Daily Mashriq

احتساب پر بختاور کے سوالات کا جواب دینے کی ضرورت

احتساب پر بختاور کے سوالات کا جواب دینے کی ضرورت

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر حکومتی وغیر حکومتی عناصر کے بارے جو آٹھ سوال پوچھ رہی ہیں اس کا جواب ’’چور اور ڈاکو کی بیٹی‘‘ نہیں بلکہ ان سوالات کا جواب دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ان سوالات کے جوابات کا علم ہو اور حکمران خود کو احتساب سے بالاتر سمجھنے اور دوسروں کا احتساب میں سنجیدہ ہونے والے نہ کہلائے جا سکیں۔ حزب اختلاف کی طرف سے بار بار یہ سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ نیب حزب اختلاف کے رہنماؤںکا احتساب تو دیوانہ وار کر رہی ہے لیکن حکومتی جماعت اور حکمرانوں پر اسی نوعیت کے الزامات پر سنجیدگی سے سوالات بھی نہیں ہو رہے ہیں۔ اس قسم کے سوالات نیب اور حقیقی احتساب کے دعویداروں کے حق میں بہتر نہیں جب تک ملک میں بلاامتیاز احتساب نہ ہوگا اور مقدمات کی تحقیقات جامع اور شواہد پر مبنی نہیں ہوگی اور اس حد تک مستند نہ ہوں گے کہ ان کو اعلیٰ عدالتوں میں بھی تسلیم کر کے نیب عدالت کے فیصلوں کو برقرار نہیں رکھا جائے گا تب تک احتساب کے عمل کی وقعت نہیں ہوگی۔

اغواکاری کی روک تھام میں ناکامی

ہمارے کرائم رپورٹر کے مطابق پشاور میں اگرچہ سٹریٹ کرائمز نے اغوا برائے تاوان اور بڑے جرائم کی جگہ لے لی ہے تاہم اب بھی اغوا ایک بڑا مسئلہ ہے اور پچھلے سال بھی ضلع بھر میں اغوا کی ایک سوباون وارداتیں ہوئی ہیں۔ یہ وہ وارداتیں ہیں جن میں پولیس نے ایف آئی آر درج کیں ورنہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پشاور کے گرد ونواح کے علاقے اور ضلع خیبر سے لیکر سخاکوٹ تک کا علاقہ اب بھی اغواکاری کی لعنت سے پاک نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ اغوا کو دہشتگردی جیسے بڑے جرائم کی فہرست میں شامل کرکے اس کی روک تھام کی ذمہ داری سی ٹی ڈی کے سپرد کردی گئی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی اضلاع کی باقاعدہ فوجی آپریشنوں کے ذریعے تطہیر کرنے کیساتھ ساتھ سماج دشمن عناصر، ان کی کمیں گاہوں اور مراکز کے خاتمے کے بعد اور شہروں میں دہشتگردوں کا پیچھا کرنے کی ذمہ داریوں میں نمایاں کمی آنے کے بعد سی ٹی ڈی کو اغواء کاروں کے انسداد کیلئے زیادہ مواقع اور وقت ملنے کے باعث اس ضمن میں نمایاں بہتری آنی چاہئے تھی۔ اب جدید آلات اور حفاظتی کیمروں کی آنکھ سے دیکھنے کی سہولت بھی بڑی حد تک حاصل ہے موبائل فون کی صورت میں اپنی لوکیشن اور واردات کے ثبوت بھی اغواء کار اور سماج دشمن عناصر جیب میں ہی لئے پھرتے ہیں کسی علاقے میں واردات ہونے کے بعد جیو فینسنگ ایک نمایاں مددگار عمل ہے۔ ان انتظامات اور سہولیات کے بعد عوام کے تحفظ کے اقدامات یقینی ہونے چاہئے تھے لیکن اس کے باوجود محولہ قسم کی صورتحال اس امر کے بارے میں غور وخوض کی متقاضی ہے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کے باعث اغوا کی وارداتیں ہوتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ شہری اس قسم کی واردات پر پولیس پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ کیا اس کی واحد وجہ یہ تو نہیں کہ پولیس اعتماد کے قابل نہیں اور عوام پولیس کو ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں۔ علاوہ ازیں اب تک پولیس کی جانب سے اغواء کی تقریباً ہر واردات کے شکایت کنندگان کو اغواکاروں سے معاملت کر کے مغوی کو چھڑانے کا جو مشورہ دیا جاتا تھا وہ اب تک لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوا۔ انسداد اغواء کاری کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات سے ہی پولیس کا عوام کی نظروں میں اعتماد بحال ہوسکتا ہے۔ وہ کیا اقدامات ہوسکتے ہیں اس ضمن میں پولیس کو کوئی مشورہ دینے کی بجائے صرف یہ حوالہ دیا جانا مناسب ہوگا کہ کس طرح پنجاب پولیس کے ایک ایس ایچ او نے فائرنگ کرتے ڈکیت کو جان پر کھیل کر گرفتارکیا اور عوام کو پولیس پر اعتماد کا عملی موقع فراہم کیا۔

کرسمس کے موقع پر اظہار یکجہتی کا عمدہ مظاہرہ

کرسمس کے موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت فوجی اور ضلعی انتظامیہ کے افسران سمیت پولیس افسران کا مسیحی برادری کے تہوار کرسمس کی تقریبات میں شرکت کر کے ان کی خوشیوں میں شامل ہونا اقلیتی برادری سے یکجہتی اور ان کو برابر کا محب وطن شہری سمجھنے کی عملی اور عمدہ مثال ہے۔ اس سے معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے حوالے سے اقلیتی برادری کو تحفظ کا ہی احساس نہ ہوگا بلکہ ان کی اہمیت اور ان کو برابر کا شہری تسلیم کئے جانے کا بھی اندازہ ہوگا۔ جہاں جہاں مذہب اور عقیدے کے اختلاف کا سوال ہے وہ اپنی جگہ لیکن بطور شہری ہم میںکوئی فرق نہیں اور ہم سب برابر ہیں محبت وطن پاکستانی ہونے کے ناتے یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم مل جل کر اپنے وطن کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار بحسن وخوبی ادا کریں۔

متعلقہ خبریں