قومی سلامتی…کوتاہیاں دور کرنے کی ضرورت

قومی سلامتی…کوتاہیاں دور کرنے کی ضرورت

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے گزشتہ روز میڈیا کی تنظیموں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، کونسل آف پاکستان ، نیوز پیپرز ایڈیٹرز اور پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ساری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ نہ اس کی کامیابیوں کا کریڈٹ کسی ایک ادارے یا فرد کو دیا جا سکتا ہے نہ اس میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ان کے لیے کسی کو مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کی صورت حال بہتری کی جانب مائل ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ 2013ء میں ملک میں ہر ہفتے چھ یا سات دھماکے ہو جاتے تھے اور اب کئی دن کے بعد کسی دھماکے کی خبر آتی ہے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ آپریشنل جنگ میں اگرچہ کامیابی ہو چکی ہے تاہم نفسیاتی جنگ کے لیے قوم کے اتحاد کو فروغ دینے میں میڈیا کو ویسا ہی کردار ادا کرنا چاہیے جیسا سانحہ اے پی ایس کے بعد سامنے آیا تھا۔ ان نہایت حوصلہ افزاء خیالات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے شکایتاً یہ بھی کہا کہ وفاق کی طرف سے الرٹس وصول ہونے کے باوجود بعض واقعات میں صوبوں نے مناسب کارروائی نہیںکی۔ وزیر داخلہ کے اپنے بیان کے مطابق سیکورٹی کی ان کوتاہیوں کی ذمہ داری میں بھی وفاقی حکومت کو صوبوں کے ساتھ شریک ہونا چاہیے۔ لیکن انہوں نے کوتاہیوں کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈالنا مناسب سمجھا۔ جہاں تک کہ الرٹس کے جاری کیے جانے کا سوال ہے اگر کوئی قابل عمل اطلاع موصول ہو جائے تو کوئی صوبائی حکومت خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ اگر فرائض کی بجا آوری کے جذبے کے تحت نہیں تو کریڈٹ لینے کی خاطر ہی عمل میں آئے گی۔ اس پہلو پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ کتنی سیکورٹی الرٹس جاری کی جاتی ہیں اور ان میں کتنی ایسی ہوتی ہیں جو قابل عمل ہوتی ہیں اور کتنی ایسی جن کے نتیجے میں سیکورٹی پر مامور سیکورٹی اداروں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں اور بس۔ اس پہلو پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ الرٹس جاری کرنے کے بعد وفاقی اور متعلقہ صوبائی حکومت کے درمیان رابطہ جاری رہے اور کسی مرحلے پر یہ الرٹس غیر متعلقہ افراد پر افشا نہ ہوں اور حملہ آور چوکنے نہ ہو سکیں۔ انسداد خفیہ کاری وفاقی حکومت کا کام ہے اس سے موصول ہونے والی اطلاعات ایک تو خفیہ رہنی چاہئیں دوسرے ایسی ہونی چاہئیں جن پر نتیجہ خیز کارروائی ہو سکے۔ اگرچہ آئینی ترمیم کی رو سے امن وامان صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے تاہم یہ ترمیم وفاق کو قومی سلامتی کے تقاضوں سے فارغ نہیں کرتی۔ اسی جذبے کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ ساری قوم اور سارے اداروں کی ذمہ داری ہے۔ وفاق کو کسی کی دل آزاری کے بغیر ان کوتاہیوں کو دور کرنے کے لیے مشاورت اور کوشش کرنی چاہیے جن سے قومی سلامتی کے تقاضے مجروح ہوتے ہیں۔ جہاں تک نفسیاتی جنگ جیتنے کے لیے میڈیا کے کردار کی بات ہے تو میڈیا اگر بعض ضروری تقاضوں کی نشاندہی کرے تو اسے مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے۔ اور اس پر غور کیا جانا چاہیے ۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد میڈیا نے بالخصوص دہشت گردی اور سیکورٹی پر حملہ کرنے والوں کو ان کے مذموم عزائم ہی کے حوالے سے دیکھا اور بیان کیا اب بھی میڈیا انہیں ان کی مذموم کارروائیوں ہی کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تشکیل دینا محض میڈیا کا فرض نہیں ہے دیگر اداروں خاص طور پر اہل سیاست کو جن کی بات سنی جاتی ہے دہشت گردی اور قومی سلامتی اور اتحاد کو ضعف پہنچانے کی کوششوں کیخلاف یک زبان ہونا چاہیے۔ خود کش دہشت گرد ہلاک ہو جاتے ہیں ۔ حملہ آوروں میں سے بعض گرفتار اور بعض فرار ہو جاتے ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات معلق رہتے ہیں اور اہل سیاست حملہ آوروں کی مذمت کرتے ہیں لیکن ان کے محرکین اور عزائم کی طرف توجہ دینے کی ذمہ داری بطریق احسن نہیں نبھاتے جس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ ہمہ گیر اور قوی نہیں ہو پاتا۔

اداریہ