Daily Mashriq


کلاشنکوف کلچر!!!! شکوہ اور جواب شکوہ

کلاشنکوف کلچر!!!! شکوہ اور جواب شکوہ

جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ایک معروف مذہبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عملیت پسند سیاسی راہنما کی شناخت رکھتے ہیں۔اپنی سیاست کے لئے غیر موافق حالات میں کامیابی سے راستہ تلاش کرنے کا فن جانتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے ایک نجی چینل کو تہلکہ خیز انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذہبی طبقے اور میرے مدارس کے نوجوانوں کو کلاشنکوف تھمانے کے ذمہ دار ریاستی ادارے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیوں ان کے کندھوں پر بندوق سجائی گئی ؟کیوں انہیں میزائل چلانے کی تربیت دی گئی؟کیوں افغان جہاد پر بھیجا گیا ؟ اگر وہ کہتے ہیں کہ مدارس میں مصیبت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ مصیبت آپ نے ہمارے گلے میں ڈالی ہے ۔آج بھی ملک میں مسلح نوجوان اور تنظیمیں موجود ہیں کبھی کہتے ہیں کہ ان کی ضرورت افغانستان میں ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ کشمیر میں ضرورت ہے۔نظریۂ ضرورت کے تحت سب چیزیں جائز ہوتی ہیں پھر وہی چیزیں حرام ہو جاتی ہیں۔نظریہ ضرورت کو ختم کرکے ملک کو آئین وقانون کے تحت چلا یا جائے ۔مولانا فضل الرحمان کا یہ انداز بیان ملکی اسٹیبلشمنٹ سے ان کی ناراضگی کا اظہار ہے ۔ وہ کئی اہم عہدوں پر بھی غیر جانبداراور ناراض سے دکھائی دیتے ہیں ۔مثلاًان دنوں مولانافضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں مگر وہ اس اہم منصب پر رہتے ہوئے بھی کچھ غیر جانبدار اور ناراض ناراض لگتے ہیں۔اسی لئے وہ کشمیر کا ذکر کرنا اکثر بھول جاتے ہیں ۔اس کے باوجود مولانا نے دینی مدارس کے نوجوانوں کو کلاشنکوف تھمانے کی ذمہ داری کے حوالے سے جو سوالات اُٹھائے ہیں وہ پاکستان کے ماضی سے ہی نہیں حال سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔

افغان جہاد نے خطے میں بندوق کا رومانس پیدا کیا ۔گن کلچر کو فروغ دیا ۔یہ اس دور کی عالمی ضرورت تھی ۔پاکستان کے اداروں میں اگر جنرل اختر عبدالرحمان اور جنرل حمید گل بیٹھے تھے جو عقیدے کے طور پر یہ سمجھتے تھے کہ افغانستان میں لڑائی عین جہاد ہے اور پاکستان کو ہمسائے کے طورپر اس کا ساتھ دینا چاہئے تو امریکہ میں چارلی ولسن جیسے کردارچترالی ٹوپی پہنے ایک ہاتھ سے گھوڑے کی طنابیں کھینچ کر اور دوسرے میںبندوق تھام کرافغان جہاد کو مغرب میں گلیمرائز کرتے رہے ۔مصر کی امریکہ نواز سادات حکومت جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کو کال کوٹھڑیوں سے نکال کر افغانستان پہنچاتی تھی تو یہ عالمی گریٹ گیم کا حصہ تھا ۔دنیا اپنی اپنی ضرورتوں کے تحت اس کھیل میں اپنا کردار ادا کر رہی تھی ۔مشرق وسطیٰ کی مسلمان حکومتیں اپنے ریڈیکل عناصر سے چھٹکارہ پانے کے لئے انہیں افغانستان روانہ کر رہی تھیں اور یوں انہیں وقتی طور پر ایک در دسرسے نجات حاصل ہو رہی تھی ۔امریکہ پرسوویت یونین سے ویت نام کا بدلہ لینے کی دھن سوار تھی اور وہ وسط ایشیائی ریاستوں کے معدنی وسائل پر نظریں گاڑھے ہوئے تھا ۔پاکستان اس موقع سے امریکہ کی ہٹی ہوئی نظر اور بٹی ہوئی توجہ کا فائدہ اُٹھا کر اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ بھارت کے ساتھ خوف سے آزاد ہو کر دو دوہاتھ کرے۔

ا سٹیبلشمنٹ نے نوجوانوں کو کلاشنکوف تھمائی ،گن کلچر کو فروغ دیا اس کے بدلے دینی طبقات کا کلچر بھی بدل گیا ۔جہادی کلچر کے فروغ پذیر ہوتے ہی دینی مدارس اور طبقات کے رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے۔جنرل ضیاء نے علماء کو ان ایوانوں کے اندر پہنچایا جہاں کبھی ان کا داخلہ ممنوع ہوتا تھا ۔ ایوان صدر میں ملاقاتیں ہونے لگیں اور تسلسل کے ساتھ سجنے والی محفلوں میں انہیں وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتارہا ۔کلاشنکوف تو نوجوانوں کا زیور بنی مگر جبہ ودستار کے حامل علمائے کرام کے حصے میں ڈبل کیبن گاڑیاں بھی آنے لگیں اورگن مین بھی ۔ایرانی انقلاب کی درآمد کے خوف کا علاج سعودی سرمائے سے ہونے لگا۔یہ بات درست ہے کہ معاشرے کی بے ہنگم اور غیر منظم ملٹرائزیشن نہیں ہونی چاہئے تھی ۔ اس کام کو پوری قوت سے روکنا ممکن نہیں تھا مگر اسے قاعدوں اور ضابطوں میں محدود رکھا جاسکتا تھا ۔یہ سوچا جانا چاہئے تھا کہ جب گلی گلی مسلح تربیت لینے والے موجود ہوں گے تو کوئی بھی طاقت انہیں استعمال کر سکتی ہے ۔یہ کام جب ضابطوں اور قاعدوں کے پیمانے سے چھلک پڑا تو پھر مقصدیت نہیں کلچر غلبہ پاگیا ۔بندوق کی سمت اہم نہیں رہی بلکہ بندوق ہی اول وآخر بن گئی ۔جب بندوق کلچر بن گئی تو پھر اس میں کئی نقب لگتے چلے گئے ۔بندوق اور بندوق والے ہاتھوں پر ''برائے فروخت '' کا سٹکر بھی چسپاں ہو گیا ۔یوں کچھ بندوقیں اور کچھ بندوقوں والے ہاتھ جو محض ایک کلچر کا حصہ تھے امریکہ اور بھارت کے نشانے پر آگئے ۔امریکہ سوویت یونین کو شکست دے کر خوش ہوااور وسط ایشیائی ریاستوں کے وسائل پر جھپٹ پڑا۔پاکستان ایٹمی پروگرام کی کامیابی سے تکمیل پر نازاں تھا ۔افغان مجاہد کابل کے اقتدار میں اپنے حصے کے سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے ۔افغان جنگ کا حقیقی سکریپ سمیٹنے میں تو دلچسپی لی گئی مگر اس جنگ کا معنوی ملبہ اور سکریپ سمیٹنے میں تساہل برتا گیا ۔جس نے ایک نئی گریٹ گیم کے لئے میدان ہموار کیا اور آج افغانستان اور پاکستان اسی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ کل بھی گریٹ گیم تھی اور آج بھی حالات کا پرنالہ تھوڑی سے ردوبدل کے ساتھ وہیں ہے۔پاکستان جیسے ممالک جو معاشی طور پر خود مختار نہ ہوں ،جزوی اقتدار اعلیٰ کے حامل ہوں تادیر اپنے قدموں پر کھڑے رہ کر فیصلے نہیں کر سکتے۔اگر گریٹ گیم آج نہ چل رہی ہوتی تو ترکی کو مسلسل عدم استحکام کاشکار کرنے والا کون ہے؟مشرق وسطیٰ کے ممالک کو خانہ جنگی کی دہلیز تک پہنچانے والا کون ہے ؟ان کا تو کوئی ضیاء الحق تھا نہ اختر عبدالرحمان اور حمید گل ۔ان کے پہلو میں تو کوئی افغان جہاد نہیں لڑا گیا اور نہ ان کی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ملکوں کے نوجوانوں کو کلاشنکوف تھمائی ۔

متعلقہ خبریں