Daily Mashriq

محترمہ بینظیر بھٹو ٗ شہید جمہوریت ۔۔۔

محترمہ بینظیر بھٹو ٗ شہید جمہوریت ۔۔۔

انسانی تاریخ میں کسی ارفع مقصد کیلئے زندگی وقف کرنا اور پھر جان تک قربان کر دینا ایک ایسا مقام ہے جو محدود چند لوگوں کو ہی حاصل ہوا ہے۔ اسلام نے جہاں دین کی خاطر جان دینے کو شہادت کا درجہ دیا ہے وہاں وطن اور حق کی خاطر جان قربان کرنے والوں کو بھی ’’شہید‘‘ہی کہا ہے اور اچانک و ناگہانی موت بھی شہادت کا ایک درجہ شمار ہوتا ہے کسی بھی زاویے اور پہلو سے دیکھیں تو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن ٗ پاکستان بلکہ اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جانشین محترمہ بینظیر بھٹو کی 27دسمبر 2007ء کی شام راولپنڈی میں موت ٗ شہادت ہی کہلاتی ہے اور جب لاکھوں لوگ دل سے گواہی دیں تو پھر اللہ تعالیٰ بھی مرنے والے کے حق میں قبول کرلیتا ہے ٗ اگر 27دسمبر 2007ء پر نظر ڈالیں تو محترمہ بینظیر بھٹو شہید انتخابی مہم کے سلسلے میں راولپنڈی کے مشہور لیاقت باغ میں ایک بڑے جلسے میںخطاب کرنے آئیںتھیں۔راولپنڈی پر یہ قرض ہمیشہ رہے گا کہ اس شہر نے ملک کے تین وزرائے اعظم کھا لئے لیاقت علی خان اور محترمہ بینظیر بھٹو تو ایک ہی جگہ محلاتی سازشوں کا نشانہ بنے جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کو جیل میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ دسمبر کا مہینہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کا مہینہ ہے جب 27دسمبر کو ایک کامیاب جلسے کے بعد ان کو نشانہ بنا کر شہید کردیا گیا ۔ بی بی شہید کوئی حادثاتی سیاست دان یا وزیراعظم نہیں تھیں بلکہ سیاست اور شہادت ان کے خون کا ورثہ تھا جبکہ کئی ذاتی حوالوں سے وہ پاکستان اور امت مسلمہ کیلئے ایک فخر کا باعث تھیں ۔عظیم لیڈرز قوموں کی قسمتیں بدلتے ہیں اور زندہ قومیں ہمیشہ انہیں یاد رکھتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھی قائداعظم محمد علی جناح کے بعد ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو جیسے عظیم لیڈرز عطاء کئے جنہوں نے بے شمار قربانیاں دے کر ہمیں ایک ملک دیا اور پاکستان کو اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنایا ۔مگر ! وقت کا پہیہ کب رکتا ہے چلتا ہی رہتا ہے اپنی سبک رفتاری کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں مگر اپنے پیچھے چھوڑ جاتا ہے کچھ ایسے انمٹ نقوش جو روشن ستاروں کی طرح افق پر ہمیشہ جگمگاتے رہتے ہیں یا پھر ایسی آہیں اور کراہیں ہوتی ہیں جو اپنے پورے خوفناک پس منظر کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کی یاد دلاتی رہتی ہیں۔بی بی کی شہادت کے بعد بی بی کے سفاک قاتل کیفر کردار تک تو دور کی بات بے نقاب بھی نہ ہو سکے مگر جمہوریت کو بقاء ضرور ملی اور بی بی شہید کی جان کی قربانی رائیگاں ہر گز نہیں گئی جس کی زندہ مثال پاکستان میں جمہوری حکومتوں کی آئینی مدت کا پورا ہونا ہے کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں بی بی کی شہادت سے پہلے ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے ۔ جمہوریت بہترین انتقام ہے ٗ اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے بھی خراج تحسین کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے کمال حکمت عملی سے اس وقت ملک دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنا کر وطن عزیز کو ایک بڑے نقصان سے محفوظ کیا جبکہ اس وقت ملک مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا پاکستان کھپے کا نعرہ مستانہ لگانے والوں نے نعرہ لگا کر وفاق پاکستان کو بچالیا لوگوں کو آس بندھائی اور شہید بی بی کے غم کو طاقت بنانے کا درس دیا ۔

آج محترمہ شہید کی 11ویں برسی کے موقع پر پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے اور مرکز میں وہ اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے مگر حالات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک گیر عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے ٗ ایک مرتبہ پھر محترمہ کا فلسفہ اور سوچ گھر گھر پہنچائی جائے تو یقینا اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔مگر آج تک ان کے قاتل کے بارے میں آگاہی نہیں ہوئی۔ پیپلز پارٹی اور اس کی حکومت میں شامل جیالو اگر اب بھی بی بی شہید کے قاتلوں کو بے نقاب نہ کیا گیا اور عوام کے سامنے نہ لایا گیا اور کیفر کردار تک نہ پہنچایا گیا تو بی بی شہیدسے والہانہ محبت اور عقیدت رکھنے والے کروڑوں لوگ یہ بات سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ بی بی کے قاتلوں کو آسمان کھا گیا یا زمین نگل گئی ۔ اس کا جواب اگر فی الفور نہ مل سکا تو محترمہ بینظیر بھٹو اور اس کے بابا کی قربانی زبان حال سے مطالبہ کرے گی کہ تم لوگوں کو عوام نے ہمارے خون کے صدقے اس لیے اقتدا ر کے ایوانوں تک پہنچایا تھا کہ تم مصلحت کا شکار ہو جائو اور حکومت کے پروٹو کول کے مزے لوٹو ٗ حکومت نے اپنی مدت پوری کرکے اقتدار دوسری سیاسی جماعت کے حوالے کیا مگر بینظیر بھٹو کے قاتلوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا ۔ کہیں وہ وقت نہ آجائے کہ لوگ ہمارے حکمرانوں کو گریبان سے پکڑ کر ان سے سوال کریں اور اس کا جواب نہ مل سکے ۔ اور پھر محترمہ شہید اور اس کے بابا کی قربانی اور اس کے خون کا حساب قاتلوں کے بجائے تم سے مانگنا شروع کردیں۔

متعلقہ خبریں