Daily Mashriq

قیادت کا بحران اور جمہوری کلچر کی شکست وریخت

قیادت کا بحران اور جمہوری کلچر کی شکست وریخت

صورتحال اسی نہج پر جاتی دکھائی دے رہی ہے جس کے بارے میں پہلے بھی توجہ دلا چکا ہوں ایسا لگتا ہے کہ قحط الرجال ہے، حالانکہ ایسا ہے نہیں مگر سیاسی حلقوں نے ایسی ہی صورتحال بنا کر رکھ دی ہے، دو بڑی جماعتوں کی قیادت کے حوالے سے جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کا نتیجہ کیا نکلے گا؟میاں نواز شریف تو فی الحال سات سال کیلئے جیل سدھارے (فی الحال کا لفظ لکھنے کا جواز ہے جو قانونی ماہرین بخوبی جانتے ہیں) اس لئے آگے کیا ہوگا اس کے لئے تھوڑاسا انتظار کرناپڑے گا، جبکہ میاں شہبازشریف بھی فی الحال نیب کی گرفت میں ہیں اور ان کی قسمت کا فیصلہ مقدمے کی شنوائی کے بعد ہی ہوگا، تاہم صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ دم تحریر دونوں کے مستقبل کے حوالے سے وثوق سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ راقم السطور کو پیشگوئی کرنے کی نہ کوئی بیماری ہے صرف حالات سے اندازہ کر کے ہی بات کی جاسکتی ہے ، نہ ہی راقم ماہر علم نجوم ہے یوں موجودہ صورتحال نے لیگ(ن) کے اندر قیادت کا بحران ضرور پیدا کردیا ہے اور بڑے میاں صاحب کو قید کا فیصلہ سنانے کے ہنگام جو خبریں گردش کررہی تھیں ان میں پارٹی قیادت کے ضمن میں یہ اطلاع بھی شامل تھی کہ دونوں میاں صاحبان کی عدم موجودگی میں ایک کمیٹی قیادت سنبھالے گی جبکہ بڑے میاں صاحب نے بھی پارٹی کے سینئر رہنمائوں کی جانب اشارہ کر کے عندیہ دیا کہ یہ لوگ موجود ہیں نا ، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے بھی تشویشناک خبریں سامنے آنے کے بعد پارٹی پر قابض خاندان نے اگرچہ محترمہ صنم بھٹو کو لندن سے بلوا کر مبینہ طور پر کسی بھی’’ایمرجنسی‘‘ میں پارٹی قیادت ان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تاہم بعد کی اطلاعات کے مطابق محترمہ صنم بھٹو نے پارٹی سنبھالنے سے معذرت کر لی، اب یہ اطلاع کہاں تک درست اور مصدقہ ہے فی الحال یہ خبر تو ہے مگر حالات کی نزاکت کے پیش نظر کچھ بھی ممکن ہے، یوں وہاں بھی قیادت کا بحران جنم لیتا دکھائی دے رہا ہے ، ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کے بارے میں اگرچہ’’کرپشن‘‘ کے حوالے سے فی الحال کوئی تشویشناک اطلاعات موجود نہیں ہیں اس لئے وہاں قیادت کے بحران کی ایسی کسی صورتحال کی اطلاعات تو نہیں ہیں لیکن کب کس کا نمبر لگ جائے کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا ، البتہ دونوں بڑی پارٹیوں کے اندرحالات نے قیادت کے جس بحران کو جنم دیا ہے اس پر راقم کئی بار گزارش کرچکا ہے اور نہ صرف دونوں بڑی جماعتوں بلکہ دیگر تمام جماعتوں کا جمہوریت کے ساتھ روا رکھا جانے والا رویہ زیر بحث رہا ہے ، اور بارہا عرض کر چکا ہوں کہ جولوگ جمہوریت کا دن راگ رات الاپتے رہتے ہیں پہلے وہ جمہوریت کے ساتھ روا رکھے جانے والے اپنے سلوک پر تو غور کریں کہ کسی جماعت کے اندربھی حقیقی جمہوریت سرے سے موجود ہی نہیں ہے بلکہ اکثر سیاسی جماعتیں ذاتی یا خاندانی سیاسی کلب بن کر رہ گئی ہیں اور جن خانوادوں کا ان جماعتوں پر قبضہ ہے ان کے اشارہ ابرو کے بغیر پارٹیوں کے اندرونی معاملات چلانے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ لگتا ہے کہ ان لوگوں نے علامہ اقبال کے کہے کو اپنے لئے مشعل راہ بنادیا ہے جنہوں نے کہا تھا

گریزاز طرز جمہوری غلام پختہ کار شو

کہ از مغزدو صد خر فکر انسانی نمی آید

یعنی یہ سوچتے ہوئے کہ طرز جمہوری اختیار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والااس لئے پارٹیوں کے اندر جمہوریت قائم کرنے کی بجائے عوام کو جمہوریت کے نام پر اپنے پیچھے چلاتے رہو کیونکہ اہل مغرب کا یہ فلسفہ کہ جمہوریت ایک ایسی طرز حکومت ہے جو عوام کے ذریعے ، عوام کیلئے ،عوام پر حکمرانی کا حق دیتی ہے ، ان معاشروں میں تو چل جائے گی بلکہ چل رہی ہے جہاں تعلیم عام ہو ، مگر ہمارے ہاں جہاں تعلیم سے عوام کو محروم رکھنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی گزشتہ70سال سے جاری ہے وہاں تو جمہوریت بس بندوں کے گننے تک ہی محدود ہے یعنی

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تو لا نہیں کرتے

اب جو نئی صورتحال جنم لے رہی ہے اس میںنہ صرف سیاسی رہنمائوں کوسر جوڑ کر بیٹھنا پڑے گا اور اگر ملک میں حقیقی جمہوریت لانی ہے تو جو مذاق اس کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے اس سے’’تو یہ ثابت‘‘ہونا پڑے گا یعنی یہ جو چند خاندانوں کے ہاتھ میں اپنی باگیںدے کران کے اشاروں پر جمہوریت کا کھیل کھیلا جارہا ہے اور اب قیادت کے اس بحران میں انہیں یہ نہیں سمجھ آرہی ہے کہ وہ کس سمت جائیں تو اس سے’’بغاوت‘‘ کرنا پڑے گی تمام سیاسی جماعتوں پر جو’’قبضہ مافیا‘‘ چھائی ہوئی ہے ان کے کرتوت دیکھ کر تو بے چاری جمہوریت کو بھی ابکائی آرہی ہوگی، جمہوریت میں آدرشوں کو دیکھا جاتا ہے ، نظریات کا پرچار کیا جاتا ہے، فکر کے سوتے پھوٹ کر جمہوریت کے گلشن معطرومعنبر بناتے ہیں مگر یہاں تو قدیم دور کے دیوتائوں کی مانند مخصوص شخصیات کو’’دیوتا‘‘ مان کر ان کی’’پوجا‘‘کی جاتی ہے۔ کل کے لونڈوں کو لا کر پارٹیوں پر مسلط کردیا جاتا ہے جن کے آگے بڑے بڑے نابغہ قانون دان بھی سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہیں بیٹوں کہیں بیٹیوں کو پارٹی کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے اور عوام’’رقص بسمل‘‘ پر مجبور کئے جاتے ہیں، اس ملک میں اب یہ سب نہیں چلنے کا، اب جمہوریت کو صحیح معنوں میں نہ چلایا گیا تو ہم اسی طرح جمہوریت کے نام پر دھوکہ کھاتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں