Daily Mashriq


صلح کل پر یقین رکھنے والے رہنما کا قتل

صلح کل پر یقین رکھنے والے رہنما کا قتل

تین دن قبل کراچی کے ایک علاقے میں مصطفی کمال کی پی ایس پی کے ذیلی دفتر میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات میں دو کارکن قتل اور متعدد زخمی ہوگئے۔ منگل شام ڈیفنس کراچی میں ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی اور فعال سماجی شخصیت سید علی رضا عابدی کو ان کے گھر کی دہلیز پر دو موٹر سائیکل سوار قتل کرکے فرار ہوگئے۔ تشدد اور دہشت گردی کی تازہ لہر سے اہل کراچی کا خوف زدہ ہونا بجا طور پر درست ہے۔ اڑھائی کروڑ سے زائد کی آبادی والے شہر میں کتنے غیر قانونی تارکین وطن ہیں‘ کتنے جرائم پیشہ گروہ اور کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ؟ یہ ایسا سوال ہے جس کاجواب ان اداروں کے پاس بھی نہیں جو اس امر کے مدعی ہیں کہ شرپسندوں کو نکیل ڈال دی گئی‘ امن لوٹ آیا ہے اور کراچی ایک نئے سفر پر گامزن ہے۔ سید علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم کے حصے بخرے ہونے پر جماعت کے کسی ایک دھڑے کے ساتھ چلنے کی بجائے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ پچھلے کچھ عرصہ کے دوران انہوں نے چند اہم سیاسی ملاقاتوں کے علاوہ ایم کیو ایم کے اعتدال پسند عناصر کو منظم کرنے اور سیاسی جدوجہد کے دائرے میں لانے کے لئے کوششیں شروع کر رکھی تھیں۔ حالیہ دنوں میں انہوں نے سوشل میڈیا کی ایک سائٹ پر اپنے اکائونٹ کے ذریعے اپنی سیاسی و سماجی فہم کے مطابق متعدد معاملات پر کھلی تنقید کی۔ وہ کراچی میں تجاوزات کے نام پر قانونی لیز رکھنے والوں کو دربدر کرنے کے بھی شدید ناقد تھے۔ ایم کیو ایم کے فعال رہنما کے طور پر برسوں سر گرم رہنے کے باوجود عابدی کراچی کے مختلف الخیال سماجی طبقات میں نہ صرف مقبول تھے بلکہ بہت سارے خود ساختہ رہنمائوں سے زیادہ احترام بھی پاتے تھے۔ ان کے سفاکانہ قتل پر کراچی سمیت ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بعض تجزیہ نگار اس قتل کو خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔ چند ایک کے خیال میں عابدی کا قتل منظم جمہوری جدوجہد پر یقین رکھنے والوں کے لئے انتباہ ہے ان کے خیال میں عابدی کی حالیہ سر گرمیوں کو کچھ حلقے پسند نہیں کر رہے تھے۔ قاتل کون تھے‘ مقاصد کیا تھے‘ عابدی ہی ٹارگٹ کیوں ہوئے؟ ان سوالوں کا جواب تحقیقات سے مل سکتا ہے۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ کراچی کی انتظامیہ اور خفیہ ادارے جب اس امر سے آگاہ تھے کہ عابدی کو پچھلے کچھ عرصہ سے دھمکیاں مل رہی تھیں اور وہ اس حوالے سے باضابطہ طور پر متعلقہ حکام و اداروں کو آگاہ بھی کر چکے تھے اس کے باوجود ان کی حفاظت کو یقینی کیوں نہ بنایا جاسکا؟ کیا تحقیقات کا ڈول ڈالتے وقت اس پہلو کو بھی مد نظر رکھ کر تحقیقات ممکن ہوں گی؟۔

عابدی کے سفاکانہ قتل سے صلح کل امن و اخوت مشترکہ سیاسی جدوجہد پر یقین رکھنے والی ایک توانا آواز ختم ہوگئی۔ ان کے قتل سے کس کس کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے اور کون اس قتل کو منتشر سماج میں مزید انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کرسکتا ہے اس پر غور کرنے اور تفتیش کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ جس تہذیبی اور نسبی شناخت کے وہ حامل تھے اس شناخت کے حامل ان کے لواحقین اور عزیز و اقارب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر دہشت گردوں کا آسان ہدف ان کی برادری کے لوگ ہی کیوں ہوتے ہیں؟ اس سوال پر برہم ہونے کی بجائے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری دانست میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ چونکہ وہ ایم کیو ایم کے مختلف الخیال دھڑوں سے مایوس تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مرکزی سیاست کے دائرے میں دوبارہ منظم اور فعال کرنے کے لئے کوشاں تھے اس لئے ان کے قاتل وہی ہوسکتے ہیں جو کراچی کے تعلیم یافتہ طبقے کو ایک خاص حکمت عملی کے تحت دیوار سے لگانے میں مصروف ہیں تاکہ مسائل اور بحران کو سیاسی فہم کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے لسانی سیاست اور عصبیت کے تناظر میں ہی دیکھا جائے۔ لہٰذا بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اس سفاکانہ قتل کی آزادانہ تحقیقات ہوں تاکہ امن و جمہوریت کے دشمن بے نقاب کئے جاسکیں۔ مکرر عرض ہے کہ سید علی رضا عابدی کے سفاکانہ قتل کو دہشت گردی کی معمول کی واردات کے طور پر دیکھنے اور کندھے اچکنے کے ساتھ روایتی تعزیتی بیانات سے مقتول کے اہل خانہ‘ عزیزوں اور ہم خیالوں کو بہلانے کی ضرورت کی مالا نہ جپی جائے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ کوئی طاقت کراچی کے قتل و غارت کے ان سیاہ دنوں کو دوبارہ مسلط کرنے کی خواہش مند ہے جب گھروں سے حصول رزق کے لئے نکلنے والوں کے پیاروں کی آنکھیں دہلیز پر لگی ہوتیں اور کلیجہ ہر دم منہ کو آرہا ہوتا تھا۔ ان کے سفاکانہ قتل پر چند نو مولود عناصر کا سفاکانہ تبصرہ بھی قابل مذمت ہے اورایک خاص فہم کے حاملین کا مبارک و سلامت کا شور بھی۔ کیا قتل کی تفتیش کرنے والے ہر دو قسم کے عناصر کو بھی تحقیقات کے دائرے میں لا کر یہ سوال دریافت کرنے کی زحمت کریں گے کہ انہوں نے قتل کا جو پس منظر بیان کیا اس کی وجوہات کیا ہیں؟ گو ہمیں امید تو نہیں کہ اس طرف توجہ دی جائے پھر بھی یہ عرض کرنا لازم ہے کہ تحقیقات کے دوران دوسرے پہلوئوں کے ساتھ اس پہلو کو بھی مد نظر رکھا جائے کیونکہ اگر یہ محض چند عاقبت نا اندیشوں کا شور ہے تو ان کا محاسبہ ہوسکے اور دریافت کیاجائے کہ آخر کن وجوہات پر انہوں نے اپنی رائے کا اظہار ضروری جانا۔ عابدی کے سفاکانہ قتل کو بد امنی کی کسی نئی لہر کا ابتدائیہ نہ سمجھنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ بہت ضروری ہے کہ اس حوالے سے ٹھوس تحقیقات ہوں قاتلوں کے ساتھ عزائم بھی بے نقاب کئے جائیں یہاں اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ وقوعہ کی سی سی ٹی وی ویڈیو سے ماہرین کم از کم اس قاتل کی شناخت کو یقینی بنا سکتے ہیں جس نے موٹر سائیکل سے اتر کر عابدی کو پسٹل کا نشانہ بنایا اس شناخت کے لئے جدوجہد وسائل کااستعمال سازش کو بے نقاب کرنے میں بنیادی معاون ہوگا۔ امید ہے کہ اس طرف بھی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں