Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

،مرغی ،دھوبی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مرغیوں اور انڈوں کی بات دوبارہ نہیں کریں گے۔ ہائے اس زودپشیماںکاپشیماں ہونا!اچھی بات ہے کہ آدمی اپنی بات سے رجوع کرے تو اسے غلطی کا احساس اور اعتراف قرار دے کر درگزر کرنا چاہیئے لیکن سیاسی دنیا میں اسے یوٹرن کہا جاتا ہے اب تو لوگ ایک دوسرے کو یہ کہنے لگے ہیں کہ جہاں عمران خان کی تصویر لگی ہو وہاں سے واپس مڑجائو۔ بابائے مشرقیات کا خیال ہے کہ ایسا کیا جائے تو کبھی کوئی منزل مقصود پر نہیں پہنچ سکتا، کوئی قومی موقع ہو یا پھرکوئی سربراہ مملکت آنا ہو کوئی اجلاس اور کانفرنس ہو وزیراعظم کی تصویر یں پورے اسلام آباد میں لگتی ہیں جہاںجہاں وہ جاتے ہیں میں ان شہروں میں لگتی ہیں پھر کیا وہاں گاڑیاں مڑتی ہی رہیں گی چھوڑیں ان سیاسی باتوں کو مرغیوں کی فراہمی کے ہم منتظر ہیں کہ کب ہماری باری آئے اور تحریک انصاف کی مرغیاں آکر انڈہ دیں انڈوں سے چوزے نکلیں اور چوزوںسے مرغیاں بن جائیں نسل درنسل ان میں اضافہ ہو اور یہ کاروبار اتنا بڑھ جائے کہ ہم بھی حمزہ شہباز شریف کی طرح پولٹری کنگ بن جائیں۔ ہم بھی کیا لوگ ہیں حمزہ شہباز شریف مرغی پالیں تو پولٹری کنگ اور ہم ایسا کریں تو مرغی والے۔ چترال میں تو صورتحال اور بھی بد تر ہے وہاں پر آپ مرغی پالیں تو طنز، وہاں آپ دھوبی کی دکان کھولیں تو طنز، وہاں آپ دیسی حلوہ فروخت کریں تو طنز۔ایک شخص نے دھوبی کی دکان کھولنے کی تیاری کی پھر ارادہ ترک کیا کسی نے پوچھا کہ بھائی ارادہ کیوں تبدیل کیا کہنے لگے کہ پھر لوگ میرے بچوں کو دھوبی کی اولاد کا طعنہ دیں گے ۔ ایک محنتی شخص نے چترال میں دیسی قسم کی مقامی طور پر تیار کردہ حلوہ نما ڈش بنا کر فروخت کرنا شروع کی تو لوگ اس پورے علاقے کے لوگوں کو انگلیاں چاٹنے کا اشارہ کر کے زچ کرنے لگے ۔ علاقہ پولیس سربراہ بھی اس حلوہ فروش کا گرائیں تھا انہوں نے تنگ آکر پولیس سے ان کے برتن دریا میں پھینکوادیئے اور بندے کو وہاں سے بھگادیا ۔ اس کا نتیجہ دیکھیں تو آجکل اخبارات میں چترالی گھریلوملازم کی ضرورت کے اشتہارات کی صورت میں سامنے ہے۔ بھلا وزیراعظم کب پورے پاکستان کے عوام کو مرغی فروش بنا رہے ہیں وہ پولٹری کنگ تو بنا نہیں سکتے گائوں کی خواتین کو چار پانچ مرغیاں اور مرغا دیدیں کہ کچھ شغل میلہ ہی ہو جائے کچھ اچھی غذا ملے اور کچھ رقم ہاتھ لگے تو کیا بر اہے لیکن پی ٹی آئی کے ان لوگوں کا بھی کیا کہا جائے جو کیلکولیٹر پکڑے حساب کتاب کر کے آپ کو پانچ مرغیوں اور ایک مرغے شبانہ روز محنت کا صلہ ایک لاکھ روپے ماہوار آمدن کی صورت میں ہونے کادعویٰ کر گزرتے ہیں ایسا ہوتاتو ہم بھی لکھنا پڑھنا چھوڑ کر مرغی نہ بیچ رہے ہوتے۔ویسے بھی اس پیشے میں رکھا کیا ہے؟۔

متعلقہ خبریں