Daily Mashriq

شہید بےنظیربھٹو کی گیارہویں برسی پربلاول بھٹو کا جلسے سے خطاب

شہید بےنظیربھٹو کی گیارہویں برسی پربلاول بھٹو کا جلسے سے خطاب

ویب ڈیسک:طاقت کے نشے میں مست نام نہاد ٹھیکیداروں کے ہاتھ سے ملک نکلا جا رہا ہے۔

گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو شہید کی گیارھویں برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ صرف دو سال میں میری راہ میں کانٹے اور ذات پر حملے کیے گئے لیکن ان تمام قوتوں سے کہتا ہوں کہ میں تم سے اور تمہاری سازشوں سے لڑوں گا اور غرور کو پاش پاش کردوں گا، جے آئی ٹی کی رپورٹ سفید جھوٹ ہے جسے میں نہیں مانتا، عدالتوں کو بے وقوف، گمراہ اور سیاسی انجینئرنگ کےلیے استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ عدالت جے آئی ٹی رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم کو اندازہ ہی نہیں کہ وفاق کی بنیادیں کتنی کمزور ہوگئی ہیں اور ایک چنگاری سب کچھ راکھ کرسکتی ہے، کیا وجہ ہے کہ خیبرپختون خوا میں نوجوانوں کی ایک تحریک زور و شور سے اٹھ رہی ہے جس میں لوگ جوق در جوق شامل ہورہے ہیں، دو سال سے کہہ رہا ہوں پختون نوجوانوں کو دیوار سے نہ لگاؤ، سیکڑوں بلوچ ماؤں بہنوں کے مطالبات کیوں سنے نہیں جارہے ہیں، ان کے پیارے کئی سال سے لاپتہ ہیں، اگر وہ مجرم ہیں تو عدالتوں میں کیوں پیش نہیں کیا جاتا۔

بلاول نے کہا کہ تین صوبائی اسمبلیوں سے کالا باغ ڈیم کے خلاف قرارداد منظور ہونے کے باوجود اسے بنانے کی مہم چلائی جا رہی ہے، گلگت بلتستان سے سوتیلا سلوک کیوں کیا جارہا ہے، اب وہاں کے عوام شاید زیادہ عرصہ ناانصافی برداشت نہ کریں، نواز شریف کو سزا دلوانے کے بعد پنجاب میں لگنے والے نعروں کا کوئی تصور بھی کرسکتا تھا؟، ہر طرف غم و غصے کی لہر ہے، لیکن مجال ہے ملک کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو کوئی احساس اور فکر ہو، وہ تو طاقت کے نشے میں مست ہیں اور دیکھنے سے قاصر ہیں کہ ملک ہاتھ سے نکلا جارہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ  یہ کیسا وزیراعظم ہے جسے بیوی سے وزیراعظم ہونے اور ٹی وی سے ڈالر کے بڑھنے کا پتہ چلتا ہے، عمران کو حکومت دینی تھی تو تھوڑی تیاری ہی کرادیتے، اسے سمجھاتے مرغی انڈوں سے قوم کی تقدیریں نہیں بدلتیں، تم نے بے نامی اکاؤنٹ کی تحقیقات کیں لیکن ہمت ہے تو بے نامی وزیراعظم کی تحقیقات بھی کرتے، کرکٹ کھیلنے اور حکومت کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیرمین نے کہا کہ عمران خان وہ کٹھ پتلی ہیں جو ملک کو ون یونٹ بناکر ایک جماعتی نظام قائم کرنا اور 18 وہیں ترمیم کے تحت صوبوں کو ملنے والے حقوق ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ صوبوں کے قدرتی وسائل پر وفاق کا قبضہ چاہتے ہیں، ہم پر بھی 18 وہیں ترمیم ختم کرنے کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے، یہ لوگ ہمیں نام نہاد اور یکطرفہ احتساب سے نہیں ڈراسکتے، یہ کیسا احتساب ہے جس کا نشانہ صرف اپوزیشن ہے لیکن حکومت کو استثنیٰ ہے، نیب کی پھرتیاں صرف اپوزیشن کے لیے ہیں، علیمہ اور علیم خان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ لوگ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کرتے کرتے لانڈری کی رپورٹ لے آئے، یہ کیسا نظام ہے جس میں ایس ایس پی طاہر داوڑ کے قاتلوں کا سراغ نہیں ملتا لیکن میرے ناشتے کا بل مل جاتا ہے، ایف آئی اے سالہا سال سے اصغر خان کیس کی تفتیش نہیں کررہی لیکن ہمارے صدقے کے بکروں اور دھوبی کا حساب لیا جارہا ہے، مجھ پر وہ کیس ڈال رہے ہیں جب میں ایک سال اور 6 سال کا تھا، اگر میں اتنا ہی ہوشیار بچہ تھا تو مجھے ستارہ امتیاز ملتا، لیکن ہم اس ظلم کے خلاف جدوجہد کریں گے اور ملک کو کٹھ پتلیوں سے نجات دلائیں گے۔

متعلقہ خبریں