Daily Mashriq


پاک افغان سرحد کھلنے کے امکانات

پاک افغان سرحد کھلنے کے امکانات

وزیر اعظم کے مشیر خارجہ اُمور سرتاج عزیز نے میڈیا کو بتایا ہے کہ پاک افغان سرحد دو ایک روز میں کھول دی جائے گی اور پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر ذخیل وال نے تو ایک ٹویٹ میں کہہ دیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحد (اتوار) ہی کو کھول دی جائے گی۔ ان دونوں بیانات سے ظاہر ہے کہ دونوں ملکوںکے اعلیٰ حکام کے درمیان سرحد کوکھولنے کے بارے میں مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھے ہیں۔ سرتاج عزیز نے یہ بتاتے ہوئے کہ سرحد دو ایک روز میں مکمل طور پر کھول دی جائے گی کہا ہے کہ قطعی اعلان پیر کو وزیر اعظم نواز شریف کے زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا جائے گا۔ سرحد کھلنے سے ان افغان باشندوں کی مشکلات میں کمی آئے گی جو چند روز پہلے ہنگامی حالات میں سرحد بند کیے جانے کے باعث ، پاکستان میں پھنس گئے تھے اور ان تاجروں کی مشکلات کا ازالہ ہو گا جن کی مال بردار گاڑیاں سرحد بند ہو جانے کی وجہ سے سرحد کھلنے کے انتظار میں کھڑی ہیں ۔ دس روز پہلے پاک افغان سرحد اس وقت بند کی گئی تھی جب پاکستان کے چاروں صوبوں میں دہشت گردی کی نئی لہر ابھری تھی اور حملہ آور افغان باشندے پائے گئے تھے۔ افغانستان سے روزانہ تیس سے پینتیس ہزار افراد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ، کچھ کاروبار کی غرض سے ، اورکچھ مختصر تعداد میں تعلیم اور علاج معالجے کی غرض سے پاکستان آتے ہیں۔ روزانہ اتنی بڑے تعداد کی پڑتال کرنا کہ ان میں سے کوئی دہشت گردپاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے یا نہیں، ممکن نہیں۔ اس لیے فوری طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سرحد بند کر دی جائے اور اس فیصلے کا مثبت اثر ہوا۔ پاکستان کی فوج ، رینجرز اور سول آرمڈ فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر گرفت کرنے کی جو کارروائی شروع کی تھی اس میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ اور پاکستان میںدہشت گردی کی جو لہر ابھری تھی وہ ماند پڑتی ہوئی دکھائی دی۔ سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں متعدد افغانی باشندے بھی شامل ہیں اور ان کے پاکستان میں سہولت کار بھی تاہم ان گرفتاریوں کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ پاک افغان سرحد بند کر دی گئی تھی اور اس سرحد سے کسی کو آر پار جانے کی اجازت نہیں تھی اس لیے متوقع حملہ آور اور ان کے سہولت کار روزانہ پاکستان آنے والے افغان باشندوں کی آڑ میں واپس افغانستان نہ جا سکے۔ اگرچہ پاک افغان سرحد بند کرنے کا فیصلہ ہنگامی صورت حال میں فوری فیصلے کے طور پر ہوا اور اس سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں مدد بھی ملی تاہم اس سرحد کو مستقل طور پر بند رکھنا پاکستان کا مقصد نہیں ہے۔ لیکن سرحد دوبارہ کھولنے کا مطلب یہ بھی نہیںہونا چاہیے کہ پہلے کی طرح تیس پینتیس ہزار افراد روزانہ پاکستان آئیں اور پڑتال کے عمل کو ناکام بناتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوں اور پھر واپس بھی آئیں ۔ اور اتنی بڑی تعداد ہونے کے باعث یہ تحقیق کرنا ممکن نہ رہے کہ کون پاکستان میں داخل ہوا اور کون پاکستان سے افغانستان چلا گیا جب کہ افغانستان کے علاقے میں ہزاروں ایسے لوگ مقیم ہیں جو آپریشن ضرب عضب سے بچ نکلنے کے لیے فرار ہو کر افغانستان میں روپوش ہوئے ہیں۔ روزانہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے ہزاروں افراد میں یہ اندازہ نہیںلگایا جا سکتا کہ ان میں کون ایسے لوگ ہیں جو پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میںمقیم ہیں اور مذموم عزائم کے لیے پاکستان میں واپس آ نا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ افغانستان سے روزانہ پانچ سو ایسے مریض بھی پاکستان آتے ہیں جو پشاور کے ایسے ہسپتالوں اور پرائیویٹ کلینکس میں علاج کراتے ہیں جہاںکے اخراجات پاکستان کے اوسط آمدنی والے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ افغانستان سے یہ ''متمول افراد'' ایسے علاقوں سے گزر کر آتے ہیں جو پاکستان مخالف دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ ہیں۔ اور جہاںافغانستان کی سیکورٹی فورسز کا کنٹرول نہیں ہے۔ روزانہ ایسے پانچ سو متمول مریضوں کا پاکستان میں آنا اس معاملے کو مشکوک بناتا ہے۔ پاکستان کے سرحد کی نگرانی پر مامور اہل کار ان سے افغانستان کے محکمہ صحت کے جاری کردہ ایسے سر ٹیفکیٹ طلب کرنے میں حق بجانب ہوں گے جن میں کہا گیا ہو کہ ان کا علاج افغانستان میں ممکن نہیں اس لیے ان کا پاکستان میں علاج کرانا ضروری ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں طرف آباد لوگوں کے آپس میں نہایت اچھے اور مذہبی ، لسانی تعلقات ہیں جو دونوں ملکوںکے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان اور افغانستان دو آزاد اور خود مختار ملک ہیں۔ اور ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرتے ہیں۔ دونوں ملک اس اصول کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایک کی سرزمین دوسرے کے خلاف استعمال نہیںہونی چاہیے۔ بعض وجوہ کی بنا پر افغانستان نے پاکستان سے فرار ہو کر پناہ لینے والے ناپسندیدہ افراد کو افغانستان میں داخل ہونے اور وہاں اپنی کمین گاہیں قائم کرنے سے نہیں روکا۔ اب افغانستان کا فرض ہے کہ وہ انہیں گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کرے ، اگر ایسا ممکن نہیں تو انہیں دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے سے روکے۔ اور اگر اس حوالے سے پاکستان کے تعاون کی ضرورت محسوس کی جائے تو وہ حاصل کیا جائے کیونکہ آزاد اور خود مختار ملک ہونے کی حیثیت سے اس کا فرض ہے کہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، اور پاکستان تو افغانستان کا قریب ترین ہمسایہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں اور صدیوں تک ایک دوسرے کے ہمسائے رہیں گے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ دو ایک روز میں پاک افغان سرحد کھولنے کے جو امکانات پیدا ہوئے ہیں وہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کی سرحد کے احترام کے حوالے سے مذاکرات کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں۔ سرحد کا کھلنا بلکہ جلد کھلنا بہت ضروری ہے تاہم اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ سرحد کھلنے کی بنیادسرحدی انتظام کے حوالے سے اتفاق رائے پر ہو۔ سرحدی انتظام پر مکمل اور قابل عمل اتفاق رائے آئندہ کوئی بدمزگی پیدا نہ ہونے کی ضمانت ہوگا۔

متعلقہ خبریں