Daily Mashriq


مسلمان اور مغرب' پس منظر اور پیش منظر

مسلمان اور مغرب' پس منظر اور پیش منظر

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے لے کر آج تک یہودیت' مسیحیت اور اسلام کے درمیان کشمکش ایک تاریخی حقیقت ہے۔ مدینہ طیبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مہاجرین مکہ کی آمد اور وہاں انصار صحابہ کی مدد و تعاون سے ایک اسلامی معاشرے اور بعد میں باقاعدہ ایک اسلامی ریاست کا قیام مدینہ اور جزیرہ عرب کے دیگر علاقوں کے یہودیوں کو ایک آنکھ بھی نہ بھایا۔ مدینہ طیبہ میں قیام کے دوران قرآن کریم کی صورت میں جو احکام و تعلیمات نازل ہوئیں اس میں یہودیوں کی تاریخ' اعمال اور موجودہ صورتحال کے بارے میں بتدریج دو ٹوک انداز میں وضاحت سامنے آئی۔سورہ بقرہ' سورہ انفال' توبہ' احزاب اور کئی ایک اور سورتوں میں یہود مدینہ کے کرتوت' عزائم اور لین دین اور معاملات کے حوالے سے جو احکام نازل ہوئے اس کی وجہ سے ان کی بھرپور کوشش رہی کہ مدینہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کو نکالا کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے کبھی معاہدہ کی خلاف ورزی کی' کبھی شرارتیں اور سازشیں کیں اور کبھی کفار مکہ کو اکسا کر اور ان کومدد دے کر مدینہ منورہ پر تین بار چڑھائی کے لئے تیار کرایا۔ آخر کار مدینہ منورہ سے یہودیوں کے تین چار بڑے قبائل کو ہجرت کرنا پڑی اور ایک بڑی تعداد معاہدوں کی خلاف ورزی کے سبب اور پھر غزوہ خیبر میں ہلاک ہوئی اور فتح خیبر کے بعد ان کا زور ٹوٹا اور کئی ایک یہودی اسلام قبول کرکے صحابہ کرام کی صف میں شامل ہوئے۔ اس وقت تک مسلمانوں کا اہل صلیب سے کوئی بڑا اختلاف یا جھگڑا وغیرہ نہیں ہوا بلکہ جزیرہ نمائے عرب کی مسیحی برادری کی بہت بڑی تعداد انجیل کی تعلیمات میں موجود پیشن گوئیوں کے سبب اسلام کے سایہ عاطفت میں داخل ہوئی۔ لیکن جب حضرت عمر فاروق اور ما بعد کے ادوار میں اسلامی فتوحات ہوئیں جس میں اہم ترین فلسطین اور قسطنطنیہ ہیں تو اہل صلیب جو رومن امپائر کی صورت میں دنیا کی سپر طاقت تھی یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی۔ دوسری طرف ایرانی سلطنت تھی جو دنیا کی دوسری سپر پاور تھی اور اہل روما اور ایران کے درمیان دنیا پر تسلط کے لئے اکثر لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ لیکن مسلمانوں نے دونوں سپر پاورز کو کھلی شکست دے کر تین بر اعظموں پر اپنی حکومت قائم کی۔ وہ دن اورآج کا دن یہود و نصاریٰ اور بعض دیگر اقوام اسلام و مسلمانوں کے خلاف جب بھی موقع ملتا ہے کام کر دکھانے سے گریز نہیں کرتے۔ تاریخ کے یہی واقعات گھوم گھام کر اقوام کی تاریخ و پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مصر' فلسطین اور استنبول کی فتح کا بدلہ اتارنے کے لئے اہل صلیب کو بہت طویل انتظار کرنا پڑا یہاں تک کہ بیسویں صدی کے اوائل تک خلافت عثمانیہ اتنی کمزور ہوئی کہ برطانیہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے وار کو برداشت نہ کرسکی اور یوں ترکی اور ایک آدھ دوسرے مسلمان ملک کے علاوہ پورے عالم اسلام پر یورپ کا قبضہ ہوگیا۔ اب تازہ صورتحال یہ ہے کہ دنیا میں ٹرمپ کی صورت میں مسلمانوں کے لئے ایک نئی آزمائش آئی ہے۔ انہوں نے جن سات مسلمان ملکوں کے باشندوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کی ہے اور دیگر مسلمان ممالک کو ''انڈر واچ'' پر رکھا ہے اس کے پیچھے دراصل وہی تاریخی سلسلہ ہے جس کی بناء پر دنیا کے تمام مسلمانوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ یہ صرف ٹرمپ کا قصور نہیں ہے اہل صلیب نے ہمیشہ اپنے اقتدار کے دوران اپنی مسلمان رعایا کو شک کی نگاہ سے دیکھا ہے اور انہیں سازشی سمجھا ہے۔ یہ بات ہندوستان پر برطانوی راج کے دوران بھی مسلمانوں کے خلاف انگریز بہادر کے سارے معاملات سے تاریخی طور پر ثابت اور عیاں ہے۔ آج کی دنیا میں بھی ایک دفعہ پھر دنیا کی بڑی طاقتیں اپنی مسلمان اقلیتوں کے بارے میں کچھ اس قسم کے خدشات میں مبتلا ہو چکی ہیں اور بعض تو دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف اپنے طاقتور میڈیا کے ذریعے دنیا بھر کو یہی چیز باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

اس لئے دنیا میں مسلمانوں کو سازشی اور باغی وغیرہ سمجھنے کا رجحان تیزی سے نشوو نما پا رہا ہے۔ اس رجحان سے چند عشرے قبل یہ بات کی جاتی تھی کہ سب مسلمان برے نہیں ہیں۔ لیکن اب سب کو ایک ہی نظر (سازشی) سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس ساری سوچ اور فکرکے پروان چڑھنے کے پیچھے یہ نظریہ ہے کہ مسلمان خواہ امریکہ اور یورپ میں ہزاروں برس سے مقیم ہوں ان کے عقائد اور تہذیب ان کو مغرب میں جذب اور ضم کرنے نہیں دے رہی۔ اور ان کا دین (اسلام) اور تہذیب آج کے مواصلاتی دور میں تو بہت تیزی کے ساتھ ہر جگہ پہنچ رہاہے۔مسلمانوں کے بارے میں اس سوچ میں کوئی حقیقت نہیں کیونکہ اسلام اور مسلمان ہمیشہ سے بقائے باہمی (Co-Existance) کے حامی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ اسلام غلامی کو کسی صورت قبول نہیں کرتا۔ فلسطین ہو کہ کشمیر' پاکستان ہو کہ افغانستان ' عراق ہو کہ شام' الغرض جب کبھی ایسی صورت حال ہوگی مسلمان آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ خواہ دنیا اسے جو بھی نام دے اور یہ حق ہر قوم و ملک کو حاصل ہے اور یہی شاید جنیوا کنونشن میں بھی طے پایا ہے۔ امریکہ اور مغرب میں ایک باقاعدہ طاقتور مہم شروع ہے کہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ سازشی' مشکوک اور نا قابل اعتبار بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے متعدد تھنک ٹینکس اپنی حکومتوں سے بھاری رقوم حاصل کرکے کام کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں