Daily Mashriq

افغان امن عمل کا تحفظ

افغان امن عمل کا تحفظ

افغانستان میں امن کے امکانات کے بارے میں حوصلہ افزاء اطلاعات کے درمیان کابل میں گزشتہ روز ایک سرکاری کمپاؤنڈ پر بم دھماکوں اور رائفل برداروں کا حملہ ایک نہایت رنج دہ اور تشویش ناک خبر ہے۔ اس حملے میں 43افراد جاں بحق ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے بعد پیر کے روز ایک اور حملہ ایسے دفتر پر ہوا جس میں پنشن اور سابق فوجیوں کو مراعات تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ حملہ کئی گھنٹے تک جاری رہا ۔ اس سے پہلے طالبان جنگجو بالعموم فوجی ٹھکانوں پر حملہ آور ہوتے رہے ہیں ۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ طالبان کا اس حملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ طالبان کے ترجمان کا بیان قابلِ فہم ہے کہ امریکہ کے آدھی فوج افغانستان سے واپس بلا لینے کے بعد افغانستان میں امن کے لیے طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی ابتداء ابوظہبی میں ہو چکی ہے اور پاکستان ‘ چین ‘ روس اور ایران افغانستان میں قیام امن کے لیے گہری دلچسپی لے رہے ہیں ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی افغانستان ‘ ایران ‘ روس اور چین کے دورے پر ہیں۔ اس دورے کا مقصد ان ممالک کو گزشتہ ہفتہ ابو ظہبی میں امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات میں پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔ ان مذاکرات کے لیے پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ دورے کے تیسرے مرحلے میں انہوں نے چینی ہم منصب سے ملاقات کی۔ چین نے افغان امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کا یقین دلایا ۔ دوسری طرف امریکہ کے دفتر دفاع پینٹاگون نے کانگریس کو ایک رپورٹ ارسال کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے چین ‘ روس اور ایران کلیدی حیثیت کے حامل ہیں۔ اگرچہ کابل میں مقیم امریکی اور نیٹو کی فوج کے کمانڈر نے کہا ہے کہ اسے ابھی امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں کوئی احکام موصول نہیں ہوئے تاہم صدر ٹرمپ زبانی یہ حکم دے چکے ہیں ۔ اس صورت حال میں پینٹاگون کی رپورٹ افغان امن کے حوالے سے مزید امید افزا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین ‘ روس اور ایران افغان امن میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ان ممالک کو اپنے علاقوںمیں افغانستان سے دہشت گردی کے در آنے کا خطرہ ہے۔پینٹاگون کی رپورٹ سے ظاہر ہے کہ امریکہ اس بات کا قائل ہو گیا ہے کہ افغانستان میں امن کی ضمانت اس علاقے کے ممالک فراہم کر سکتے ہیں کیونکہ افغانستان میں بدامنی سے انہیں خطرات کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے افغانستان کا امن کس قدر ضروری ہے یہ پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ طالبان اور امریکہ کو حتمی مذاکرات تک لانے میں پاکستان نے جو کردار اد اکیا ہے یہ اس سے واضح ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کی کوششیں‘ علاقے کے ممالک کی حمایت اور مدد کے ساتھ ثمر آور ہوں گی۔ لیکن اس میں ابھی بہت سی مسافت طے کرنا باقی ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے آدھی فوج واپس بلانے کے اعلان کے بعد یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے تاہم افغان امن کے لیے حقیقی کام خود افغانوں نے کرنا ہے۔ طالبان اور اشرف غنی حکومت کو خود معاملات طے کرنا ہوں گے جن میں بعض مراحل نہایت کٹھن ہیں۔ دونوں فریقوںکو یہ طے کرنا ہو گا کہ افغانستان کے موجودہ آئین میں باہمی امن کے لیے دونوں فریق کتنی گنجائش پر رضا مند ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف نئے حکومتی انتظام کے بارے میں اتفاقِ رائے پر پہنچنا اہم ہو گا دوسرے امریکی فوج کے انخلا کے بعد افغان طالبان اور سرکاری فوج اور حکام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ایک اہم کام ہو گا اور دونوں فریقین کو اس بات پر رضامند ہونا ہو گا کہ طالبان کو افغانستان کی فوج کا حصہ کس طرح بنایا جا سکتا ہے‘ کس طرح کار حکومت میں شراکت قائم کی جا سکتی ہے اور امریکہ جو اسلحہ اور گولہ بارود چھوڑ کر جائے گا اس کا آڈٹ کر کے اسے کس طرح استعمال میں لایا جا ئے گا۔ اور تیسری اہم بات یہ کہ 17سال تک امریکی قبضے کے باعث طالبان کے زیر اثر علاقوں اور کابل حکومت کے زیر اثر علاقوں کے کلچر میں جو فاصلہ پیدا ہو چکا ہے اسے کس طرح کم کیا جائے گا ۔ یہ سب باتیں ابھی دورازکار ہیں فوری طور پر زیرِ غور یہ پہلو ہونا چاہیے کہ افغان حکومت اور طالبان کتنی جلد مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں۔ جب تک اس طرف پیش رفت نہیںہو گی ۔ افغانستان میں امن کی مخالف قوتیں سرگرم ہو جائیں گی جس کی مثال کابل میں متذکرہ بالا دو حملوں میں ملتی ہے۔ طالبان کے ترجمان نے ان میں طالبان کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے ۔ تاہم افغانستان میں ایک تیسری قوت داعش کی ہے جس کے بارے میں تشویش طالبان ‘ کابل حکومت ‘ روس‘ چین‘ ایران اور پاکستان کو بھی ہے۔ کابل کے کمپاؤنڈ میں دہشت گردی کے دوران جو چار حملہ آور مارے گئے ہیں ان کی شناخت کابل حکومت نے بیان نہیںکی جس سے اندازہ ہو سکتا تھا کہ طالبان کے ترجمان کی تردید وقیع ہے۔ ایک اور عنصر داعش کے علاوہ بھی امن کے امکانات کو تلپٹ کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے اور وہ ایسے بااثر عناصر جو اس بدامنی سے فائدہ اٹھا کر مالدار بن رہے ہیں۔ منشیات اور قیمتی معدنیات کی سمگلنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ تیسرے غیر ملکی قوتیں جو افغانستان میں بدامنی میں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے فضا ہموار سمجھتی ہیں۔ وہ افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان کی سرپرستی بھی کر سکتی ہیں اور داعش کی مدد بھی کر سکتی ہیں۔ لیکن افغانستان کا امن بنیادی طور پر خود افغان عوام کی ضرورت ہے۔ اور امن دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی بنیادی طور پر انہی کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے افغان طالبان اور افغان حکومت کو امن کی طرف پیش رفت میں سرگرمی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ امن دشمن عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔

متعلقہ خبریں