء ہی کافی سمجھنے کی بجائے اس فنڈ کا درست جگہ استعمال بھی یقینی بنانے تک کا ایک مربوط عمل ہونا چاہئے تاکہ وسائل کا ضیاع نہ ہو اور وسائل کے استعمال سے عوام مطمئن بھی ہوں اور ان کی شکایات کا ازالہ بھی ہو۔ جہاں تک نئے اضلاع میں صحت کارڈز کی فراہمی کا سوال ہے عوام کو علاج کی مفت سہولتوں کی فراہمی کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن جس بڑے پیمانے پر اس مقصد کیلئے فنڈز دیئے جاتے ہیں اس امر کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اس سے کماحقہ کارڈ کے حامل افراد کو علاج اور ادویات کی سہولت مل رہی ہے یا نہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے فوائد کے مقابلے میں اخراجات اور وسائل کا استعمال کہیں بڑھ کر ہے۔ اس امر کا سروے ہونا چاہئے کہ کتنے افراد نے صحت کارڈ سے ابتک کس نوعیت کی سہولت حاصل کی ان کے علاج کے اخراجات اور حکومت کی جانب سے فراہم کردہ رقم کا تناسب کیا تھا چونکہ کارڈ صرف داخل مریضوں ہی کیلئے کار آمد ہے اس لئے اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ رقم انشورنس کمپنی کو دینے کی بجائے حکومت خود صحت کارڈ جاری کر کے اس کارڈ پر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت ادویات تشخیص اور علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں تو کیا سرکاری وسائل سرکار ہی کے ذریعے اور براہ راست عوام پر خرچ کرنے کا عمل احسن نہ ہوگا۔ سوائے خوف خدا سے کام لینے اور مستحقین کو ان کا حق دینے کو یقینی بنانے کے عمل کے علاوہ اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی۔ جہاں تک ڈاکٹروں کی پروفائلنگ اور ان کی ٹرانسفر پوسٹنگ کے ضمن میں موزوں علاقوں میں تعیناتی کا سوال ہے اس پر ایم ایم اے کے دور حکومت سے اجلاس فیصلے اور اقدامات کرنے کے زبانی کلامی اعلانات تو بہت سامنے آتے رہے ہیں لیکن عملی طور پر کسی ڈاکٹر کو اس کے ضلع میں تعینات کرکے وہاں پر ٹینیور گزارنے کی نوبت شاید ہی آئی ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں اور فیصلوں کو نتیجہ خیز بنائے بغیر اصلاح احوال ممکن نہیں اجلاسوں میں مثبت تجاویز اور اقدامات کا عندیہ ضرور ملتا ہے مگر عملدرآمد کی باری آنے پر نتیجہ مایوس کن سامنے آتا ہے جب تک اس قسم کی صورتحال موجود رہے گی پتھر وہیں کا وہیں پڑا رہے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ وسائل کی فراہمی کیساتھ ساتھ علاج وتشخیص پر مامور افرادی قوت کے رویئے اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے پر توجہ دے اور ہسپتالوں میں ایک ایسا نظام رائج کیا جائے کہ مریض کو مریض سمجھ کر توجہ دی جائے۔ تعارفی پرچی اور ٹیلی فون کال سن کر ترجیح وتشخیص کی لعنت کا خاتمہ کیا جائے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو پیشہ ورانہ اخلاق اور ضابطوں کا پابند بنایا جائے۔ خاص طور پر نرسنگ اسٹاف کو بااخلاق طریقے سے مریضوں اور ان کے لواحقین سے پیش آنے کی ہدایت کی جائے۔

متعلقہ خبریں