Daily Mashriq


’’محبت ملتوی کر دی تھی اس اُمید پر ہم نے‘‘

’’محبت ملتوی کر دی تھی اس اُمید پر ہم نے‘‘

عشق ومحبت ایک فطری جذبہ واحساس ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات جلیلہ میں سے ہر ذی نفس کو عطا فرمایا ہے۔ حیوانات، نباتات اور کائنات کے مختلف نظاموں کے درمیان کشش اور لطف اب سائنس کی تعلیم نے ایک عجب انداز سے دریافت کی ہے۔ لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ جذبہ یعنی عشق ومحبت جس فراوانی کیساتھ عطا کیا ہے دیگر مخلوقات میں بانداز دگر تو پایا جاتا ہے لیکن انسانوں کی طرح اس کا اظہار نہیں ہو پاتا۔ حُب کسی انسان یا چیز یا مقصد ومشن کیساتھ فرزانگی کے دائروں کے اندر انس وچاہت کا نام ہے جبکہ اس کے برعکس عشق میں اکثر عقل وفہم کی حدود سے تجاوز عین ممکن ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام میں حُب اور محبت تو مطلوب ہے لیکن عشق کی بات اس انداز میں نہیں ہوئی ہے جس طرح ہمارے ہاں عرف عام میں مشہور ہے۔ ہمارے ہاں عشق کا گہرا تعلق تصوف کیساتھ سامنے آیا ہے اور تصوف کے مختلف سلسلوں میں کبھی کبھی شریعت کے بعض معاملات نظرانداز ہونے کے خطرات وخدشات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ ابن عربی نے وحدت الوجود کا فلسفہ عشق کے زور سے منسوب ہوکر پیش کیا۔ جس میں کائنات کی ہر مخلوق خالق حقیقی کی مظہر ہے لہٰذا قابل پرستش ہے جو یقیناً شریعت کی سخت اور صریح خلاف ورزی ہے لیکن ایک دنیا اس فلسفے سے متاثر ہوئی اور آج تک اس کا سلسلہ دنیا کے مختلف ملکوں اور علاقوں میں جاری ہے۔ مسلمانوں کے ہاں بھی یہ مختلف صورتوں میں رائج ہوا اور آج بھی مختلف مکاتب فکر کے درمیان اس حوالے سے اتفاق واختلاف موجود ہے۔ یہ فلسفہ اتنا پُراثر اور پُرزور ہے کہ بھارت کی اکثریتی آبادی اسی فلسفہ مذہب کی پیروکار ہے۔ ہمارے چچا غالب نے بھی اس کا اظہار بہت عجیب ودلکش پیرائے میں کرکے اپنے عشق کا اظہار کیا ہے جس پر اہل شریعت کا اختلاف اپنی جگہ لیکن اتفاق کرنے والے بھی کم نہیں

غالب ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست

مشغول حق ہوں بندگیٔ بو تراب میں

عشق کرنا آسان ہے اور محبت مشکل۔ عشق میں عاشق سر سے گزر جانے کیلئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور یہ کوئی بڑی بات نہیں جبکہ محبت میں عقل اور دل کے درمیان حسین امتزاج واعتدال پیدا کرکے اپنے محبوب کی منشا ومرضی کے مطابق زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اپنی شاہکار مخلوق انسان کو محبت کا قرینہ سکھانے کیلئے کامل ترین انسان خاتم النبیینؐ کی اطاعت وفرمانبرداری کو اپنی محبت کیلئے شرط قرار دیا ہے۔ ’’کہہ لیجے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کریں، (اس کے نتیجے میں) اللہ تم سے محبت کرے گا‘‘۔ محبت کی یہ خالص اور اعلیٰ ترین صورت صحابہ کرامؓ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ پر اپنی محبت کی تکمیل ان الفاظ میں کر دی ’’اللہ اُن(صحابہؓ) سے راضی ہوا اور وہ (صحابہؓ) اللہ سے راضی ہوئے‘‘ یہ معیار اور راستہ قیامت تک ہدایت وفلاح کیلئے معیار وپیمانہ ٹھہرا۔ یہی عشق کامل ہے اور یہی محبت خالص ہے۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے، دل کو خوش رکھنے کیلئے تو اچھا ہے لیکن حقیقت میں بقول شاعر

کچھ بھی حاصل نہ ہوا زہد سے نخوت کے سوا

شغل بیکار ہیں سب تیریؐ محبت کے سوا

ہمیں اسی عشق ومحبت میں وطن عزیز پاکستان سے مُحبت ہے کیونکہ یہ عظیم وطن حب رسولؐ کے نتیجے میں وجود میںآیا۔ دنیا میں اس سے پہلے مدینہ طیبہ کی ریاست تھی جس میں اسی محبت کے زمزمے بہتے تھے۔ پاکستان کا قیام انسانی اخوت ومحبت کیلئے وجود میں آیا تھا۔ اس جذبے اور محبت کے مخالفین نے ستر برسوں تک پاکستان پر ایسے حالات طاری کئے رکھے کہ ’’یاراں فراموش کردند عشق‘‘ ہم عشق کرنا ہی بھول گئے۔۔ کیونکہ پاکستانیوں کو جان کے لالے پڑے رہے، کروڑوں انسان بیش بہا وسائل کے باوجود خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔ ایسے میں کوئی عشق کی کیا بات کرے۔ شاعر کو کہنا پڑا۔۔ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں۔۔ جس کی آرزو لیکر قافلے کے قافلے جان ہتھیلیوں پر رکھ کر چلے تھے کہ کہیں نہ کہیں تو دشت میں تاروں کی آخری منزل ملے گی۔ دیر آید درست آید۔ پاکستان اور اس کے مضافات میں بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ عمران خان والی تبدیلی سے اگر کسی کو چڑ ہے تو کوئی بات نہیں، وہ ’’تبدیلی‘‘ نہ سہی، کیا یہ بھی تبدیلی نہیں کہ ’’سی پیک کامیابی کیساتھ پاکستان کے طول وعرض میں جاری ہے۔ روس، پاکستان کیساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے، امریکہ، افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے۔ بھارتی پنجاب میں سکھ برادری پاکستان کے بارے میں جذبات خیر سے معمور ہونے لگی ہے۔ برطانیہ کی برٹش ایئرویز دوبارہ پاکستان سے آپریٹ کرے گی۔ سعودی عرب، امارات سے ڈالرز آرہے ہیں، افغانستان میں طالبان مذاکرات کی میز پر آچکے ہیں اور پاکستان کے اندر کرپشن کی طنابیں کٹ رہی ہیں۔ زندگی کے آثار عود کر آنے لگے ہیں۔ حکومت، افواج پاکستان اور عدلیہ تعمیرنو کیلئے ایک صفحے پر ہیں اور بہت جلد انشاء اللہ سیاسی جماعتیں بھی حکومت کیساتھ ملکر پارلیمنٹ کے ذریعے وطن عزیز کی تزئین وآرائش میں اپنا حصہ ڈالیں گے اور تب بہار آئے گی، دل عشق ومحبت کرنے کو چاہے گا اور اس لئے۔۔

محبت ملتوی کر دی تھی اس اُمید پر ہم نے

کہ بہت جلد ظفر اچھا زمانہ آنے والا ہے

متعلقہ خبریں